صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
115. باب بدء الخلق - ذكر الخبر الدال على صحة ما تأولنا قوله صلى الله عليه وسلم حدثوا عن بني إسرائيل ولا حرج-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر جو ہماری تاویل کی صحت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل کے بارے میں بتاؤ اور کوئی حرج نہیں
حدیث نمبر: 6257
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ نَمْلَةَ بْنَ أَبِي نَمْلَةَ الأَنْصَارِيّ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا نَمْلَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ، فَقَالَ: هَلْ تَكَلَّمَ هَذِهِ الْجِنَازَةُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُ أَعْلَمُ"، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: أَنَا أَشْهَدُ أَنَّهَا تَتَكَلَّمُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا حَدَّثَكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ، فَلا تُصَدِّقُوهُمْ وَلا تُكَذِّبُوهُمْ، وَقَالُوا: آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَلائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ، فَإِِنْ كَانَ حَقًّا، لَمْ تُكَذِّبُوهُمْ، وَإِِنْ كَانَ بَاطِلا، لَمْ تُصَدِّقُوهُمْ"، وَقَالَ:" قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ، لَقَدْ أُوتُوا عِلْمًا" .
سیدنا ابونملہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اسی دوران ایک یہودی آیا اور بولا: کیا یہ میت گفتگو کرے گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ بہتر جانتا ہے۔ اس یہودی نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں یہ گفتگو کرتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل کتاب تمہیں جو بات بتائیں تم ان کی تصدیق بھی نہ کرو اور انہیں جھوٹا بھی قرار نہ دو لوگوں نے کہا: ہم اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں اگر یہ بات سچ ہو گی، تو تم اسے جھٹلاؤ گے نہیں اور اگر جھوٹی ہو گی تو تم اس کی تصدیق نہیں کرو گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ یہودیوں کو برباد کرے انہیں علم عطا کیا گیا، لیکن (وہ پھر بھی گمراہ رہے) [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6257]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6224»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (2800).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي
الرواة الحديث:
نملة بن أبي نملة الأنصاري ← عمر بن معاذ الأنصاري