الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
27. باب آداب الأكل - ذكر البيان بأن الإقلال في الأكل من علامة المؤمن والإكثار فيه من أمارة أضدادهم-
کھانے کے آداب کا بیان - یہ بیان کہ کم کھانا مؤمن کی علامت ہے اور زیادہ کھانا ان کے مخالفین کی علامت
حدیث نمبر: 5234
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ، وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ" .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔“
تشریح و مفہوم
اس حدیث کا ظاہری مطلب یہ نہیں کہ مومن کے جسم میں واقعی ایک آنت ہوتی ہے اور کافر کے جسم میں سات، کیونکہ جسمانی اعتبار سے انسانوں کی ساخت ایک جیسی ہے۔ یہاں تشبیہ اور مجاز کا اسلوب اختیار کیا گیا ہے۔
اصل مفہوم
SG قناعت اور اعتدال EG
مومن کھانے میں اعتدال اور قناعت اختیار کرتا ہے۔ وہ اتنا ہی کھاتا ہے جتنا ضرورت ہو، اور کھانے کو مقصدِ زندگی نہیں بناتا۔
SG ہوس اور لالچ EG
کافر چونکہ زیادہ تر دنیا پرست ہوتا ہے، اس لیے اس کی توجہ کھانے، پینے اور لذت اُٹھانے پر زیادہ رہتی ہے۔ وہ بے اعتدالی، اسراف اور لالچ کا شکار ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا گیا کہ وہ سات آنتوں کے برابر کھاتا ہے یعنی جسمانی خواہشات میں ڈوبا رہتا ہے۔
SG روحانی و اخلاقی زاویہ EG
مومن کی روحانی غذا اس کے دل کو مطمئن رکھتی ہے۔ وہ ہر چیز میں اللہ کی رضا دیکھتا ہے، اس لیے اس کی بھوک اور دنیاو ی خواہشات محدود رہتی ہیں۔اس کے برعکس کافر کا دل خالی ہوتا ہے، اس لیے اسے دنیا کی آسائشوں میں کبھی سیرابی محسوس نہیں ہوتی۔
قرآنی تائید
● قرآن بھی اسی تصور کی طرف اشارہ کرتا ہے:
«وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا»
کھاؤ، پیو اور فضول خرچی نہ کرو۔
(الاعراف: 31)
SG خلاصہ EG
یہ حدیث سنتِ نبوی کی عملی تعلیم دیتی ہے کہ:
● کھانا انسانی ضرورت ہے، مقصدِ زندگی نہیں
● مومن کھانے میں حدود اور اعتدال قائم رکھتا ہے
● کافر دنیا کی لذتوں کا اسیر ہو کر ضرورت سے زیادہ کھاتا اور اسراف کرتا ہے
◄ لہٰذا اس حدیث کا پیغام یہ ہے کہ کھانا کم کرو، اعمال زیادہ کرو ؛ نفس کا نہیں روح کا خیال رکھو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5234]
تشریح و مفہوم
اس حدیث کا ظاہری مطلب یہ نہیں کہ مومن کے جسم میں واقعی ایک آنت ہوتی ہے اور کافر کے جسم میں سات، کیونکہ جسمانی اعتبار سے انسانوں کی ساخت ایک جیسی ہے۔ یہاں تشبیہ اور مجاز کا اسلوب اختیار کیا گیا ہے۔
اصل مفہوم
SG قناعت اور اعتدال EG
مومن کھانے میں اعتدال اور قناعت اختیار کرتا ہے۔ وہ اتنا ہی کھاتا ہے جتنا ضرورت ہو، اور کھانے کو مقصدِ زندگی نہیں بناتا۔
SG ہوس اور لالچ EG
کافر چونکہ زیادہ تر دنیا پرست ہوتا ہے، اس لیے اس کی توجہ کھانے، پینے اور لذت اُٹھانے پر زیادہ رہتی ہے۔ وہ بے اعتدالی، اسراف اور لالچ کا شکار ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا گیا کہ وہ سات آنتوں کے برابر کھاتا ہے یعنی جسمانی خواہشات میں ڈوبا رہتا ہے۔
SG روحانی و اخلاقی زاویہ EG
مومن کی روحانی غذا اس کے دل کو مطمئن رکھتی ہے۔ وہ ہر چیز میں اللہ کی رضا دیکھتا ہے، اس لیے اس کی بھوک اور دنیاو ی خواہشات محدود رہتی ہیں۔اس کے برعکس کافر کا دل خالی ہوتا ہے، اس لیے اسے دنیا کی آسائشوں میں کبھی سیرابی محسوس نہیں ہوتی۔
قرآنی تائید
● قرآن بھی اسی تصور کی طرف اشارہ کرتا ہے:
«وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا»
کھاؤ، پیو اور فضول خرچی نہ کرو۔
(الاعراف: 31)
SG خلاصہ EG
یہ حدیث سنتِ نبوی کی عملی تعلیم دیتی ہے کہ:
● کھانا انسانی ضرورت ہے، مقصدِ زندگی نہیں
● مومن کھانے میں حدود اور اعتدال قائم رکھتا ہے
● کافر دنیا کی لذتوں کا اسیر ہو کر ضرورت سے زیادہ کھاتا اور اسراف کرتا ہے
◄ لہٰذا اس حدیث کا پیغام یہ ہے کہ کھانا کم کرو، اعمال زیادہ کرو ؛ نفس کا نہیں روح کا خیال رکھو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5234]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5211»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق الرغيب» (3/ 149): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
أبو بردة بن أبي موسى الأشعري ← عبد الله بن قيس الأشعري