پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
165. باب ما يكره من الكلام وما لا يكره - ذكر الإخبار عن وصف المستبين اللذين يكذبان في سبابهما-
جن باتوں کا کہنا مکروہ ہے اور جن کا مکروہ نہیں، کا بیان - ذکر خبر کہ اس گالی دینے والوں کی جو اپنی گالیوں میں جھوٹ بولتے ہیں
حدیث نمبر: 5727
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الرَّجُلُ يَشْتُمُنِي مِنْ قَوْمِي وَهُوَ دُونِي، أَعَلَيَّ مِنْ بَأْسٍ أَنْ أَنْتَصِرَ مِنْهُ؟ قَالَ: " الْمُسْتَبَّانِ شَيْطَانَانِ يَتَهَاتَرَانِ وَيَتَكَاذَبَانِ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: أَطْلَقَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَ الشَّيْطَانِ عَلَى الْمُسْتَبِّ عَلَى سَبِيلِ الْمُجَاوَرَةِ، إِذِ الشَّيْطَانُ دَلَّهُ عَلَى ذَلِكَ الْفِعْلِ، حَتَّى تَهَاتَرَ وَتَكَاذَبَ، لا أَنَّ الْمُسْتَبَّيْنِ يَكُونَانِ شَيْطَانَيْنِ.
سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! میری قوم کا ایک شخص مجھے برا کہتا ہے وہ مجھ سے کم تر حیثیت کا مالک ہے تو کیا مجھے کوئی گناہ ہو گا اگر میں اس سے کوئی انتقام لوں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک دوسرے کو برا کہنے والے دو افراد دونوں شیطان ہوتے ہیں جو دونوں بات کو بڑھاتے ہیں اور غلط بیانی کرتے ہیں۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے برا کہنے والے شخص کے لیے لفظ شیطان مجاور ت کے طور پر استعمال کیا ہے کیونکہ شیطان اس شخص کی رہنمائی اس فعل کی طرف کرتا ہے یہاں تک کہ وہ شخص بات بڑھاتا ہے اور جھوٹ بولتا ہے اس سے یہ مراد نہیں ہے برا کہنے والے دونوں افراد واقعی شیطان بن جاتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5727]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے برا کہنے والے شخص کے لیے لفظ شیطان مجاور ت کے طور پر استعمال کیا ہے کیونکہ شیطان اس شخص کی رہنمائی اس فعل کی طرف کرتا ہے یہاں تک کہ وہ شخص بات بڑھاتا ہے اور جھوٹ بولتا ہے اس سے یہ مراد نہیں ہے برا کہنے والے دونوں افراد واقعی شیطان بن جاتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5727]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5726، 5727، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 21149، 21150، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17755» «رقم طبعة با وزير 5697»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - المصدر نفسه.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 5727 in Urdu
مطرف بن عبد الله الحرشي ← عياض بن حمار المجاشعي