صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
129. باب بدء الخلق - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن النبي صلى الله عليه وسلم كان على دين قومه قبل أن يوحى إليه-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وحی سے پہلے اپنی قوم کے دین پر تھے
حدیث نمبر: 6272
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا هَمَمْتُ بِقَبِيحٍ مِمَّا يَهُمُّ بِهِ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ إِِلا مَرَّتَيْنِ مِنَ الدَّهْرِ، كِلْتَاهُمَا عَصَمَنِي اللَّهُ مِنْهُمَا، قُلْتُ لَيْلَةً لِفَتًى كَانَ مَعِي مِنْ قُرَيْشٍ بِأَعْلَى مَكَّةَ فِي غَنَمٍ لأَهْلِنَا نَرْعَاهَا: أَبْصِرْ لِي غَنَمِي حَتَّى أَسْمُرَ هَذِهِ اللَّيْلَةَ بِمَكَّةَ كَمَا يَسْمُرُ الْفِتْيَانُ، قَالَ: نَعَمْ، فَخَرَجْتُ، فَلَمَّا جِئْتُ أَدْنَى دَارٍ مِنْ دُورِ مَكَّةَ سَمِعْتُ غِنَاءً، وَصَوْتَ دُفُوفٍ، وَمَزَامِيرَ، قُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: فُلانٌ تَزَوَّجَ فُلانَةَ، لِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشِ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ قُرَيْشٍ، فَلَهَوْتُ بِذَلِكَ الْغِنَاءِ، وَبِذَلِكَ الصَّوْتِ حَتَّى غَلَبَتْنِي عَيْنِي، فَنِمْتُ، فَمَا أَيْقَظَنِي إِِلا مَسُّ الشَّمْسِ، فَرَجَعْتُ إِِلَى صَاحِبِي، فَقَالَ: مَا فَعَلْتَ؟ فَأَخْبَرْتُهُ، ثُمَّ فَعَلْتُ لَيْلَةً أُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، فَخَرَجْتُ، فَسَمِعْتُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقِيلَ لِي: مِثْلُ مَا قِيلَ لِي، فَسَمِعْتُ كَمَا سَمِعْتُ، حَتَّى غَلَبَتْنِي عَيْنِي، فَمَا أَيْقَظَنِي إِِلا مَسُّ الشَّمْسِ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِِلَى صَاحِبِي، فَقَالَ لِي: مَا فَعَلْتَ؟ فَقُلْتُ: مَا فَعَلْتُ شَيْئًا"، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَوَاللَّهِ، مَا هَمَمْتُ بَعْدَهُمَا بِسُوءٍ مِمَّا يَعْمَلُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ، حَتَّى أَكْرَمَنِي اللَّهُ بِنُبُوَّتِهِ" .
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میں نے کبھی بھی کسی ایسی برائی کرنے کا ارادہ نہیں کیا جو زمانہ جاہلیت کے لوگ کیا کرتے تھے، البتہ دو مرتبہ ارادہ کیا دونوں مرتبہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بچا لیا۔ (پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا) ایک مرتبہ میں ایک قریشی نوجوان کے ساتھ اپنے گھر والوں کی بکریاں مکہ کے بالائی حصے میں چرا رہا تھا۔ میں نے اپنے ساتھی نوجوان سے کہا: تم نے آج میری بکریوں کا دھیان رکھنا ہے۔ آج رات میں مکہ میں یوں بسر کروں گا، جس طرح نوجوان گزارتے ہیں۔ اس نے کہا: ٹھیک ہے۔ میں وہاں سے روانہ ہوا جب میں مکہ کے آخری کونے میں موجود گھر کے پاس پہنچا، تو وہاں مجھے گانے اور دف بجانے اور موسیقی کے آلات کی آواز آئی۔ میں نے دریافت کیا یہ کیا ہے، تو لوگوں نے بتایا۔ فلاں شخص نے فلاں عورت کے ساتھ شادی کی ہے۔ انہوں نے قریش کے ایک شخص کی قریش کی ایک خاتون کے ساتھ شادی کرنے کے بارے میں بتایا، میں اس گانے اور آواز کو سننے لگا۔ اسی دوران میری آنکھ لگ گئی۔ میں سو گیا، مجھے دھوپ کی تپش نے بیدار کیا، میں اپنے ساتھی کے پاس واپس آیا۔ اس نے دریافت کیا تم نے کیا کیا، میں نے اسے اس بارے میں بتایا پھر دوسری رات بھی اسی طرح ہوا، میں وہاں سے روانہ ہوا۔ میں نے اسی طرح کی آواز سنی۔ مجھے کہا: گیا وہی بات جو پہلے کہی گئی تھی میں نے اسی طرح کی آواز سنی جس طرح پہلے سنی تھی، یہاں تک کہ میری آنکھ لگ گئی تو پھر مجھے سورج کی تپش نے بیدار کیا، میں پھر اپنے ساتھی کے پاس آیا۔ اس نے دریافت کیا تم نے کیا کیا میں نے کہا: میں نے کچھ نہیں کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! اس کے بعد میں نے کبھی کسی برائی کا ارادہ نہیں کیا۔ ایسی برائی جو زمانہ جاہلیت کے لوگ کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی نبوت کے ذریعے مجھے سرفراز کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6272]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6239»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «تخريج فقه السيره» (70).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
الرواة الحديث:
محمد بن الحنفية الهاشمي ← علي بن أبي طالب الهاشمي