صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1. ذكر الأمر للمرء إذا أنعم الله عليه أن يرى أثر نعمته عليه-
- اس باب میں بیان ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی پر نعمت فرمائے تو اسے اپنی حالت پر اس نعمت کا اثر ظاہر کرنا چاہیے۔
حدیث نمبر: 5416
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ عَوْفِ بْنِ مَالِكِ بْنِ نَضْلَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا قَشِفُ الْهَيْئَةِ، فَقَالُ:" هَلْ لَكَ مِنْ مَالٍ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: مِنْ أَيِّ مَالٍ؟ قُلْتُ: مِنْ كُلٍّ قَدْ آتَانِيَ اللَّهُ مِنَ الإِبِلِ وَالرَّقِيقِ وَالْغَنَمِ، قَالَ: إِذَا آتَاكَ اللَّهُ مَالاً، فَلْيُرَ عَلَيْكَ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلاً نَزَلْتُ بِهِ فَلَمْ يُكْرِمْنِي، وَلَمْ يَقْرِنِي، فَنَزَلَ بِي، أَجْزِيهِ بِمَا صَنَعَ؟ قَالَ:" لا، بَلْ أَقْرِهِ" ، أَبُو الأَحْوَصِ: عَوْفُ بْنُ مَالِكِ بْنِ نَضْلَةَ، أَبُوهُ مِنَ الصَّحَابَةِ.
ابواحوص عوف بن مالک اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میری حالت بکھری ہوئی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تمہارے پاس مال ہے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کس قسم کا مال ہے؟ میں نے عرض کی: اللہ تعالیٰ نے مجھے ہر طرح کا مال عطا کیا ہے۔ اونٹ بھی غلام بھی اور بکریاں بھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں مال عطا کیا ہو تو اس کا نشان تم پر نظر آنا چاہئے۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جس کے ہاں میں مہمان بنتا ہوں۔ وہ میری عزت افزائی نہیں کرتا۔ میری مہمان نوازی نہیں کرتا، پھر ایک مرتبہ وہ میرے ہاں مہمان کے طور پر ٹھہرتا ہے تو کیا میں اس کے طرز عمل کا بدلہ دوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں بلکہ تم اس کی مہمان نوازی کرو۔ ابواحوص عوف بن مالک بن نضلہ کے والد صحابی تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5416]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5392»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «غاية المرام» (75).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
عوف بن مالك الجشمي ← مالك بن نضلة الجشمي