صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
21. ذكر السبب الذي من أجله أنزل الله آية الحجاب-
- باب اس سبب کا بیان کہ جس کی بنا پر آیتِ حجاب نازل ہوئی۔
حدیث نمبر: 5578
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَعَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا أَبُو مِجْلَزٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" لَمَّا تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ، دَعَا الْقَوْمَ فَطَعِمُوا، ثُمَّ جَلَسُوا يَتَحَدَّثُونَ، قَالَ: فَأَخَذَ كَأَنَّهُ يَتَهَيَّأُ لِلْقِيَامِ، قَالَ: فَلَمْ يَقُومُوا، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَامَ، فَلَمَّا قَامَ مَنْ قَامَ مِنَ الْقَوْمِ، وَقَعَدَ ثَلاثَةٌ، وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ، فَإِذَا الْقَوْمُ جُلُوسٌ، فَرَجَعَ، ثُمَّ إِنَّهُمْ قَامُوا، فَانْطَلَقُوا، فَجِئْتُ، فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ قَدِ انْطَلِقُوا، فَجَاءَ حَتَّى دَخَلَ، فَذَهَبْتُ أَدْخُلُ، فَأَلْقَى الْحِجَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ سورة الأحزاب آية 53 إِلَى قَوْلِهِ: إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمًا سورة الأحزاب آية 53" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی تو آپ نے لوگوں کی دعوت کی لوگوں نے کھانا کھا لیا تو بیٹھ کر بات چیت کرنے لگے۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں ظاہر کیا جیسے آپ اٹھنے لگے ہیں، لیکن لوگ اس کے باوجود نہیں اٹھے جب آپ نے یہ صورت حال دیکھی تو آپ کھڑے ہو گئے۔ حاضرین میں سے بھی کچھ لوگ کھڑے ہو گئے، لیکن تین آدمی پھر بھی بیٹھے رہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (باہر سے ہو کر) واپس تشریف لائے تو وہ لوگ پھر بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ پھر واپس تشریف لے گئے تو وہ لوگ اٹھے اور چلے گئے۔ میں آیا اور میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا: وہ لوگ چلے گئے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے یہاں تک کہ آپ گھر کے اندر داخل ہو گئے۔ میں اندر داخل ہونے لگا تو آپ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے (اس موقع پر) یہ آیت نازل کی تھی۔ ”اے ایمان والو! تم نبی کے گھروں میں اس وقت تک داخل نہ ہو، جب تک تمہیں اجازت نہ دی جائے۔“ یہ آیت یہاں تک ہے ”بے شک یہ چیز اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5578]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5551»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (3148).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
لاحق بن حميد السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري