صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
38. ذكر الزجر عن دخول النساء الحمامات وإن كن ذوات ميازر-
- باب اس زجر کا کہ عورتیں حماموں میں نہ جائیں اگرچہ ان کے بدن پر کپڑا (ازار) ہی کیوں نہ ہو۔
حدیث نمبر: 5597
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُوَيْدٍ الْخَطْمِيِّ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ، فَلْيُكْرِمْ جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ، فَلا يَدْخُلِ الْحَمَّامَ إِلا بِمِئْزَرٍ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ، فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتَ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ مِنْ نِسَائِكُمْ، فَلا تَدْخُلِ الْحَمَّامَ" ، قَالَ: فَنَمَيْتُ بِذَلِكَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي خِلافَتِهِ، فَكَتَبَ إِلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، أَنْ سَلَ مُحَمَّدَ بْنَ ثَابِتٍ عَنْ حَدِيثِهِ، فَإِنَّهُ رِضًا، فَسَأَلَهُ، ثُمَّ كَتَبَ إِلَى عُمَرَ، فَمَنَعَ النِّسَاءَ عَنِ الْحَمَّامِ.
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے پڑوسی کی عزت افزائی کرنی چاہئے جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ تہبند پہن کر حمام میں داخل ہو جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے بھلائی کی بات کہنی چاہئے یا خاموش رہنا چاہئے اور تمہاری خواتین میں سے جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو وہ حمام میں داخل نہ ہو۔“
راوی بیان کرتے ہیں: میں نے عمر بن عبدالعزیز کے عہد خلافت میں یہ بات لکھ کر انہیں بھجوائی تو انہوں نے ابوبکر بن محمد کو خط لکھا کہ محمد بن ثابت سے ان کی نقل کردہ احادیث کے بارے میں دریافت کرو کیونکہ وہ پسندیدہ راوی ہے۔ ابوبکر بن محمد نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا پھر انہوں نے عمر بن عبدالعزیز کو خط میں لکھا تو عمر بن عبدالعزیز نے خواتین کے حمام میں جانے پر پابندی عائد کر دی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5597]
راوی بیان کرتے ہیں: میں نے عمر بن عبدالعزیز کے عہد خلافت میں یہ بات لکھ کر انہیں بھجوائی تو انہوں نے ابوبکر بن محمد کو خط لکھا کہ محمد بن ثابت سے ان کی نقل کردہ احادیث کے بارے میں دریافت کرو کیونکہ وہ پسندیدہ راوی ہے۔ ابوبکر بن محمد نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا پھر انہوں نے عمر بن عبدالعزیز کو خط میں لکھا تو عمر بن عبدالعزیز نے خواتین کے حمام میں جانے پر پابندی عائد کر دی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5597]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5568»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - انظر التعليق. * [يَعْقُوبَ بن إِبْرَاهِيمَ] قال الشيخ: هو الأنصاري المصري، ذكره ابن أبي حاتم (4/ 2 / 201) برواية يحيى بن أيُّوب - هذا -، تبعاً للبخاريّ، وكذا المؤلِّفُ في «ثقاته» (7/ 642 - 643). فهو في عِدَادِ المجهولين. ومثلُه مُحمَّدُ بن ثابت بن شُرحبيل، بل هو خيرٌ منه؛ فقد روى عنه أربعةٌ؛ كما في «الجرح» (7/ 408)، وقال الحافظ في «التقريب»: «مقبول». وأقول: بل هو صدوقٌ؛ لرواية جَمعٍ مِنَ الثقات عنه؛ كما في «التهذيب». وعبد الله بن يزيد الخَطْمِيُّ مِنْ رجال الشيخين، وهو صحابيٌّ صغيرٌ. وبالجملة؛ فالسَّندُ ضعيف؛ لجهالة يعقوب. ومع ذلك صحَّحَهُ الحاكم (4/ 289) والذَّهَبِيُّ!! نعم، الحديث صحيح لشواهده؛ فالجملة الأولى والثالثة: في «الصحيحين» مِنْ حديث أبي هريرة، وهو مُخَرَّجٌ في «الإرواء» (2525)، وقد مضى في الكتاب (517). ومِنْ حديث أبي شُريحٍ، وتقدم (5263). وسائره: عند الترمذيّ - وحسَّنه -، والنسائي وغيرهما؛ وهو مخرج في «غاية المرام» (190). ولابن خزيمة (1/ 124 / 249) منه جملة المئزر. تنبيه!! قول الألباني: وقد مضى في الكتاب (517). (517) = (516) من طبعة المؤسسة. وقوله: وتقدم (5263). (5263) = (5287) من طبعة المؤسسة. - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
الرواة الحديث:
عبد الله بن يزيد الأوسي ← أبو أيوب الأنصاري