صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
73. باب الضيافة - ذكر الاستحباب للمرء تقديم ما حضر للأضياف وإن لم يشبعهم في الظاهر-
مہمان نوازی کا بیان - یہ مستحب کہ حاضر چیز مہمانوں کو پیش کرے چاہے وہ ظاہری طور پر انہیں نہ سیر کرے
حدیث نمبر: 5285
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ، وَثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ،" أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ، رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَاوِيًا، فَأَتَى أُمَّ سُلَيْمٍ، فَقَالَ: هَلْ عِنْدَكِ شَيْءٌ؟ فَقَالَتْ: مَا عِنْدَنَا إِلا نَحْوُ مُدٍّ مِنْ دَقِيقِ شَعِيرٍ، قَالَ: فَاعْجِنِيهِ، وَأَصْلِحِيهِ، عَسَى أَنْ نَدْعُوَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَأْكُلَ عِنْدَنَا، قَالَ: فَعَجَنَتْهُ وَخَبَزَتْهُ، فَجَاءَ قُرْصًا، فَقَالَ: ادْعُ لِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ نَاسٌ، قَالَ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ: أَحْسِبُهُ بَضْعَةً وَثَمَانِينَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: أَبُو طَلْحَةَ يَدْعُوكَ، فَقَالَ لأَصْحَابِهِ: أَجِيبُوا أَبَا طَلْحَةَ، فَجِئْتُ مُسْرِعًا حَتَّى أَخْبَرْتُهُ أَنَّهُ قَدْ جَاءَ وَأَصْحَابُهُ، قَالَ بَكْرٌ: فَقَفَدَنِي قَفْدًا، وَقَالَ ثَابِتٌ: قَالَ أَبُو طَلْحَةَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَمُ بِمَا فِي بَيْتِي مِنِّي، وَقَالا جَمِيعًا عَنْ أَنَسٍ: فَاسْتَقْبَلَهُ أَبُو طَلْحَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا عِنْدَنَا شَيْءٌ إِلا قُرْصٌ، رَأَيْتُكَ طَاوِيًا، فَأَمَرْتُ أُمَّ سُلَيْمٍ، فَجَعَلَتْ ذَلِكَ قُرْصًا، قَالَ: فَدَعَا بِالْقُرْصِ، وَدَعَا بِجَفْنَةٍ فَوَضَعَهُ فِيهَا، وَقَالَ: هَلْ مِنْ سَمْنٍ؟ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ: وَكَانَ فِي الْعُكَّةِ شَيْءٌ، فَجَاءَ بِهَا، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو طَلْحَةَ يَعْصِرَانِهَا، حَتَّى خَرَجَ شَيْءٌ، فَمَسَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِ سَبَّابَتَهُ، ثُمَّ مَسَحَ الْقُرْصَ فَانْتَفَخَ، وَقَالَ: بِسْمِ اللَّهِ، فَانْتَفَخَ الْقُرْصُ، فَلَمْ يَزَلْ يَصْنَعُ ذَلِكَ وَالْقُرْصُ يَنْتَفِخُ، حَتَّى رَأَيْتُ الْقُرْصَ فِي الْجَفْنَةِ يَتَمَيَّعُ، فَقَالَ: ادْعُ عَشْرَةً مِنْ أَصْحَابِي، فَدَعَوْتُ لَهُ عَشْرَةً، قَالَ: فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فِي وَسَطِ الْقُرْصِ، وَقَالَ: كُلُوا بِسْمِ اللَّهِ، فَأَكَلُوا حَوَالَيِ الْقُرْصِ، حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ قَالَ: ادْعُ لِي عَشْرَةً، فَلَمْ يَزَلْ يَدْعُو عَشْرَةً عَشْرَةً، يَأْكُلُونَ مِنْ ذَلِكَ الْقُرْصِ، حَتَّى أَكَلَ مِنْهُ بَضْعَةٌ وَثَمَانُونَ مِنْ حَوَالَيِ الْقُرْصِ، حَتَّى شَبِعُوا، وَإِنَّ وَسَطَ الْقُرْصِ حَيْثُ وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ كَمَا هُوَ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھوک کے عالم میں دیکھا تو وہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور بولے: تمہارے پاس کچھ کھانے کے لئے ہے۔ انہوں نے عرض کی: میرے پاس تو صرف جو کے آٹے کا ایک مد ہے سیدنا ابوطلحہ نے کہا: تم اسے گوندھ لو اور اسے تیار کر لو ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کرتے ہیں تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس کھانا کھائیں سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اس خاتون نے آٹا گوندھ لیا اور روٹی پکا لی پھر سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ روٹیوں کے پاس آئے اور بولے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے ہاں بلا لاؤ۔
راوی بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ کے ہمراہ کچھ لوگ بھی تھے۔ یہاں مبارک بن فضالہ نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کرتے ہیں: میرا خیال ہے وہ 80 سے زیادہ لوگ تھے میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے آپ کو بلایا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے کہا: ابوطلحہ کی دعوت کو قبول کرو (سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں تیزی سے چلتا ہوا آیا اور سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب تشریف لا رہے ہیں۔ یہاں بکر نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں: میں تیزی سے چلتا ہوا آیا اور ثابت نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں: سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس بارے میں مجھ سے زیادہ بہتر جانتے ہیں جو کچھ میرے گھر میں ہے پھر اس کے بعد دونوں راویوں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا۔ انہوں نے عرض کی: ہمارے پاس تو صرف ایک تھال (جتنا) کھانا ہے میں نے آپ کو بھوکا دیکھا تھا تو میں نے ام سلیم سے کہا: اس نے یہ کھانا تیار کر دیا۔
راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تھال منگوایا اور آپ نے ایک پیالہ منگوا کر وہ روٹی اس میں رکھی۔ آپ نے دریافت کیا: کیا تمہارے پاس گھی ہے سیدنا ابوطلحہ نے عرض کی: ایک کپی میں تھوڑا سا ہے وہ اسے لے کر آ گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اسے نچوڑنے لگے یہاں تک کہ تھوڑا سا گھی نکل آیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی شہادت کی انگلی کے ذریعے لگایا اور اسے روٹی پر لگا دیا تو وہ پھول گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بسم اللہ پڑھا تو روٹی اور پھول گئی۔ اس کے بعد مسلسل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے رہے یہاں تک کہ وہ روٹی پھولتی ہوئی اس پوری پرات کے اوپر غالب آ گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے اصحاب میں سے دس آدمیوں کو بلاؤ میں نے دس آدمیوں کو بلوایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک روٹی کے درمیان میں رکھا۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے کھانا شروع کرو۔ انہوں نے اطراف سے روٹی کھانا شروع کی یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس دس آدمیوں کو بلا کر لاؤ اس کے بعد سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ دس کر کے آدمیوں کو بلاتے رہے یہاں تک کہ ان سب لوگوں نے وہ روٹی 80 سے زیادہ افراد نے روٹی کے اطراف میں سے کھا لیا یہاں تک کہ وہ سب سیر ہو گئے اور روٹی کا درمیان کا وہ حصہ جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک رکھا ہوا تھا۔ وہ اسی طرح تھا جیسے پہلے تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5285]
راوی بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ کے ہمراہ کچھ لوگ بھی تھے۔ یہاں مبارک بن فضالہ نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کرتے ہیں: میرا خیال ہے وہ 80 سے زیادہ لوگ تھے میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے آپ کو بلایا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے کہا: ابوطلحہ کی دعوت کو قبول کرو (سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں تیزی سے چلتا ہوا آیا اور سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب تشریف لا رہے ہیں۔ یہاں بکر نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں: میں تیزی سے چلتا ہوا آیا اور ثابت نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں: سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس بارے میں مجھ سے زیادہ بہتر جانتے ہیں جو کچھ میرے گھر میں ہے پھر اس کے بعد دونوں راویوں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا۔ انہوں نے عرض کی: ہمارے پاس تو صرف ایک تھال (جتنا) کھانا ہے میں نے آپ کو بھوکا دیکھا تھا تو میں نے ام سلیم سے کہا: اس نے یہ کھانا تیار کر دیا۔
راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تھال منگوایا اور آپ نے ایک پیالہ منگوا کر وہ روٹی اس میں رکھی۔ آپ نے دریافت کیا: کیا تمہارے پاس گھی ہے سیدنا ابوطلحہ نے عرض کی: ایک کپی میں تھوڑا سا ہے وہ اسے لے کر آ گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اسے نچوڑنے لگے یہاں تک کہ تھوڑا سا گھی نکل آیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی شہادت کی انگلی کے ذریعے لگایا اور اسے روٹی پر لگا دیا تو وہ پھول گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بسم اللہ پڑھا تو روٹی اور پھول گئی۔ اس کے بعد مسلسل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے رہے یہاں تک کہ وہ روٹی پھولتی ہوئی اس پوری پرات کے اوپر غالب آ گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے اصحاب میں سے دس آدمیوں کو بلاؤ میں نے دس آدمیوں کو بلوایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک روٹی کے درمیان میں رکھا۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے کھانا شروع کرو۔ انہوں نے اطراف سے روٹی کھانا شروع کی یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس دس آدمیوں کو بلا کر لاؤ اس کے بعد سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ دس کر کے آدمیوں کو بلاتے رہے یہاں تک کہ ان سب لوگوں نے وہ روٹی 80 سے زیادہ افراد نے روٹی کے اطراف میں سے کھا لیا یہاں تک کہ وہ سب سیر ہو گئے اور روٹی کا درمیان کا وہ حصہ جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک رکھا ہوا تھا۔ وہ اسی طرح تھا جیسے پہلے تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5285]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5261»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر (6500). تنبيه!! رقم (6500) = (6534) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
الرواة الحديث:
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري