الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
35. ذكر إباحة تقبيل المرء ولده وولد ولده على سرته-
- باب اس اجازت کا کہ انسان اپنے بیٹے یا پوتے کو ناف پر بوسہ دے سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 5593
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ: أَرِنِي الْمَكَانَ الَّذِي رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُهُ مِنْكَ، قَالَ: فَكَشَفَ عَنْ سُرَّتِهِ، فَقَبَّلَهَا" ، فَقَالَ: شَرِيكٌ: لَوْ كَانَتِ السُّرَّةُ مِنَ الْعَوْرَةِ، مَا كَشَفَهَا.
عمیر بن اسحاق بیان کرتے ہیں: میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھا۔ انہوں نے سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ مجھے وہ جگہ دکھائیں جہاں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کو بوسہ دیتے ہوئے دیکھا ہے تو سیدنا امام حسن نے رضی اللہ عنہ اپنی ناف سے کپڑے کو ہٹایا تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس کا بوسہ دیا۔
شریک نامی راوی بیان کرتے ہیں: اگر ناف پردے کا حصہ ہوتی تو سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ سے ظاہر نہ کرتے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5593]
شریک نامی راوی بیان کرتے ہیں: اگر ناف پردے کا حصہ ہوتی تو سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ سے ظاہر نہ کرتے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5593]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5566»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف. * [عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ] قال الشيخ: لَمْ يُوَثِّقهُ غيرُ المؤلِّف (5/ 254)، ولاَ رَوَى عنه غير ابن عَونٍ؛ فهو مَجهول، فلا يُحتَجُّ به إِلاَّ عند المُتابَعَة. وقد أَشارَ إِلَى هذا الحافظ بقوله: «مقبول»، وقد بيَّنتُ هذا في كتابي «تيسير الانتفاع» - يَسَّر الله لِي إِتمامَه -. ويُضافُ إلى ذلك: أَنَّ حديثَه هذا يَدُلُّ على أَنَّهُ لم يكن ضابطاً، فَفِي روايته هنا - وفيما يأتي برقم (6926) - التصريح بأَنَّ التقبيل وقع على السُّرَّةِ. وفي روايةٍ لأحمد (2/ 427 و 488) وغيرِه: أَنَّهُ وقع على البطن! ولذلك كلِّه؛ لم يُصِبِ المُعَلِّقُ على «إحسان المؤسسة» بتحسينه لإسناده في هذا الموضع (12/ 406)، وتصحيحه إيَّاهُ في الموضع الآتي (15/ 420)، مُعتمداً فيه على قول ابن سعدٍ في الطبقات (7/ 220) - في عُمير -: «روى عنه ابن عون وغيرُه مِنَ البصريين»! وتَجَاهلَ قول الحُفَّاظِ الَّذِينَ جاؤوا مِنْ بَعدِ ابن سعدٍ - كالنسائي، وأبي حاتم، والعقيلي، وابن عدي -: أَنَّهُ لم يَروِ عَنهُ غير ابن عونٍ! تنبيه!! قول الألباني في التعليق: ... وفيما يأتي برقم (6926). رقم (6926) = (6965) من طبعة المؤسسة. وقوله: وتصحيحه إيَّاهُ في الموضع الآتي (15/ 420). هو نفسه الحديث رقم (6965). - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
الرواة الحديث:
عمير بن إسحاق القرشي ← أبو هريرة الدوسي