صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
305. باب اللعب واللهو - ذكر الإباحة للحرة النظر إلى لعب الحبشة الذي وصفناه وإن كان لها زوج-
کھیل کود اور لہو و لعب کا بیان - ذکر اجازت کہ آزاد عورت ہمارے بیان کردہ حبشہ کے کھیل کو دیکھے خواہ اس کا شوہر ہو
حدیث نمبر: 5868
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ فِي أَيَّامِ مِنًى تُغَنِّيَانِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسَجًّى بِثَوْبِهِ، فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ، فَكَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ وَقَالَ: " دَعْهُمَا يَا أَبَا بَكْرٍ، فَإِنَّهَا أَيَّامُ عِيدٍ"، قَالَتْ: وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْحَبَشَةِ، وَهُمْ يَلْعَبُونَ وَأَنَا جَارِيَةٌ ، فَاقْدُرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْعَرِبَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے ہاں آئے اس وقت ان کے پاس دو لڑکیاں بیٹھی ہوئی تھیں جو گانا گا رہی تھیں یہ عید کے موقع کی بات ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑے کے ذریعے چہرہ ڈھانپا ہوا تھا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان لڑکیوں کو ڈانٹا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور فرمایا: اے ابوبکر! ان دونوں کو گانے دو کیونکہ یہ عید کے دن ہیں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات یاد ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر کے ذریعے مجھے اوٹ میں لیا ہوا تھا اور میں ان حبشیوں کو دیکھ رہی تھی جو کرتب دکھا رہے تھے میں اس وقت کم سن لڑکی تھی، تو تم خود اندازہ کر لو کہ ایک کم سن لڑکی جس کی عمر بھی زیادہ نہ ہو (اسے اس طرح کے کرتب دیکھنے میں کتنی دلچسپی ہو گی)
[صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5868]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات یاد ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر کے ذریعے مجھے اوٹ میں لیا ہوا تھا اور میں ان حبشیوں کو دیکھ رہی تھی جو کرتب دکھا رہے تھے میں اس وقت کم سن لڑکی تھی، تو تم خود اندازہ کر لو کہ ایک کم سن لڑکی جس کی عمر بھی زیادہ نہ ہو (اسے اس طرح کے کرتب دیکھنے میں کتنی دلچسپی ہو گی)
[صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5868]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5838»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «آداب الزفاف»: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق