صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
42. ذكر الزجر عن أن تمشي المرأة في حاجتها في وسط الطريق-
- باب اس زجر کا کہ عورت راستے کے درمیان سے نہ چلے۔
حدیث نمبر: 5601
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ لِلنِّسَاءِ وَسَطُ الطَّرِيقِ" ، قَالَ الشَّيْخُ: قَوْلُهُ" لَيْسَ لِلنِّسَاءِ وَسَطُ الطَّرِيقِ": لَفْظَةُ إِخْبَارٍ مُرَادُهَا الزَّجْرُ عَنْ شَيْءٍ مُضْمَرٍ فِيهِ، وَهُوَ مُمَاسَّةُ النِّسَاءِ الرِّجَالَ فِي الْمَشْيِ، إِذْ وَسَطُ الطَّرِيقِ الْغَالِبُ عَلَى الرِّجَالِ سُلُوكُهُ، وَالْوَاجِبُ عَلَى النِّسَاءِ أَنْ يَتَخَلَّلْنَ الْجَوَانِبَ حَذَرَ مَا يُتَوَقَّعُ مِنْ مُمَاسَّتِهِمْ إِيَّاهُنَّ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”خواتین کو راستے کے درمیان میں چلنے کا حق نہیں ہے۔“ شیخ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”خواتین کو راستے میں چلنے کا حق نہیں ہے۔“ اس سے مراد لفظی طور پر اطلاع دینا ہے لیکن اصل مراد اس چیز سے منع کرنا ہے جو اس میں پوشیدہ ہے اور وہ یہ کہ خواتین چلتے ہوئے مردوں کے ساتھ چلیں کیونکہ عام طور پر راستے کے درمیان میں مرد ہی چلتے ہیں تو خواتین کے لئے یہ بات لازم ہے وہ راستے کے اطراف میں علیحدہ ہو کر چلیں تاکہ وہ مردوں کے ساتھ لگنے سے بچ سکیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5601]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5572»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «الصحيحة» (856).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث حسن لغيره
الرواة الحديث:
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي