الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
73. فصل في الأشربة - ذكر البيان بأن إباحة المصطفى صلى الله عليه وسلم الشرب في الظروف إنما كان ذلك خلا الشيء الذي يسكر كثيره-
پانیوں (مشروبات) کے بیان میں ایک فصل - یہ بیان کہ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا شرب جائز تھا صرف اس چیز سے جس سے زیادہ پینے پر نشہ نہ آتا ہو
حدیث نمبر: 5390
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ زُبَيْدٍ الإِيَامِيِّ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَنَزَلَ بِنَا وَنَحْنُ قَرِيبٌ مِنْ أَلْفِ رَاكِبٍ، فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ، فَقَامَ إِلَيْهِ عُمَرُ، فَفَدَّاهُ بِالأَبِ وَالأُمِّ، وَقَالَ: مَا لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي اسْتَأْذَنْتُ فِي الاسْتِغْفَارِ لأُمِّي، فَلَمْ يَأْذَنْ لِي، فَدَمَعَتْ عَيْنِي رَحْمَةً لَهَا مِنَ النَّارِ، وَإِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلاثٍ: عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، فَزُورُوهَا، وَلْتَزِدْكُمْ زِيَارَتُهَا خَيْرًا، وَإِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الأَضَاحِي بَعْدَ ثَلاثٍ، فَكُلُوا وَأَمْسِكُوا مَا شِئْتُمْ، وَإِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنِ الأَشْرِبَةِ فِي الأَوْعِيَةِ، فَاشْرَبُوا فِي أَيِّ وِعَاءٍ شِئْتُمْ، وَلا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا" .
ابن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ آپ نے ہمارے ساتھ ایک جگہ پڑاؤ کیا، ہم ایک ہزار کے قریب سوار تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعات پڑھائیں پھر آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آپ کے سامنے کھڑے ہوئے انہوں نے اپنے ماں باپ کو آپ پر قربان کیا۔ عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! آپ کو کیا ہوا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنی والدہ کے لئے دعائے مغفرت کی اجازت مانگی۔ مجھے اجازت نہیں ملی تو ان کے ساتھ رحمت کی وجہ سے میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ ان کے جہنم میں ہونے کی وجہ سے میں نے تمہیں تین چیزوں سے منع کیا تھا۔ قبروں کی زیارت کرنے سے اب تم ان کی زیارت کیا کرو کیونکہ قبروں کی زیارت بھلائی میں اضافہ کرے گی۔ میں نے تمہیں قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ رکھنے سے منع کیا تھا۔ اب تم جب تک چاہو اسے روک کے رکھو میں نے تمہیں مخصوص قسم کے برتنوں میں مشروب پینے سے منع کیا تھا اب تم جس طرح کے برتن میں چاہو مشروب پیو۔ البتہ کوئی نشہ آور چیز نہ پینا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5390]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5366»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «أحكام الجنائز» (228): م دون قضيَّة البكاء، وهي عنده عن أبي هُريرةَ، وتقدَّمت مِنْ رِوَايَة المُؤلِّف (3159). * [عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ] قال الشيخ: ذكرة المؤلف في «ثقاته». وقال أبو زرعة: «شيخ». وتابعه محمد بم فضيل، عن ضرار بن مرة، عن محارب بن دثار ... من دون قصة البكاء: رواه مسلم (3/ 65). وهي عنده من حديث أبي هريرة. تنبيه!! رقم (3159) = (3169) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
الرواة الحديث:
عبد الله بن بريدة الأسلمي ← بريدة بن الحصيب الأسلمي