صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
75. باب آداب النوم - ذكر ما يستحب للمرء أن يسأل الله جل وعلا المغفرة عند إرادته النوم-
سونے کے آداب کا بیان - بیان کیا گیا کہ انسان سونے سے پہلے اللہ سے مغفرت طلب کرے
حدیث نمبر: 5541
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ، قَالَ:" اللَّهُمَّ أَنْتَ خَلَقْتَ نَفْسِي وَأَنْتَ تَتَوَفَّاهَا، لَكَ مَمَاتُهَا وَمَحْيَاهَا، اللَّهُمَّ إِنْ تَوَفَّيْتَهَا، فَاغْفِرْ لَهَا، وَإِنْ أَحْيَيْتَهَا، فَاحْفَظْهَا، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ" ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ وَلَدِهِ: أَكَانَ عُمَرُ يَقُولُ هَذَا؟ قَالَ: بَلْ خَيْرٌ مِنْ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ، فَظَنَنَّا أَنَّهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے: جب وہ بستر پر لیٹتے تھے تو یہ پڑھتے تھے: ”اے اللہ! تو نے میری جان کو پیدا کیا ہے تو ہی اسے موت دے گا اس کی موت اور زندگی تیرے ہاتھ میں ہے اے اللہ! اگر تو نے اسے موت دے دی تو اس کی مغفرت کرنا اور اگر اسے زندہ رکھا تو اس کی حفاظت کرنا اے اللہ! میں تجھ سے عافیت کا سوال کرتا ہوں۔“ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی اولاد میں سے ایک صاحب نے دریافت کیا: کیا سیدنا عمران رضی اللہ عنہ کلمات کو پڑھتے تھے انہوں نے فرمایا: جی نہیں بلکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے زیادہ بہتر شخصیت ان کلمات کو پڑھتی تھیں: راوی بیان کرتے ہیں: ہمارا یہ خیال ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5541]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5516»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م (8/ 78).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
عبد الله بن الحارث الأنصاري ← عبد الله بن عمر العدوي