الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
72. باب بدء الخلق - ذكر تعيير بني إسرائيل كليم الله بأنه آدر-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر کہ بنی اسرائیل نے کلیم اللہ کو آدر کہہ کر طعن کیا
حدیث نمبر: 6211
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ بَنُو إِِسْرَائِيلَ يَغْتَسِلُونَ عُرَاةً، يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِِلَى سَوْأَةِ بَعْضٍ، وَكَانَ مُوسَى يَغْتَسِلُ وَحْدَهُ، قَالُوا: وَاللَّهِ مَا يَمْنَعُ مُوسَى أَنْ يَغْتَسِلَ مَعَنَا إِِلا أَنَّهُ آدَرُ، قَالَ: فَذَهَبَ مَرَّةً يَغْتَسِلُ، فَوَضَعَ ثوْبَهُ عَلَى حَجَرٍ، فَفَرَّ الْحَجَرُ بِثَوْبِهِ، فَاشْتَدَّ مُوسَى فِي أَثَرِهِ وَهُوَ يَقُولُ: ثَوْبِي حَجَرُ، ثَوْبِي حَجَرُ، حَتَّى نَظَرَتْ بَنُو إِِسْرَائِيلَ إِِلَى سَوْأَةِ مُوسَى، فَقَالُوا: وَاللَّهِ مَا بِمُوسَى مِنْ بَأْسٍ، فَقَامَ الْحَجَرُ بَعْدَ مَا نَظَرَ النَّاسُ إِِلَيْهِ، فَأَخَذَ ثَوْبَهُ، وَطَفِقَ بِالْحَجَرِ ضَرْبًا"، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَاللَّهِ إِِنَّ بِالْحَجَرِ نَدَبًا سِتَّةً أَوْ سَبْعَةً مِنْ ضَرْبِ مُوسَى الْحَجَرَ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بنی اسرائیل برہنہ ہو کر غسل کیا کرتے تھے وہ ایک دوسرے کی شرمگاہ کی طرف دیکھ لیا کرتے تھے سیدنا موسی علیہ السلام تنہا غسل کیا کرتے تھے ان لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم! سیدنا موسیٰ علیہ السلام ہمارے ساتھ صرف اس لیے غسل نہیں کرتے کیونکہ ان کے اندر کوئی عیب ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام غسل کرنے لگے اور اپنے کپڑے ایک پتھر پر رکھے، تو وہ پتھر ان کے کپڑے لے کر بھاگ کھڑا ہوا۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام اس کے پیچھے بھاگے وہ یہ کہہ رہے تھے اے پتھر میرے کپڑے اے پتھر میرے کپڑے، یہاں تک کہ بنی اسرائیل نے سیدنا موسیٰ کی شرمگاہ کو دیکھ لیا، تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! سیدنا موسیٰ علیہ السلام میں تو کوئی خرابی نہیں ہے، جب لوگوں نے انہیں دیکھ لیا تو پتھر بھی رک گیا۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اپنے کپڑے لیے اور اس پتھر کو مارنا شروع کیا۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! اس پتھر پر سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی ضرب کے چھ یا شاید سات نشان ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6211]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6178»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (3075): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
همام بن منبه اليماني ← أبو هريرة الدوسي