یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1. باب آداب الشرب - ذكر إباحة الشرب في الأقداح ضد قول من كرهه من المتصوفة-
پینے کے آداب کا بیان - یہ اجازت کہ پیالوں سے پیا جائے، مخالف قول متصوفہ کے جو اسے ناپسند کرتے ہیں
حدیث نمبر: 5314
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ، وَمَعَهُ صَاحِبٌ، فَسَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَاحِبُهُ، فَرَدَّ الرَّجُلُ، وَقَالَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي فِي سَاعَةٍ حَارَّةٍ، فَقَالَ لَهُ: " إِنْ كَانَ عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ هَذِهِ اللَّيْلَةَ فِي شَنَّةٍ، فَاسْقِنَاهُ، وَإِلا كَرَعْنَا"، وَالرَّجُلُ يُحَوِّلُ الْمَاءَ فِي حَائِطِهِ، فَقَالَ: عِنْدِي يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاءٌ بَائِتٌ، فَانْطَلِقْ إِلَى الْعَرِيشِ، وَانْطَلَقَ بِهِمَا إِلَى عَرِيشَةٍ، فَسَكَبَ فِي قَدَحٍ مَاءً، ثُمَّ حَلَبَ عَلَيْهِ مِنْ دَاجِنٍ لَهُ، فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ عَادَ فَشَرِبَ الرَّجُلُ الَّذِي جَاءَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری کے ہاں تشریف لے گئے۔ آپ کے ہمراہ ایک صاحب بھی تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے ساتھی نے سلام کیا۔ اس شخص نے جواب دیا: اس شخص نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں گرمی شدید ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اگر تمہارے پاس ایسا پانی ہو جو گزشتہ رات سے مشکیزے میں پڑا ہوا ہو تو وہ ہمیں پلاؤ ورنہ ہم (کھیت کو پانی دینے والا) پانی پی لیتے ہیں۔ وہ شخص اس وقت اپنے باغ کو سیراب کر رہا تھا۔ اس شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میرے پاس ایسا پانی ہے جو رات سے پڑا ہوا ہے، پھر وہ چھپر کے پاس گیا وہ ان دونوں کو لے کر اس کے نیچے آ گیا۔ اس نے ایک مشکیزے میں پانی انڈیلا پھر اپنی بکری کا دودھ دوہ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پی لیا پھر اس نے دوبارہ دوہ لیا تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تشریف لانے والے صاحب نے بھی اسے پی لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5314]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5613، 5621، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5314، 5389، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3724، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2169، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3432، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14776، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14743» «رقم طبعة با وزير 5290»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «الضعيفة» (6949).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده على شرط الصحيح
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 5314 in Urdu
سعيد بن الحارث الأنصاري ← جابر بن عبد الله الأنصاري