🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. ذكر البيان بأن لبس ما وصفنا إنما هو لبس من لا خلاق له في الآخرة-
- اس باب میں ذکر ہے کہ بعض اوقات میں مردوں کو ریشم پہننے کی اجازت دی گئی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5439
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى حُلَّةَ سِيَرَاءٍ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوِ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ، فَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَلِلْوَفْدِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لا خَلاقَ لَهُ فِي الآخِرَةِ"، ثُمَّ جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا حُلَلٌ، وَأَعْطَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ مِنْهَا حُلَّةٌ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَسَوْتَنِيهَا، وَقَدْ قُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا"، فَكَسَاهَا عُمَرُ أَخًا لَهُ مُشْرِكًا بِمَكَّةَ .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مسجد کے دروازے کے پاس ایک سیرانی حلہ فروخت ہوتے ہوئے دیکھا تو عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! آپ اسے خرید لیں اور جمعہ کے دن اور وفود سے ملاقات کے دن اسے پہن لیا کریں (تو یہ مناسب ہو گا) جب وہ وفود آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسے وہ شخص پہنے گا، جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس قسم کے حلے آئے تو آپ نے ان میں سے ایک حلہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو بھی عطا کیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! آپ نے مجھے پہننے کے لئے یہ دے دیا ہے حالانکہ آپ نے عطارد (نامی شخص) کے حلہ کے بارے میں فلاں بات ارشاد فرمائی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے یہ تمہیں اس لئے نہیں دیا تاکہ تم اسے پہن لو تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہ حلہ مکہ میں موجود اپنے مشرک بھائی کو پہننے کے لئے دے دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب اللباس وآدابه/حدیث: 5439]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5415»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «ابن ماجه» (3591): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفصصحابي
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن عمر العدوي ← عمر بن الخطاب العدوي
صحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← نافع مولى ابن عمر
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥أحمد بن أبي بكر القرشي، أبو مصعب
Newأحمد بن أبي بكر القرشي ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة
👤←👥عمر بن سنان المنبجي، أبو بكر
Newعمر بن سنان المنبجي ← أحمد بن أبي بكر القرشي
ثقة
Sahih Ibn Hibban Hadith 5439 in Urdu