صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
19. ذكر وصف الوضوء الذي ذكرناه لمن وصفناه-
- ذکر وصف اس وضو کی جو ہم نے اس کے لیے بیان کی
حدیث نمبر: 6106
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ يَعْقُوبَ بِحِمْصَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْبَهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى الْكَلْبِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، أَنَّ عَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ أَخَا بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ، رَأَى سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ وَهُوَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْخَرَّارِ يَغْتَسِلُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ، وَلا جِلْدَ مُخَبَّأَةٍ، قَالَ: فَلُبِطَ سَهْلٌ، فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لَكَ فِي سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، لا يَرْفَعُ رَأْسَهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ تَتَّهِمُونَ مِنْ أَحَدٍ؟" قَالُوا: نَعَمْ، عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ رَآهُ يَغْتَسِلُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ، وَلا جِلْدَ مُخَبَّأَةٍ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ، وَقَالَ: " عَلامَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ، أَلا تُبَرِّكُ؟ اغْتَسِلْ لَهُ"، فَغَسَلَ لَهُ عَامِرٌ، فَرَاحَ سَهْلٌ مَعَ الرَّكْبِ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ قَالَ: وَالْغُسْلُ أَنْ يُؤْتَى بِالْقَدَحِ، فَيُدْخِلَ الْغَاسِلُ كَفَّيْهِ جَمِيعًا فِيهِ، ثُمَّ يَغْسِلُ وَجْهَهُ فِي الْقَدَحِ، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ الْيُمْنَى، فَيَغْسِلُ صَدْرَهُ فِي الْقَدَحِ، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ فَيَغْسِلُ ظَهْرَهُ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِيَدِهِ الْيُسْرَى يَفْعَلُ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَغْسِلُ رُكْبَتَيْهِ، وَأَطْرَافَ أَصَابِعِهِ مِنْ ظَهْرِ الْقَدَمِ، وَيَفْعَلُ ذَلِكَ بِالرِّجْلِ الْيُسْرَى، ثُمَّ يُعْطِي ذَلِكَ الإِنَاءَ قَبْلَ أَنْ يَضَعَهُ بِالأَرْضِ الَّذِي أَصَابَهُ الْعَيْنُ، ثُمَّ يَمُجُّ فِيهِ، وَيَتَمَضْمَضُ، وَيُهَرِيقُ عَلَى وَجْهِهِ، وَيَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ، وَيُكْفِئُ الْقَدَحَ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِهِ .
سیدنا ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: عامر بن ربیعہ جن کا تعلق بنو عدی بن کعب سے تھا انہوں نے سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کو دیکھا جو اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ خرار کے مقام پر موجود تھے وہ غسل کرنے لگے، تو عامر بن ربیعہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے کسی پردہ نشین عورت کی بھی اتنی خوبصورت جلد نہیں دیکھی، تو سیدنا سہل رضی اللہ عنہ اسی وقت بیمار ہو گئے انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا عرض کی گئی یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سہل بن حنیف کا کچھ کریں گے یہ اپنا سر بھی نہیں اٹھا رہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم کسی پر الزام عائد کرتے ہو۔ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں عامر بن ربیعہ نے انہیں غسل کرتے دیکھا، تو یہ کہا: اللہ کی قسم! میں نے تو کسی پردہ نشین عورت کی بھی اتنی اچھی جلد نہیں دیکھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عامر بن ربیعہ کو بلایا اور ان پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا تم میں سے کوئی ایک کیوں اپنے بھائی کو قتل کرنا چاہتا ہے کیا تم برکت کی دعا نہیں دے سکتے تھے تم اس کے لیے غسل کرو۔ عامر نے ان کے لیے غسل کیا، تو سیدنا سہل رضی اللہ عنہ سواروں کے ساتھ روانہ ہو گئے یوں جیسے انہیں کوئی تکلیف نہیں تھی (یعنی ان کی بیماری ختم ہو گئی) راوی بیان کرتے ہیں غسل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ پیالہ لایا جائے غسل کرنے والا شخص اپنے دونوں ہاتھ اس میں داخل کرے پھر وہ اپنے چہرے کو اس پیالے میں دھوئے (یعنی چہرے کو دھونے والا پانی دوبارہ پیالے میں گرے) پھر وہ اپنا دایاں ہاتھ اس میں داخل کرے اور اپنے سینے کو پیالے میں دھوئے وہ اپنا ہاتھ داخل کرے اور اپنی پشت کو دھوئے اپنا بایاں ہاتھ لے اور اسی طرح کرے اسی طرح دو گھٹنے دھوئے اور اپنی انگلیوں کے کنارے تک دھوئے اسی طرح وہ اپنے بائیں پاؤں کے ساتھ کرے پھر وہ برتن زمین پر رکھنے سے پہلے اس شخص کو دے جسے نظر لگی ہے پھر وہ اس میں کلی کرے اور اپنے چہرے پر وہ پانی ڈالے اور اپنے سر پر وہ بہائے اور پھر اپنی پشت کے پیچھے کی طرف اس پیالے کو الٹا دے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6106]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6074»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - دون قول الزهري: والغسل أن يؤتى ... ؛ فإنه معضل - انظر التعليق. * [قَالَ: وَالْغُسْلُ ... ] قال الشيخ: قلت: القائل؛ هو ابن شهاب الزُّهري، كما جاء التصريح به في «مصنف ابن أبي شيبة» (3647)، و «المعجم الكبير» للطبراني (6/ 98)، و «السنن الكبرى» للبيهقي (9/ 352)؛ والسند إليه حسن.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أسعد بن سهل الأنصاري، أبو أمامة | له رؤية | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← أسعد بن سهل الأنصاري | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥إسحاق بن يحيى العوصي، أبو محمد إسحاق بن يحيى العوصي ← محمد بن شهاب الزهري | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥يحيى بن صالح الوحاظي، أبو زكريا، أبو صالح يحيى بن صالح الوحاظي ← إسحاق بن يحيى العوصي | ثقة | |
👤←👥سليمان بن عبد الحميد البهراني، أبو أيوب سليمان بن عبد الحميد البهراني ← يحيى بن صالح الوحاظي | صدوق رمي بالنصب | |
👤←👥عبد الصمد بن سعيد الحمصي، أبو القاسم عبد الصمد بن سعيد الحمصي ← سليمان بن عبد الحميد البهراني | ثقة |
Sahih Ibn Hibban Hadith 6106 in Urdu
محمد بن شهاب الزهري ← أسعد بن سهل الأنصاري