صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
302. باب الصحبة والمجالسة - ذكر إيجاب محبة الله جل وعلا للمتجالسين فيه والمتزاورين فيه
دوستی اور بیٹھک (ہم نشینی) کا بیان - اللہ جل وعلا کی محبت کا واجب ہونا ان لوگوں کے لیے جو اس کے لیے ایک دوسرے سے ملتے اور ملاقات کرتے ہیں
حدیث نمبر: 575
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيِّ ،، أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْتُ مَسْجِدَ دِمَشْقَ فَإِذَا فَتًى بَرَّاقُ الثَّنَايَا، وَإِذَا النَّاسُ مَعَهُ، إِذَا اخْتَلَفُوا فِي شَيْءٍ، أَسْنَدُوهُ إِلَيْهِ، وَصَدَرُوا عَنْ رَأْيِهِ، فَسَأَلْتُ عَنْهُ، فَقِيلَ: هَذَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ، هَجَّرْتُ فَوَجَدْتُهُ قَدْ سَبَقَنِي بِالتَّهْجِيرِ، وَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي، قَالَ: فَانْتَظَرْتُهُ حَتَّى قَضَى صَلاتَهُ، ثُمَّ جِئْتُهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَقُلْتُ: وَاللَّهِ إِنِّي لأُحِبُّكَ لِلَّهِ، فقَالَ: آللَّهُ؟ قُلْتُ: آللَّهُ، فَأَخَذَ بِحَبْوَةِ رِدَائِي فَجَذَبَنِي إِلَيْهِ وَقَالَ: أَبْشِرْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولَ:" قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: وَجَبَتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَحَابِّينَ فِيَّ، وَالْمُتَجَالِسِينَ فِيَّ، وَالْمُتَزَاوِرِينَ فِيَّ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيُّ اسْمُهُ عَائِذُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، كَانَ سَيِّدَ قُرَّاءِ أَهْلِ الشَّامِ فِي زَمَانِهِ، وَهُوَ الَّذِي أَنْكَرَ عَلَى مُعَاوِيَةَ مُحَارَبَتَهُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ حِينَ، قَالَ لَهُ: مَنْ أَنْتَ حَتَّى تُقَاتِلَ عَلِيًّا، وَتُنَازِعُهُ الْخِلافَةَ، وَلَسْتَ أَنْتَ مِثْلَهُ، لَسْتَ زَوْجَ فَاطِمَةَ وَلا بِأَبِي الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ وَلا بِابْنِ عَمِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَشْفَقَ مُعَاوِيَةُ أَنْ يُفْسِدَ قُلُوبَ قُرَّاءِ الشَّامِ، فقَالَ لَهُ: إِنَّمَا أَطْلُبُ دَمَ عُثْمَانَ، قَالَ: فَلَيْسَ عَلِيٌّ قَاتِلَهُ، قَالَ: لَكِنَّهُ يَمْنَعُ قَاتِلَهُ عَنْ أَنْ يُقْتَصَّ مِنْهُ، قَالَ: اصْبِرْ حَتَّى آتِيَهُ، فَأَسْتَخْبِرُهُ الْحَالَ، فَأَتَى عَلِيًّا وَسَلَّمَ عَلَيْهِ، ثُمَّ، قَالَ لَهُ: مَنْ قَتَلَ عُثْمَانَ؟ قَالَ: اللَّهُ قَتَلَهُ وَأَنَا مَعَهُ، عَنَى: وَأَنَا مَعَهُ مَقْتُولٌ، وَقِيلَ: أَرَادَ اللَّهُ قَتْلَهُ، وَأَنَا حَارَبْتُهُ، فَجَمَعَ جَمَاعَةَ قُرَّاءِ الشَّامِ وَحَثَّهُمْ عَلَى الْقِتَالِ.
ابو ادریس خولانی بیان کرتے ہیں: میں مسجدِ دمشق میں داخل ہوا تو وہاں ایک نوجوان موجود تھا جس کے سامنے کے دانت انتہائی چمک دار تھے۔ اس کے ساتھ کچھ لوگ بھی تھے، جب ان لوگوں کے درمیان کسی چیز کے بارے میں اختلاف ہوتا تھا تو وہ لوگ اس کی طرف رجوع کرتے تھے اور اس کی رائے پر عمل کرتے تھے۔ میں نے اس نوجوان کے بارے میں دریافت کیا تو بتایا گیا کہ یہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہیں۔ اگلے دن میں جلدی آ گیا تو میں نے دیکھا کہ وہ نوجوان مجھ سے پہلے وہاں پہنچ چکا تھا۔ میں نے اسے نماز ادا کرتے ہوئے پایا۔ ابو ادریس کہتے ہیں: میں ان صاحب کا انتظار کرتا رہا یہاں تک کہ انہوں نے نماز مکمل کر لی تو میں سامنے کی طرف سے ان کے پاس آیا۔ میں نے انہیں سلام کیا اور میں نے عرض کی: اللہ کی قسم! میں اللہ کی خاطر آپ سے محبت رکھتا ہوں۔ انہوں نے دریافت کیا: کیا اللہ تعالیٰ کی خاطر؟ میں نے جواب دیا: اللہ تعالیٰ کی خاطر۔ انہوں نے میری چادر کا کنارہ پکڑا اور مجھے اپنی طرف کھینچا اور بولے: تم یہ خوشخبری حاصل کر لو، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے: میری محبت ان لوگوں کے لیے لازم ہو گئی ہے جو میری خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہیں۔ میری خاطر ایک دوسرے کے ساتھ مل کر بیٹھتے ہیں اور میری خاطر ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابو ادریس خولانی نامی راوی کا نام عائذ اللہ بن عبداللہ ہے۔ یہ اپنے زمانے میں شام سے تعلق رکھنے والے علمِ قرأت کے ماہرین کے سردار ہیں۔ یہ وہ صاحب ہیں جنہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف جنگ کرنے کا انکار کیا تھا۔ جب انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے یہ کہا: آپ کون ہوتے ہیں جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ کریں اور خلافت کے حوالے سے ان کے ساتھ جھگڑا کریں؟ آپ ان کی مانند نہیں ہیں۔ آپ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا (جیسی خاتون) کے شوہر نہیں ہیں۔ آپ سیدنا امام حسن اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہما (جیسے حضرات) کے والد نہیں ہیں۔ آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازاد نہیں ہیں، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اس بات سے ڈر گئے کہ کہیں وہ شام کے قاریوں کے ذہن خراب نہ کر دیں۔ تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کے بدلے کا طلب گار ہوں، تو انہوں نے کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے تو انہیں قتل نہیں کیا، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: لیکن وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتل سے قصاص لینے میں رکاوٹ بن رہے ہیں، تو انہوں نے کہا: آپ صبر سے کام لیں میں ان کے پاس جاتا ہوں اور حقیقتِ حال جاننے کی کوشش کرتا ہوں۔ پھر یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہیں سلام کیا اور پھر ان سے کہا: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو کس نے قتل کیا ہے؟ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے انہیں قتل کیا ہے اور میں بھی ان کے ساتھ ہوں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی مراد یہ تھی: ان کے ساتھ میں بھی مقتول ہوں۔ اور ایک قول یہ ہے: ان کی مراد یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو قتل کرنے کا ارادہ کیا اور میں نے اس بارے میں بچنے کی کوشش کی۔ (لیکن) ابو ادریس خولانی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے الفاظ کا مفہوم نہیں سمجھ سکے اور انہوں نے شام کی ایک جماعت کو اکٹھا کیا اور انہیں (سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے جنگ کرنے کی ترغیب دی)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 575]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 3507، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 575، 577،والحاكم فى (مستدركه) برقم: 5213، 7407، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2390، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22424» «رقم طبعة با وزير 574»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «المشكاة» (5011).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين، وأبو حازم: هو سلمة بن دينار.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 575 in Urdu
أبو إدريس الخولاني ← معاذ بن جبل الأنصاري