صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
10. ذكر الزجر عن اختضاب المرء السواد-
- اس باب میں ذکر ہے کہ کالے رنگ سے بال رنگنے سے منع کیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 5472
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي شُعَيْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: جَاءَ أَبُو بَكْرٍ بِأَبِي قُحَافَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمِ فَتْحِ مَكَّةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَبِي بَكْرٍ: " لَوْ أَقْرَرْتَ الشَّيْخَ فِي بَيْتِهِ، لأَتَيْنَاهُ تَكْرِمَةً لأَبِي بَكْرٍ، قَالَ: فَأَسْلَمَ وَرَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ كَالثَّغَامَةِ بَيْضَاءَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: غَيِّرُوهُمَا وَجَنِّبُوهُ السَّوَادَ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" غَيِّرُوهُمَا"، لَفْظَةُ أَمْرٍ بِشَيْءٍ، وَالْمَأْمُورُ فِي وَصْفِهِ مُخَيَّرٌ أَنْ يُغَيِّرَهُمَا بِمَا شَاءَ مِنَ الأَشْيَاءِ، ثُمَّ اسْتَثْنَى السَّوَادَ مِنْ بَيْنِهَا، فَنَهَى عَنْهُ، وَبَقِيَ سَائِرُ الأَشْيَاءِ عَلَى حَالَتِهَا.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: فتح مکہ کے دن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر سے فرمایا: اگر تم ان بزرگ کو گھر میں رہنے دیتے اور میں خود ان کے پاس چلا جاتا (تو یہ ٹھیک تھا) (راوی کہتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی عزت افزائی کے لئے یہ بات ارشاد فرمائی۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوقحافہ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا ان کے سر اور داڑھی کے بال ثغامہ پھول کی طرح سفید تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ان کی رنگت تبدیل کر دو البتہ سیاہ رنگ استعمال کرنے سے بچنا۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”ان کی رنگت تبدیل کر دو۔“ یہ لفظی طور پر امر کا صیغہ ہے لیکن اس کی صفت کے بارے میں جو حکم ہے اس میں اختیار دیا گیا ہے۔ آدمی جس چیز کے ذریعے چاہے تبدیل کر دے پھر اس میں سے سیاہ رنگ کا استثناء کر لیا گیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کر دیا تو باقی تمام چیزیں اپنی اصل حالت پر برقرار رہیں گی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5472]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”ان کی رنگت تبدیل کر دو۔“ یہ لفظی طور پر امر کا صیغہ ہے لیکن اس کی صفت کے بارے میں جو حکم ہے اس میں اختیار دیا گیا ہے۔ آدمی جس چیز کے ذریعے چاہے تبدیل کر دے پھر اس میں سے سیاہ رنگ کا استثناء کر لیا گیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کر دیا تو باقی تمام چیزیں اپنی اصل حالت پر برقرار رہیں گی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5472]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5448»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (496).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
محمد بن سيرين الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري