پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
12. باب التوبة - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من لزوم التوبة في جميع أسبابه
توبہ کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ آدمی پر لازم ہے کہ وہ اپنے تمام اسباب میں توبہ کو لازم پکڑے
حدیث نمبر: 619
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ عَدِيٍّ بِنَسَا، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ: " يَا عِبَادِي، إِنِّي حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلَى نَفْسِي، وَجَعَلْتُهُ بَيْنَكُمْ مُحَرَّمًا، فَلا تَظَّالَمُوا، يَا عِبَادِي، إِنَّكُمْ تُخْطِئُونَ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَأَنَا الَّذِي أَغْفِرُ الذُّنُوبَ وَلا أُبَالِي" . فَذَكَرَهُ بِطُولِهِ وَقَالَ فِي آخِرِهِ: وَكَانَ أَبُو إِدْرِيسَ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ جَثَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ.
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سےاللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اے میرے بندو! میں نے اپنی ذات کے لئے ظلم کو حرام قرار دیا ہے اور میں نے اسے تمہارے درمیان بھی حرام قرار دیا ہے، تو تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو، اے میرے بندو! بیشک تم رات دن خطائیں کرتے ہو اور میں وہ ہوں جو گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہوں اور میں اس کی پرواہ نہیں کرتا۔“
اس کے بعد راوی نے طویل حدیث ذکر کی ہے، جس کے آخر میں انہوں نے یہ بات بیان کی ہے۔ ابوادریس نامی راوی جب اس حدیث کو بیان کرتے تھے، تو وہ گھٹنوں کے بل جھک جایا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 619]
اس کے بعد راوی نے طویل حدیث ذکر کی ہے، جس کے آخر میں انہوں نے یہ بات بیان کی ہے۔ ابوادریس نامی راوی جب اس حدیث کو بیان کرتے تھے، تو وہ گھٹنوں کے بل جھک جایا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 619]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2577، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 619، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7701، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11620، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21819» «رقم طبعة با وزير 618»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر التعليق. * [أَبُو مُسْهِرٍ] قال الشيخ: اسمه عبد الأعلى بن مِسهرٍ، وهو ثقة فاضل من رجال الشيخين، وكذلك سائرُ مَن فوقه؛ إلاَّ أَنَّ سعيدَ بن عبد العزيز - وهو التنوخيُّ - لم يُخرِّجْ له البخاريُّ في «صحيحه»، وكأَنَّ ذلك لأنَّ أبا مُسْهِرٍ نفسه قال عنه: «كان قد اختلطَ قَبلَ مَوتِه». وإذا كان كذلك؛ فإِنِّي أستبعدُ جدٍّا أن يكون أبُو مُسْهِرٍ روى عنه هذا الحديثَ في حَالِ اختلاطِه، ولعلَّ هذا وجهُ إِخراجِ مُسلمٍ لحديِثِه هذا مِنْ طَريقِ أبي مِسهرٍ عنه في «صحيحه» (8/ 17)، وكذلك المؤلِّف! ومِنْ طريقه: البخاريُّ في «الأدب المفرد» (490)، والحاكم (4/ 241) - وصححه على شرط الشيخين (! ) - والبيهقي في «السنن» (6/ 93)، و «الشعب» (5/ 405)، والطبراني في «مسند الشاميين» (1/ 193 / 338)، وعنه أبو نعيم في «الحلية» (5/ 125 - 126) - وقال: «صحيح ثابت» -، وابن عساكر في «التاريخ» (8/ 835 - 836)، وروى، عن أبي مسهر أنه قال: «ليس لأهل الشام أشرف من حديث أبي ذر». وللحديث طريق ثانٍ، عن قتادة، عن أبي قلابة، عن أبي أسماء، عن أبي ذرٍّ ... مختصراً. أخرجه أحمد (5/ 160)، وسنده صحيح على شرط مسلم. ثم أخرجه هو (5/ 154 و 117)، والبيهقي في «الشعب» (5/ 416 / 7089)، عن شهر بن حوشب، عن عبد الرحمن بن غنم، عن أبي ذر ... نحوه.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم غير حميد بن زنجويه، فقد روى له أبو داود والنسائي، وهو ثقة. أبو مسهر: هو عبد الأعلى بن مسهر الغساني.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 619 in Urdu
أبو إدريس الخولاني ← أبو ذر الغفاري