صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
149. باب ما يكره من الكلام وما لا يكره - ذكر الزجر عن قول المرء لأخيه قبح الله وجهك-
جن باتوں کا کہنا مکروہ ہے اور جن کا مکروہ نہیں، کا بیان - ذکر منع کہ انسان اپنے بھائی سے کہے کہ اللہ تیرا چہرہ بدصورت کرے
حدیث نمبر: 5710
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: قَبَّحَ اللَّهُ وَجْهَكُ، وَوَجْهَ مَنْ أَشْبَهَ وَجْهَكَ، فَإِنَّ اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: يُرِيدُ بِهِ عَلَى صُورَةِ الَّذِي قِيلَ لَهُ: قَبَّحَ اللَّهُ وَجْهَكَ مِنْ وَلَدِهِ، وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ الْخَطَّابَ لِبَنِي آدَمَ دُونَ غَيْرِهِمْ قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَوَجْهَ مَنْ أَشْبَهَ وَجْهَكَ"، لأَنَّ وَجْهَ آدَمَ فِي الصُّورَةِ تُشْبِهُ صُورَةَ وَلَدِهِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کوئی شخص یہ بات ہرگز نہ کہے اللہ تعالیٰ تمہارے چہرے کو قبیح کرے اور اس چہرے کو قبیح کرے جو تمہارے چہرے کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے اس کی وجہ یہ ہے اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس سے مراد اس آدمی کی صورت ہے جس سے یہ کہا: گیا ہے اللہ تعالیٰ تمہارے چہرے کو قبیح کرے جو سیدنا آدم علیہ السلام کی اولاد سے تعلق رکھتا ہے اور اس بات کی دلیل کہ یہاں خطاب اولاد آدم کو ہے اور ان کے علاوہ کسی اور کو نہیں ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے: ”اور اس چہرے کو جو تمہارے چہرے کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے“ اس کی وجہ یہ ہے سیدنا آدم علیہ السلام کا چہرہ ان کی اولاد کی شکل و صورت سے مشابہت رکھتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5710]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس سے مراد اس آدمی کی صورت ہے جس سے یہ کہا: گیا ہے اللہ تعالیٰ تمہارے چہرے کو قبیح کرے جو سیدنا آدم علیہ السلام کی اولاد سے تعلق رکھتا ہے اور اس بات کی دلیل کہ یہاں خطاب اولاد آدم کو ہے اور ان کے علاوہ کسی اور کو نہیں ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے: ”اور اس چہرے کو جو تمہارے چہرے کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے“ اس کی وجہ یہ ہے سیدنا آدم علیہ السلام کا چہرہ ان کی اولاد کی شکل و صورت سے مشابہت رکھتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5710]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5680»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (862).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
الرواة الحديث:
سعيد بن أبي سعيد المقبري ← أبو هريرة الدوسي