الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1. ذكر الإخبار عن أكل ما يجوز استعماله مما حبس الكلاب على أربابها-
- ذکر خبر کہ اس شکار کو کھانا جائز ہے جو کتوں نے اس کے مالک کے لیے پکڑا ہو
حدیث نمبر: 5879
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيَّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ ، يَقُولُ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا بِأَرْضٍ مِنْ أَهْلِ كِتَابٍ نَأْكُلُ فِي آنِيَتِهِمْ، وَإِنَّ أَرْضَنَا أَرْضُ صَيْدٍ، أَصِيدُ بِقَوْسِي، وَبِالْكَلْبِ الْمُكَلَّبِ، وَبِالْكَلْبِ الَّذِي لَيْسَ بِمُكَلَّبٍ، فَأَخْبِرْنِي مَاذَا يَحِلُّ لَنَا مِمَّا يَحْرُمُ عَلَيَّ مِنْ ذَلِكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكُمْ بِأَرْضِ أَهْلِ كِتَابٍ تَأْكُلُونَ فِي آنِيَتِهِمْ، فَإِنْ وَجَدْتُمْ غَيْرَ آنِيَتِهِمْ فَلا تَأْكُلُوا فِيهَا، وَإِنْ لَمْ تَجِدُوا غَيْرَ آنِيَتِهِمْ فَاغْسِلُوهَا وَكُلُوا فِيهَا، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنَ الصَّيْدِ، فَمَا صِدْتَ بِقَوْسِكَ فَكُلْ مِنْهُ، وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَأَمَّا مَا أَصَابَ كَلْبُكَ الْمُكَلَّبُ، فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكَ عَلَيْكَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَأَمَّا مَا أَصَابَ كَلْبُكَ الَّذِي لَيْسَ بِمُكَلَّبٍ، فَإِنْ أَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ، وَمَا لَمْ تُدْرِكْ ذَكَاتَهُ فَلا تَأْكُلْ" .
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی: یا رسول ان اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! ہم اہل کتاب کی سرزمین پر رہتے ہیں ہم ان کے برتنوں میں کھا لیتے ہیں ہمارا علاقہ ایسا ہے جہاں شکار بہت ہوتا ہے میں اپنی کمان کے ذریعے شکار کرتا ہوں اور تربیت یافتہ کتے کے ذریعے بھی کرتا ہوں اور غیر تربیت یافتہ کتے کے ذریعے بھی کرتا ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بتائیے کہ ان میں سے کون سی چیز میرے لیے حرام ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جہاں تک تم نے اس بات کا ذکر کیا ہے تم اہل کتاب کی سرزمین پر رہتے ہو اور ان کے برتنوں میں کھاتے ہو تو اگر تمہیں ان کے برتنوں کے علاوہ برتن مل جاتے ہیں تو تم ان کے برتنوں میں نہ کھاؤ لیکن اگر تمہیں ان برتنوں کے علاوہ اور برتن نہیں ملتے تو تم ان کے برتوں کو دھو کر ان میں کھا لو جہاں تک تم نے شکار کا ذکر کیا ہے تو جس چیز کو تم اپنی کمان کے ذریعے شکار کرتے ہو اسے تم کھا لو اس پر اللہ کا نام لے لو اور جو شکار تربیت یافتہ کتا تمہارے لیے محفوظ رکھتا ہے تم اللہ کا نام لے کر اس میں سے کھا لو اور جو شکار غیر تربیت یافتہ کتے کے ذریعے ہوتا ہے اگر تمہیں اس شکار کو ذبح کرنے کا موقع مل جاتا ہے تو اسے کھا لو اور جسے ذبح کرنے کا موقع نہیں ملتا اسے تم نہ کھانا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصيد/حدیث: 5879]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5849»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2544): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
أبو إدريس الخولاني ← أبو ثعلبة الخشني