الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
2. ذكر الإخبار عما لا يجوز أكله من الصيد الذي صيد بالقسي والكلاب المعلمة-
- ذکر خبر کہ اس شکار کو کھانا جائز نہیں جو تیر اور تربیت یافتہ کتوں سے شکار کیا گیا
حدیث نمبر: 5880
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، أَنَّ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ ، سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَرْمِي بِسَهْمِي فَأُصِيبُ، فَلا أَقْدِرُ عَلَيْهِ إِلا بَعْدَ يَوْمٍ أَوِ اثْنَيْنِ، قَالَ: " إِنْ قَدَرْتَ عَلَيْهِ وَلَيْسَ بِهِ أَثَرٌ، وَلا خَدْشٌ إِلا رَمْيَتُكَ فَكُلْ، وَإِنْ وَجَدْتَ بِهِ أَثَرًا غَيْرَ رَمْيَتِكَ فَلا تَأْكُلْ، وَإِنْ أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَأَدْرَكْتَهُ قَبْلَ أَنْ يَقْتُلَهُ فَذَكِّهِ، وَإِنْ أَدْرَكْتَهُ قَدْ قَتَلَهُ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ شَيْئًا فَكُلْهُ، وَإِنْ أَدْرَكْتَهُ وَقَدْ أَكَلَ مِنْهُ فَلا تَأْكُلْ، فَإِنَّهُ إِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ"، قَالَ عَدِيٌّ: فَإِنِّي أُرْسِلُ كِلابِي وَأَذْكُرُ اسْمَ اللَّهِ، فَتَخْتَلِطُ بِكِلابِ غَيْرِي، فَيَأْخُذْنَ الصَّيْدَ فَيَقْتُلْنَهُ، قَالَ:" فَلا تَأْكُلْ، فَإِنَّكَ لا تَدْرِي: كِلابُكَ قَتَلَتْهُ أَمْ كِلابُ غَيْرِكَ".
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ میں اپنے تیر کے ذریعے شکار کرتا ہوں بعض اوقات وہ تیر شکار کو لگ جاتا ہے، لیکن ایک یا دو دن گزرنے کے بعد مجھے وہ شکار ملتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر وہ تمہیں ایسی حالت میں ملتا ہے اس پر کوئی اور نشان یا زخم نہ ہو ماسوائے تمہارے تیر کے نشان کے تو تم اسے کھا لو اور اگر تمہیں اپنے تیر کے نشان کے علاوہ کوئی اور نشان اس پر مل جاتا ہے تو تم اسے نہ کھاؤ اگر تم اپنے کتے کو چھوڑتے ہوئے اللہ کا نام ذکر کر دیتے ہو اور تمہیں وہ شکار مل جاتا ہے اور اس کتے نے اسے مارا نہیں تھا، تم اسے ذبح کر لو اگر وہ تمہیں ایسی حالت میں ملتا ہے کتے نے اسے مار دیا تھا اور خود اس میں سے کچھ نہیں کھایا تھا تو تم اسے کھا لو اور اگر تمہیں ایسی حالت میں ملتا ہے کتے نے خود اس میں سے کچھ نہیں کھایا تھا، تو تم اسے نہ کھاؤ کیونکہ یہ شکار اس نے اپنے لیے کیا تھا۔ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اگر میں اپنے کتے کو چھوڑتا ہوں اور اس پر اللہ کا نام بھی لے لیتا ہوں پھر میرے کتے کے ساتھ کوئی دوسرا کتا بھی ساتھ مل جاتا ہے اور وہ دونوں شکار کرتے ہیں اور شکار کو مار دیتے ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اسے نہ کھاؤ کیونکہ تم یہ بھی نہیں جانتے کہ کیا تمہارے کتے نے اسے قتل کیا ہے یا دوسرے کتے نے اسے مارا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصيد/حدیث: 5880]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5850»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
عامر الشعبي ← عدي بن حاتم الطائي