🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب آداب الأكل - ذكر الأمر بتحميد الله جل وعلا عند الفراغ من الطعام على ما أسبغ وأفضل وأنعم-
کھانے کے آداب کا بیان - کھانے کے بعد اللہ کی حمد کرنا اس پر جو فراخ دلی اور بہتر دیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5216
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ ، بِخَبَرٍ غَرِيبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ بِالْهَاجِرَةِ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَسَمِعَ بِذَلِكَ عُمَرُ، فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ، مَا أَخْرَجَكَ هَذِهِ السَّاعَةَ؟ قَالَ: مَا أَخْرَجَنِي إِلا مَا أَجِدُ مِنْ حَاقِّ الْجُوعِ، قَالَ: وَأَنَا وَاللَّهِ مَا أَخْرَجَنِي غَيْرُهُ، فَبَيْنَمَا هُمَا كَذَلِكَ، إِذْ خَرَجَ عَلَيْهِمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَا أَخْرَجَكُمَا هَذِهِ السَّاعَةَ؟"، قَالا: وَاللَّهِ مَا أَخْرَجَنَا إِلا مَا نَجِدُ فِي بُطُونِنَا مِنْ حَاقِّ الْجُوعِ، قَالَ:" وَأَنَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أَخْرَجَنِي غَيْرُهُ، فَقُومَا، فَانْطَلَقُوا حَتَّى أَتَوْا بَابَ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ، وَكَانَ أَبُو أَيُّوبَ يَدَّخِرُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا أَوْ لَبَنًا، فَأَبْطَأَ عَنْهُ يَوْمَئِذٍ، فَلَمْ يَأْتِ لِحِينِهِ، فَأَطْعَمَهُ لأَهْلِهِ، وَانْطَلَقَ إِلَى نَخْلِهِ يَعْمَلُ فِيهِ، فَلَمَّا انْتَهَوْا إِلَى الْبَابِ، خَرَجَتِ امْرَأَتُهُ، فَقَالَتْ: مَرْحَبًا بِنَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِمَنْ مَعَهُ، فَقَالَ لَهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَأَيْنَ أَبُو أَيُّوبَ؟ فَسَمِعَهُ وَهُوَ يَعْمَلُ فِي نَخْلٍ لَهُ، فَجَاءَ يَشْتَدُّ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِنَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِمَنْ مَعَهُ، يَا نَبِيَّ اللَّهِ، لَيْسَ بِالْحِينِ الَّذِي كُنْتَ تَجِيءُ فِيهِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَدَقْتَ، قَالَ: فَانْطَلَقَ، فَقَطَعَ عِذْقًا مِنَ النَّخْلِ فِيهِ مِنْ كُلِّ التَّمْرِ وَالرُّطَبِ وَالْبُسْرِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَرَدْتُ إِلَى هَذَا، أَلا جَنَيْتَ لَنَا مِنْ تَمْرِهِ؟ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَحْبَبْتُ أَنْ تَأْكُلَ مِنْ تَمْرِهِ وَرُطَبِهِ وَبُسْرِهِ، وَلأَذْبَحَنَّ لَكَ مَعَ هَذَا، قَالَ: إِنْ ذَبَحْتَ، فَلا تَذْبَحَنَّ ذَاتَ دَرٍّ، فَأَخَذَ عَنَاقًا أَوْ جَدْيًا فَذَبَحَهُ، وَقَالَ لامْرَأَتِهِ: اخْبِزِي وَاعْجِنِي لَنَا، وَأَنْتِ أَعْلَمُ بِالْخَبْزِ، فَأَخَذَ الْجَدْيَ، فَطَبَخَهُ وَشَوَى نِصْفَهُ، فَلَمَّا أَدْرَكَ الطَّعَامُ، وُضِعَ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ، فَأَخَذَ مِنَ الْجَدْيِ، فَجَعَلَهُ فِي رَغِيفٍ، فَقَالَ: يَا أَبَا أَيُّوبَ، أَبْلِغْ بِهَذَا فَاطِمَةَ، فَإِنَّهَا لَمْ تُصِبْ مِثْلَ هَذَا مُنْذُ أَيَّامٍ، فَذَهَبَ بِهِ أَبُو أَيُّوبَ إِلَى فَاطِمَةَ، فَلَمَّا أَكَلُوا وَشَبِعُوا، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خُبْزٌ وَلَحْمٌ وَتَمْرٌ وَبُسْرٌ وَرُطَبٌ، وَدَمِعَتْ عَيْنَاهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّ هَذَا لَهُوَ النَّعِيمُ الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ، قَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا: ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ سورة التكاثر آية 8، فَهَذَا النَّعِيمُ الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَكَبُرَ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: بَلْ إِذَا أَصَبْتُمْ مِثْلَ هَذَا، فَضَرَبْتُمْ بِأَيْدِيكُمْ، فَقُولُوا: بِسْمِ اللَّهِ، وَإِذَا شَبِعْتُمْ، فَقُولُوا: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هُوَ أَشْبَعَنَا، وَأَنْعَمَ عَلَيْنَا وَأَفْضَلَ، فَإِنَّ هَذَا كَفَافٌ بِهَا، فَلَمَّا نَهَضَ، قَالَ لأَبِي أَيُّوبَ: ائْتِنَا غَدًا، وَكَانَ لا يَأْتِي إِلَيْهِ أَحَدٌ مَعْرُوفًا إِلا أَحَبَّ أَنْ يُجَازِيَهُ، قَالَ: وَإِنَّ أَبَا أَيُّوبَ لَمْ يَسْمَعْ ذَلِكَ، فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَكَ أَنْ تَأْتِيَهَ غَدًا، فَأَتَاهُ مِنَ الْغَدِ، فَأَعْطَاهُ وَلِيدَتَهُ، فَقَالَ: يَا أَبَا أَيُّوبَ، اسْتَوْصِ بِهَا خَيْرًا، فَإِنَّا لَمْ نَرَ إِلا خَيْرًا مَا دَامَتْ عِنْدَنَا"، فَلَمَّا جَاءَ بِهَا أَبُو أَيُّوبَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لا أَجِدُ لَوَصِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرًا مِنْ أَنْ أَعْتِقَهَا، فَأَعْتَقَهَا .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ دن چڑھنے کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مسجد تشریف لائے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی آواز سنی تو بولے: اے ابوبکر! آپ اس وقت تو نہیں آتے ہیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بتایا: میں شدید بھوک کی وجہ سے اس وقت آیا ہوں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں بھی صرف اسی وجہ سے آیا ہوں، ابھی یہ دونوں حضرات اس حالت میں تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کے پاس تشریف لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: تم دونوں اس وقت کیوں آئے ہو؟ ان دونوں نے عرض کی: اللہ کی قسم! ہم شدید ترین بھوک کی وجہ سے اس وقت باہر نکلے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے! میں بھی صرف اسی وجہ سے باہر آیا ہوں، تم دونوں اٹھو۔ پھر یہ دونوں حضرات سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے گئے۔ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھانا اور دودھ وغیرہ سنبھال کر رکھتے تھے، اس دن تاخیر ہو گئی تھی وہ اس وقت نہیں آئے تھے۔ انہوں نے اپنے گھر والوں کو کھانا کھلایا اور خود کھجور کے باغ میں چلے گئے تاکہ وہاں کام کرتے رہیں۔ جب یہ حضرات سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر پہنچے تو سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی اہلیہ باہر آئیں، انہوں نے عرض کی: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کو خوش آمدید! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے دریافت کیا: ابوایوب کہاں ہے؟ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سن لی، وہ اس وقت اپنے باغ میں کام کر رہے تھے، وہ جلدی سے چلتے ہوئے آئے اور عرض کی: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کو خوش آمدید! اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ عام طور پر اس وقت تشریف نہیں لاتی ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم نے ٹھیک کہا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ گئے اور کھجور کے باغ میں سے ہر قسم کی کھجوریں؛ خشک، تازہ اور تر کھجوریں لے کر آئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں یہ نہیں چاہتا تھا، تم نے ہمارے لئے صرف خشک کھجوریں لانی تھیں۔ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! میں یہ چاہتا تھا کہ آپ خشک اور تازہ ہر طرح کی کھجوریں کھائیں، میں اس کے ہمراہ آپ کے لئے جانور بھی ذبح کرتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تم نے ذبح کرنا ہے تو دودھ دینے والا جانور ذبح نہ کرنا۔ پھر انہوں نے ایک بکری یا بھیڑ کا بچہ ذبح کیا اور اپنی بیوی سے کہا: تم روٹی پکاؤ اور ہمارے لئے آٹا گوندھ لو، تمہیں اچھی روٹی پکانی آتی ہے۔ پھر انہوں نے بھیڑ کا بچہ لے کر اس کو پکایا اور اس کا نصف حصہ بھون لیا، جب کھانا تیار ہوا تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کے سامنے رکھا گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ گوشت لے کر اس کے ساتھ روٹی رکھی اور فرمایا: اے ابوایوب! یہ فاطمہ تک پہنچا دو کیونکہ اس نے بھی کئی دن سے کھانا نہیں کھایا۔ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ وہ کھانا سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا تک پہنچانے چلے گئے، جب ان حضرات نے کھانا کھا لیا اور سیر ہو گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: روٹی اور گوشت، خشک، تازہ اور تر کھجوریں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے! یہ وہ نعمتیں ہیں جن کے بارے میں تم سے دریافت کیا جائے گا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ﴾ [سورة التکاثر: 8] پھر تم سے ضرور نعمتوں کے بارے میں دریافت کیا جائے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو یہ وہ نعمتیں ہیں جن کے بارے میں قیامت کے دن تم سے حساب لیا جائے گا۔ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کو گراں گزری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تمہیں اس طرح کی نعمتیں نصیب ہوں تو تم اپنے ہاتھ آگے بڑھاؤ اور «بِسْمِ اللّٰہِ» اللہ کے نام کے ساتھ پڑھ لو اور جب تم سیر ہو جاؤ تو یہ پڑھو: «اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ ھُوَ اَشْبَعَنَا وَاَنْعَمَ عَلَیْنَا فَاَفْضَلَ» ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے جس نے ہمیں سیر کیا اور اس نے ہم پر نعمتیں کیں اور فضل کیا، تو یہ ان کے لئے کفایت کر جائے گا۔ جب یہ حضرات اٹھنے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم کل ہمارے ہاں آنا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جب بھی کوئی اچھائی کی جاتی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پسند تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا بدلہ دیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے یہ بات نہیں سنی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو یہ ہدایت کی ہے، آپ کل ان کی خدمت میں حاضر ہوں۔ اگلے دن سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کنیز انہیں عطا کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ابوایوب! اس کے بارے میں بھلائی کی تلقین کو قبول کرو کیونکہ یہ جب تک ہمارے پاس رہی، ہم نے اس میں صرف بھلائی دیکھی ہے۔ جب سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ اس کنیز کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے لے آئے تو انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں جو بھلائی کی تلقین کی ہے، اس کے حوالے سے مجھے اس سے بہتر کوئی چیز نہیں ملتی کہ میں اسے آزاد کر دوں، تو سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے اس کنیز کو آزاد کر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5216]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5216، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7176، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 2247، والطبراني فى (الصغير) برقم: 185» «رقم طبعة با وزير 5193»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «التعليق الرغيب» (3/ 128 - 129)، «الروض» (453)، وغالب القصة صحَّت من حديث أبي هريرة مع أبي التيِّهان مكان أبي أيوب - «مختصر الشمائل» (79/ 113)، وجملة السؤال من حديث جابر، وتقدَّم (3402). تنبيه!! رقم (3402) = (3411) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عكرمة مولى ابن عباس، أبو مجالد، أبو عبد الله
Newعكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥عبد الله بن كيسان المروزي، أبو مجاهد
Newعبد الله بن كيسان المروزي ← عكرمة مولى ابن عباس
ضعيف الحديث
👤←👥الفضل بن موسى السيناني، أبو عبد الله
Newالفضل بن موسى السيناني ← عبد الله بن كيسان المروزي
ثقة ثبت ربما أغرب
👤←👥علي بن خشرم المروزي، أبو الحسن
Newعلي بن خشرم المروزي ← الفضل بن موسى السيناني
ثقة
Sahih Ibn Hibban Hadith 5216 in Urdu