صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
7. باب الغرة - ذكر وصف الحكم فيمن ضرب بطن امرأة فألقت جنينا ميتا-
«غُرَّہ» (یعنی حمل ضائع ہونے پر دیت) کا بیان - ذکر وصف کہ اس شخص کے لیے کیا حکم ہے جس نے عورت کے پیٹ پر ضرب لگائی اور اس نے مردہ جنين پھینکا
حدیث نمبر: 6016
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نَضْلَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ:" كَانَتْ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ امْرَأَتَانِ، فَغَارَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الأُخْرَى، فَرَمَتْهَا بِفِهْرٍ أَوْ عَمُودِ فُسْطَاطٍ، فَأَسْقَطَتْ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَضَى فِيهِ بِغُرَّةٍ، فَقَالَ وَلِيُّهَا: أَنَدِي مَنْ لا صَاحَ وَلا اسْتَهَلَّ، وَلا شَرِبَ، وَلا أَكَلْ؟ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الْجَاهِلِيَّةِ"؟! وَجَعَلَهَا عَلَى أَوْلِيَاءِ الْمَرْأَةِ .
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہذیل قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی دو بیویاں تھیں، وہ آپس میں لڑ پڑیں، ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر مارا یا خیمے کی لکڑی ماری تو دوسری کا حمل ضائع ہو گیا، یہ مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں ”ایک غلام (یا کنیز) کی ادائیگی“ کا فیصلہ دیا، تو اس عورت کے نگران نے کہا: کیا میں اس کی دیت ادا کروں گا جو چیخا بھی نہیں، چیخ کر رویا بھی نہیں، اس نے کچھ پیا بھی نہیں اور کچھ کھایا بھی نہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا یہ زمانہ جاہلیت کی طرح کے مسجع کے الفاظ استعمال کر رہا ہے؟“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت کی ادائیگی عورت کے اولیاء پر لازم قرار دی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الديات/حدیث: 6016]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6905، 6906، 6908 م، 7317، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1682، وابن الجارود فى "المنتقى"، 841، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6016، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4836، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4568، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1411، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2633، 2640، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16466، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3444، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18423» «رقم طبعة با وزير 5984»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (2206): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 6016 in Urdu
عبيد بن نضيلة الخزاعي ← المغيرة بن شعبة الثقفي