صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
120. باب التواضع والكبر والعجب - ذكر إيجاب دخول النار للمستكبر الجواظ إن لم يتفضل الله عليه بالعفو-
تواضع، تکبر اور خود پسندی کا بیان - ذکر اس بات کہ متکبر اور مغرور کے لیے جہنم میں داخلہ واجب ہے اگر اللہ اس پر عفو نہ کرے
حدیث نمبر: 5680
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ، وَلا يَدْخُلُ النَّارَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: فِي هَذَا الْخَبَرِ مَعْنَيَانِ اثْنَانِ: أَحَدُهُمَا وَهُوَ الَّذِي نَوَّعْنَا لَهُ النَّوْعَ:" لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ": أَرَادَ بِهِ جَنَّةً عَالِيَةً يَدْخُلُهَا غَيْرُ الْمُتَكَبِّرِينَ، وَقَوْلُهُ:" وَلا يَدْخُلُ النَّارَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ": أَرَادَ بِهِ نَارًا سَافِلَةً يَدْخُلُهَا غَيْرُ الْمُسْلِمِينَ، وَالْمَعْنَى الثَّانِي: لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَصْلاً مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ، أَرَادَ بِالْكِبْرِ: الشِّرْكَ، إِذِ الْمُشْرِكُ لا يَدْخُلُ جَنَّةً مِنَ الْجِنَّانِ أَصْلاً، وَقَوْلُهُ:" لا يَدْخُلُ النَّارَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلِ مِنْ إِيمَانٍ": أَرَادَ بِهِ عَلَى سَبِيلِ الْخُلُودِ، حَتَّى يَصِحَّ الْمَعْنَيَانِ مَعًا.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایسا شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا، جس کے دل میں رائی کے دانے جتنا تکبر ہوگا، ایسا شخص جہنم میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانے جتنا ایمان ہوگا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت کے دو مفہوم ہوسکتے ہیں، اس میں سے ایک وہ ہے جسے ہم نے ایک نوع میں بیان کیا ہے، پھر ”جنت میں ایسا شخص داخل نہیں ہوگا، جس کے دل میں رائی کے وزن کے جتنا تکبر ہو“ اس کے ذریعے جنت کا بلند درجہ مراد ہے جہاں وہ لوگ داخل ہوں گے جو تکبر نہیں کیا کرتے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”وہ شخص جہنم میں داخل نہیں ہوگا، جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان موجود ہو“ اس کے ذریعے جہنم کا وہ نیچے والا حصہ مراد ہے جہاں وہ لوگ داخل ہوں گے جو مسلمان نہیں ہوں گے۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ ہے: جنت میں سرے سے کوئی ایسا شخص داخل نہیں ہوگا، جس کے دل میں رائی کے دانے جتنا تکبر ہوگا اور یہاں تکبر سے مراد شرک ہے کیونکہ مشرک شخص سرے سے جنت میں کبھی بھی داخل نہیں ہوگا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”وہ شخص جہنم میں داخل نہیں ہوگا، جس کے دل میں رائی کے دانے کے وزن جتنا ایمان ہو“ اس کے ذریعے آپ کی مراد یہ ہے: ہمیشہ کے لیے ایسا نہیں ہوگا، اس طرح سے دونوں مفہوم درست ہوجائیں گے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5680]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 91، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 224، 5466، 5680، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 70، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4091، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1998، 1999، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 59، 4173، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3865» «رقم طبعة با وزير 5651»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «غاية المرام» (89/ 114): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 5680 in Urdu
علقمة بن قيس النخعي ← عبد الله بن مسعود