صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
21. باب آداب الشرب - ذكر وصف ما يعمل المرء إذا أتي بشراب وعنده جماعة أراد شربه وسقيهم منه-
پینے کے آداب کا بیان - یہ وصف کہ اگر پانی یا مشروب لایا جائے اور گروہ موجود ہو، تو انسان کیا کرے جب وہ پینا چاہے اور دوسروں کو پلائے
حدیث نمبر: 5335
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِشَرَابٍ، وَعَنْ يَمِينِهِ غُلامٌ، وَعَنْ يَسَارِهِ الأَشْيَاخُ، فَقَالَ لِلْغُلامِ: " أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أُعْطِيَ هَؤُلاءِ؟ فَقَالَ: لا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لا أُوثِرُ بِنَصِيبِي مِنْكَ أَحَدًا، قَالَ: فَتَلَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِهِ" .
سیدنا سہل بن ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مشروب پیش کیا گیا، آپ کے دائیں طرف ایک لڑکا بیٹھا ہوا تھا اور بائیں طرف بڑی عمر کے افراد تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکے سے کہا: ”کیا تم مجھے اس بات کی اجازت دو گے کہ یہ میں پہلے ان لوگوں کو دے دوں؟“ اس نے عرض کی: جی نہیں! اللہ کی قسم یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کی طرف سے آنے والے اپنے حصے میں میں کسی کے لیے ایثار نہیں کروں گا۔ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ برتن اس کے ہاتھ میں تھما دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5335]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2351، 2366، 2451، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2030، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5335، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 6839، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14784، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23288» «رقم طبعة با وزير 5311»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (1771): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 5335 in Urdu
سلمة بن دينار الأعرج ← سهل بن سعد الساعدي