صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
40. ذكر لعن المصطفى صلى الله عليه وسلم المغيرات خلق الله المتفلجات للحسن-
- باب اس لعنت کا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان عورتوں پر لعنت فرمائی جو خوبصورتی کے لیے اللہ کی بنائی ہوئی شکل کو بدلتی ہیں اور دانتوں کے درمیان فاصلہ کرواتی ہیں۔
حدیث نمبر: 5505
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ :" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاشِمَاتِ، وَالْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ" ، قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ، يُقَالُ لَهَا: أُمُّ يَعْقُوبَ، كَانَتْ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ، فَأَتَتْهُ، فَقَالَتْ: مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ لَعَنْتَ الْوَاشِمَاتِ، وَالْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَمَا لِي لا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ فِي كِتَابِ اللَّهِ، قَالَتِ الْمَرْأَةُ: لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ لَوْحَيِ الْمُصْحَفِ، فَمَا وَجَدْتُهُ، قَالَ: وَاللَّهِ إِنْ كُنْتِ قَرَأْتِيهِ، لَقَدْ وَجَدْتِيهِ، ثُمَّ قَالَ: وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا سورة الحشر آية 7، قَالَ: قَالَتِ الْمَرْأَةُ: فَإِنِّي أَرَى شَيْئًا مِنْ هَذَا الآنَ عَلَى امْرَأَتِكَ، قَالَ: فَاذْهَبِي، فَانْظُرِي، قَالَ: فَدَخَلَتْ عَلَى امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ، فَلَمْ تَرَ شَيْئًا، فَجَاءَتْ إِلَيْهِ، فَقَالَتْ: مَا رَأَيْتُ شَيْئًا، قَالَ: أَمَا لَوْ كَانَ ذَلِكَ لَمْ نُجَامِعْهَا.
علقمہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جسم گودنے والی اور گدوانے والی عورت اور بال باریک کرنے والی عورت اور خوبصورتی کے لئے دانتوں میں خلا پیدا کرنے والی عورتوں، جو اللہ کی تخلیق کو تبدیل کر دیتی ہیں ان پر لعنت کی ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس بات کی اطلاع بنو اسد سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون ام یعقوب کو ملی وہ قرآن کی عالمہ تھیں وہ سیدنا عبداللہ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ اس نے کہا: مجھے یہ پتہ چلا ہے آپ جسم گودنے والی اور گدوانے والی عورتوں اور بال اکھیڑنے والی عورتوں اور خوبصورتی کے لئے دانتوں میں خلا پیدا کرنے والی عورتوں پر لعنت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں تغیر پیدا کر دیتی ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں اس پر کیوں لعنت نہ کروں جس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے اور یہ حکم اللہ کی کتاب میں بھی ہے۔ وہ عورت بولی: میں نے پورا قرآن پڑھ لیا ہے۔ مجھے اس میں یہ حکم نہیں ملا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کی قسم اگر تم نے واقعی اسے پڑھا ہوتا تو تمہیں اس میں مل جاتا پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی۔ ”رسول تمہیں (جو حکم) دیں اسے حاصل کر لو اور جس چیز سے تمہیں منع کریں اس سے باز آ جاؤ۔“ وہ عورت بولی: میں نے آپ کی ایک اہلیہ میں ان میں سے کچھ چیزیں دیکھی ہیں، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم جاؤ اور جا کر جائزہ لے لو وہ عورت سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے گھر چلی گئی اسے ایسی کوئی چیز نظر نہیں آئی، پھر وہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئی۔ اس نے بتایا میں نے ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی تو سیدنا عبداللہ نے فرمایا اگر ایسا ہوتا (یعنی میری بیوی نے اس طرح کا کام کیا ہوتا) تو میں اس کے ساتھ نہ رہتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5505]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5481»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
علقمة بن قيس النخعي ← عبد الله بن مسعود