صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
81. باب بدء الخلق - ذكر وصف حال موسى حين لقي الخضر بعد فقد الحوت-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر وصف کہ موسیٰ کی حالت جب وہ مچھلی کے غائب ہونے کے بعد خضر سے ملا
حدیث نمبر: 6220
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ مِنْ كِتَابِهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَفِظْتُهُ مِنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: قُلْتُ لابْنِ عَبَّاسٍ : إِِنَّ نَوْفًا الْبَكَالِيَّ يَزْعُمُ أَنَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ لَيْسَ بِصَاحِبِ الْخَضِرِ، إِِنَّمَا هُوَ مُوسَى آخَرُ، قَالَ: كَذَبَ عَدُوُّ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " قَامَ مُوسَى فِي بَنِي إِِسْرَائِيلَ خَطِيبًا، فَقِيلَ لَهُ: أَيُّ النَّاسِ أَعْلَمُ؟، قَالَ: أَنَا، قَالَ: فَعَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ، إِِذْ لَمْ يَرُدَّ الْعِلْمَ إِِلَيْهِ، فَقَالَ: عَبْدٌ لِي بِمَجْمَعِ الْبَحْرَيْنِ هُوَ أَعْلَمُ مِنْكَ، قَالَ: أَيْ رَبِّ، فَكَيْفَ لِي بِهِ؟، قَالَ: تَأْخُذُ حُوتًا، فَتَجْعَلُهُ فِي مِكْتَلٍ، فَحَيْثُ مَا فَقَدْتَ الْحُوتَ فَهُوَ، ثَمَّ قَالَ: فَأَخَذَ الْحُوتَ، فَجَعَلَهُ فِي الْمِكْتَلِ، فَدَفَعَهُ إِِلَى فَتَاهُ، فَانْطَلَقَا حَتَّى أَتَيَا الصَّخْرَةَ، فَرَقَدَ مُوسَى، فَاضْطَرَبَ الْحُوتُ فِي الْمِكْتَلِ، فَخَرَجَ، فَوَقَعَ فِي الْبَحْرِ، فَأَمْسَكَ اللَّهُ عَلَيْهِ جَرْيَةَ الْمَاءِ، فَصَارَ مِثْلَ الطَّاقِ، فَكَانَ الْبَحْرُ لِلْحُوتِ سَرَبًا، وَلِمُوسَى وَلِفَتَاهُ عَجَبًا، فَانْطَلَقَا يَمْشِيَانِ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ، وَجَدَ مُوسَى النَّصَبَ، فَقَالَ: آتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًا سورة الكهف آية 62، قَالَ: وَلَمْ يَجِدِ النَّصَبَ حَتَّى جَاوَزَ الْمَكَانَ الَّذِي أَمَرَهُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا، فَقَالَ لَهُ فَتَاهُ: أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهُ إِلا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ سورة الكهف آية 63، قَالَ: ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا سورة الكهف آية 64، فَجَعَلا يَقُصَّانِ آثَارَهُمَا حَتَّى أَتَيَا الصَّخْرَةَ، فَإِِذَا رَجُلٌ مُسَجًّى عَلَيْهِ بِثَوْبٍ، فَسَلَّمَ، فَقَالَ: وَأَنَّى بِأَرْضِكَ السَّلامُ؟، قَالَ: أَنَا مُوسَى، قَالَ: مُوسَى بَنِي إِِسْرَائِيلَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: يَا مُوسَى، إِِنِّي عَلَى عِلْمٍ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ عَلَّمَنِيهِ اللَّهُ لا تَعْلَمُهُ، وَأَنْتَ عَلَى عِلْمٍ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ عَلَّمَكَهُ لا أَعْلَمُهُ، قَالَ: إِِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَتَّبِعَكَ عَلَى أَنْ تُعَلِّمَنِي مِمَّا عَلِمْتَ رُشْدًا، قَالَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَى مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْرًا قَالَ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا وَلا أَعْصِي لَكَ أَمْرًا قَالَ فَإِنِ اتَّبَعْتَنِي فَلا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا سورة الكهف آية 67 - 70، قَالَ: فَانْطَلَقَا يَمْشِيَانِ عَلَى السَّاحِلِ، فَمَرَّتْ بِهِ سَفِينَةٌ، فَعَرَفُوا الْخَضِرَ، فَحَمَلُوهُ بِغَيْرِ نَوْلٍ، قَالَ: فَلَمْ يَفْجَأْ مُوسَى إِِلا وَهُوَ يُنْزِلُ لَوْحًا مِنْ أَلْوَاحِ السَّفِينَةِ، فَقَالَ لَهُ مُوسَى: مَا صَنَعْتَ؟ قَوْمٌ حَمَلُوكَ بِغَيْرِ نَوْلٍ عَمَدْتَ إِِلَى سَفِينَتِهِمْ، فَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا إِمْرًا قَالَ أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا قَالَ لا تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ وَلا تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْرًا سورة الكهف آية 72 - 73، قَالَ: فَكَانَتِ الأُولَى مِنْ مُوسَى نِسْيَانًا، قَالَ: وَجَاءَ عُصْفُورٌ، فَوَقَعَ عَلَى حَرْفِ السَّفِينَةِ، فَنَقَرَ بِمِنْقَارِهِ فِي الْبَحْرِ، فَقَالَ الْخَضِرُ لِمُوسَى: مَا نَقَصَ عِلْمِي وَعَلَّمُكَ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ إِِلا مِثْلَ مَا نَقَصَ هَذَا الْعُصْفُورُ بِمِنْقَارِهِ مِنَ الْبَحْرِ، قَالَ: وَمَرُّوا عَلَى غِلْمَانٍ يَلْعَبُونَ، فَقَالَ الْخَضِرُ لِغُلامٍ مِنْهُمْ بِيَدِهِ هَكَذَا، فَاقْتَلَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ لَهُ مُوسَى: أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُكْرًا قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا قَالَ إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلا تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْرًا سورة الكهف آية 76، قَالَ:" فَأَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ"، فَقَالَ الْخَضِرُ بِيَدِهِ هَكَذَا، فَأَقَامَهُ، فَقَالَ لَهُ مُوسَى: اسْتَطْعَمْنَاهُمْ، فَأَبَوْا أَنْ يُطْعِمُونَا، وَاسْتَضَفْنَاهُمْ، فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُونَا، عَمَدْتَ إِِلَى حَائِطِهِمْ، فَأَقَمْتَهُ! لَوْ شِئْتَ لاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا قَالَ هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ سَأُنَبِّئُكَ بِتَأْوِيلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَلَيْهِ صَبْرًا سورة الكهف آية 78 - 78، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَدِدْنَا أَنْ مُوسَى كَانَ صَبَرَ حَتَّى يَقُصَّ عَلَيْنَا مِنْ أَمْرِهِمْ" ، وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقْرَأُ: وَأَمَّا الْغُلامُ كَانَ كَافِرًا وَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ، وَيَقْرَأُ: وَكَانَ أَمَامَهُمْ مَلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ صَالِحَةٍ غَصْبًا.
سعید بن جبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: نوف بکالی یہ کہتا ہے کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام وہ والے موسیٰ نہیں ہیں جن کی ملاقات سیدنا خضر علیہ السلام سے ہوئی تھی (سیدنا خضر علیہ السلام سے ملنے والے موسیٰ) دوسرے موسیٰ تھے، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ کے دشمن نے غلط بیانی کی ہے۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے ہمیں یہ حدیث سنائی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک مرتبہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل میں کھڑے خطبہ دے رہے تھے، ان سے دریافت کیا گیا کہ کون سا شخص سب سے زیادہ علم رکھتا ہے؟ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا: میں، تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب کیا کہ انہوں نے اس بات کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کیوں نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ پر میرا ایک بندہ ہے وہ تم سے زیادہ علم رکھتا ہے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی: اے میرے پروردگار! میں اس سے کیسے مل سکتا ہوں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم ایک مچھلی لے کر اسے ایک برتن میں رکھو، جس جگہ تم مچھلی کو گم کر دو گے وہ بندہ وہاں ہو گا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے مچھلی لی اور اسے ایک برتن میں رکھ دیا۔ وہ برتن انہوں نے اپنے ساتھی کے سپرد کر دیا، یہ دونوں حضرات روانہ ہو گئے، یہاں تک کہ یہ دونوں چٹان کے پاس آئے، وہاں سیدنا موسیٰ علیہ السلام سو گئے، مچھلی نے برتن میں حرکت کی، اس سے باہر نکلی اور دریا میں چلی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے پانی کے بہاؤ کو روک دیا اور وہ طاق کی مانند ہو گیا۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی نوجوان حیران ہوئے۔ یہ دونوں حضرات پھر آگے روانہ ہو گئے۔ اگلے دن سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو تھکاوٹ محسوس ہوئی تو انہوں نے کہا: ہمارا کھانا لے کر آؤ، ہمیں اس سفر میں تھکاوٹ محسوس ہو رہی ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”انہیں تھکاوٹ اس وقت تک محسوس نہیں ہوئی تھی، جب تک وہ اس مقام سے آگے نہیں گزر گئے تھے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا تھا۔ ان کے ساتھی نے ان سے کہا: کیا آپ نے ملاحظہ فرمایا جب ہم چٹان کی پناہ میں گئے تھے تو میں مچھلی کو بھول گیا تھا اور مجھے شیطان نے یہ بات بھلا دی کہ میں اس کا ذکر کرتا؟ اس پر سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا: ہم وہی جگہ تو چاہتے تھے، پھر یہ دونوں حضرات الٹے قدموں واپس آئے، یہ اپنے قدموں کے نشانات دیکھتے ہوئے واپس آئے، یہاں تک کہ اس چٹان تک آ گئے۔ وہاں ایک شخص اپنے اوپر چادر اوڑھ کر لیٹا ہوا تھا۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اسے سلام کیا تو اس شخص نے کہا: اس جگہ پر سلام کہاں سے آ گیا؟ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: میں موسیٰ ہوں۔ اس نے دریافت کیا: بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والے موسیٰ؟ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا: جی ہاں۔ اس نے کہا: اے موسیٰ! مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسا علم ملا ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کیا ہے، آپ اس بارے میں کچھ نہیں جانتے اور آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسا علم ملا ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ہے، میں اس سے واقف نہیں ہوں۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا: میں آپ کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں کہ آپ مجھے اس چیز کی تعلیم دیں جو آپ کو ہدایت کا علم عطا کیا گیا ہے، تو اس شخص نے کہا: آپ میرے ساتھ رہ کر صبر سے کام نہیں لے سکیں گے، اور آپ اس چیز پر کیسے صبر کر سکتے ہیں جس کے بارے میں آپ کو معلوم ہی نہیں ہے؟ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے، میں کسی معاملے میں آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ سیدنا خضر علیہ السلام نے کہا: اگر آپ میری پیروی کرنا چاہتے ہیں تو پھر آپ نے مجھ سے کسی بھی چیز کے بارے میں اس وقت تک دریافت نہیں کرنا جب تک میں خود اس بارے میں آپ کے سامنے ذکر نہیں کر دیتا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پھر یہ دونوں حضرات دریا کے کنارے روانہ ہو گئے۔ وہاں سے ایک کشتی گزری، ان لوگوں نے سیدنا خضر علیہ السلام کو پہچان لیا اور کسی معاوضے کے بغیر انہیں کشتی میں سوار کر لیا۔ کچھ ہی دیر بعد سیدنا خضر علیہ السلام نے اس کشتی کی ایک تختی توڑ دی، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا: یہ آپ نے کیا کیا ہے؟ انہوں نے کسی معاوضے کے بغیر آپ کو سوار کیا اور آپ نے ان کی کشتی کی تختی توڑ دی ہے تاکہ کشتی والے ڈوب جائیں، آپ نے غلط کام کیا ہے۔ سیدنا خضر علیہ السلام نے کہا: کیا میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر صبر سے کام نہیں لیں گے؟ تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا: میں جو بات بھول گیا تھا، آپ اس بارے میں میرا مواخذہ نہ کریں اور میرے معاملے میں تنگی پیدا نہ کریں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”یہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی طرف سے پہلی (خلاف ورزی تھی) جو بھولنے کی وجہ سے تھی۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اسی دوران ایک چڑیا آئی اور اس کشتی کے کنارے پر بیٹھ گئی۔ اس نے اپنی چونچ پانی میں ڈالی تو سیدنا خضر علیہ السلام نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے کہا: میرا علم اور آپ کا علم اللہ تعالیٰ کے علم کے مقابلے میں وہ حیثیت بھی نہیں رکھتے جو اس چڑیا نے اپنی چونچ کے ذریعے سمندر کے پانی سے لی ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ان حضرات کا گزر کچھ لڑکوں کے پاس سے ہوا جو کھیل رہے تھے، سیدنا خضر علیہ السلام نے ان میں سے ایک لڑکے کو اپنے ہاتھ سے قتل کر دیا، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا: آپ نے ایک پاکیزہ جان کو کسی جان کے بدلے کے بغیر قتل کر دیا ہے، آپ نے سخت ناپسندیدہ حرکت کی ہے، تو سیدنا خضر علیہ السلام نے کہا: کیا میں نے آپ سے یہ نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر ہرگز صبر نہیں کر سکیں گے؟ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اگر اس کے بعد میں نے آپ سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کیا تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیے گا، آپ کو میری طرف سے عذر پہنچ گیا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”یہ دونوں حضرات ایک بستی میں آئے اور وہاں کے رہنے والوں سے کھانے کے لیے مانگا، تو انہوں نے ان دونوں کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا۔ ان دونوں حضرات نے اس بستی میں ایک دیوار پائی جو گرنے کے قریب تھی، سیدنا خضر علیہ السلام نے اپنے ہاتھ کے ذریعے سہارا دے کر اسے سیدھا کر دیا، تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا: ہم نے ان لوگوں سے کھانا مانگا، انہوں نے ہمیں کھلانے سے انکار کر دیا، ہم نے انہیں مہمان نوازی کے لیے کہا تو انہوں نے ہماری مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا، حالانکہ آپ نے ان لوگوں کی دیوار ٹھیک کر دی ہے، اگر آپ چاہتے تو ان سے اس کا معاوضہ لے سکتے تھے۔ سیدنا خضر علیہ السلام نے کہا: یہ میرے اور آپ کے درمیان جدائی کا وقت ہے۔ میں آپ کو ان چیزوں کی حقیقت کے بارے میں بتاتا ہوں جن پر آپ صبر سے کام نہیں لے سکے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہماری خواہش تھی کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام صبر سے کام لیتے تاکہ ان حضرات کے واقعے کے بارے میں مزید چیزیں ہمارے سامنے آ جاتیں۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما یوں تلاوت کیا کرتے تھے: ”جہاں تک لڑکے کا تعلق ہے وہ کافر تھا اور اس کے ماں باپ مومن تھے۔“ اور وہ یوں تلاوت کیا کرتے تھے: ”اور ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر (صحیح و سالم) کشتی کو غصب کر لیتا تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6220]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 74، 78، 122، 2267، 2728، 3278، 3400، 3401، 4725، 4726، 4727، 6672، 7478، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2380، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 102، 988، 6220، 6221، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3414، 4117، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5813، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3984، 4705، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3149، 3150، 3385، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21497، والحميدي فى (مسنده) برقم: 375» «رقم طبعة با وزير 6187»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 6220 in Urdu
عبد الله بن العباس القرشي ← أبي بن كعب الأنصاري