صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
321. باب الصحبة والمجالسة - ذكر مغفرة الله جل وعلا لقائل ما وصفنا ما كان في ذلك المجلس من لغو
دوستی اور بیٹھک (ہم نشینی) کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا اس شخص کے لیے اس مجلس میں ہونے والے لغو کو معاف کر دیتا ہے جو ہم نے بیان کیا
حدیث نمبر: 594
أَخْبَرَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْجَنَدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زِيَادٍ اللَّحْجِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو قُرَّةَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ جَلَسَ فِي مَجْلِسٍ كَثُرَ فِيهِ لَغَطُهُ، ثُمَّ قَالَ قَبْلَ أَنْ يَقُومَ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ، إِلا غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ فِي مَجْلِسِهِ ذَلِكَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص کسی ایسی محفل میں شریک ہو، جہاں فضول گفتگو زیادہ ہو اور وہ وہاں سے اٹھنے سے پہلے یہ پڑھ لے۔ ”تو پاک ہے، اے اللہ! اے ہمارے پروردگار! حمد تیرے لئے مخصوص ہے۔ تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔ میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں۔“ تو اس شخص نے اس محفل میں جو بھی غلطی کی ہو گی اس کی مغفرت ہو جائے گی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 594]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 593»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الموارد» (2366).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات، وقد صرح ابن جريج بالتحديث عند الترمذي والحاكم، فانتفت شبهة تدليسه، وأبو قرة: هو موسى بن طارق الزبيدي.
الرواة الحديث:
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي