صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
76. باب آداب النوم - ذكر ما يستحب للمرء تفويض النفس إلى الباري جل وعلا عند إرادته النوم-
سونے کے آداب کا بیان - بیان کیا گیا کہ انسان سونے سے پہلے اپنی جان اللہ کے سپرد کرے
حدیث نمبر: 5542
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْحَسَنِ عُبَيْدُ بْنُ الْحَسَنِ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ، قَالَ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ، وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لا مَلْجَأَ وَلا مَنْجَا مِنْكَ إِلا إِلَيْكَ" .
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نقل کرتے ہیں جب آپ بستر پر لیٹتے تھے تو یہ پڑھتے تھے۔ ”اے اللہ! میں نے اپنے آپ کو تیرے سپرد کر دیا۔ میں نے اپنا رخ تیری طرف کر لیا۔ میں نے اپنا معاملہ تیرے سپرد کر دیا۔ رغبت رکھتے ہوئے بھی اور ڈرتے ہوئے بھی تیرے مقابلے میں تیری ذات کے علاوہ اور کوئی جائے پناہ اور کوئی جائے نجات نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5542]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5517»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (2889)، «الروض» (154): خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
عبيد بن الحسن المزني ← البراء بن عازب الأنصاري