🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
218. باب من صفته صلى الله عليه وسلم وأخباره - ذكر خبر أوهم عالما من الناس أن أصحاب الحديث يصححون من الأخبار ما لا يعقلون معناها-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر خبر جو کسی عالم کو یہ وہم دلاتی ہے کہ اہل حدیث ایسی خبروں کو صحیح مانتے ہیں جن کے معنی وہ نہیں سمجھتے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6366
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ : " مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى حَلَّ لَهُ مِنَ النِّسَاءِ مَا شَاءَ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُرِّمَ عَلَيْهِ النِّسَاءُ مُدَّةً، ثُمَّ أُحِلَّ لَهُ مِنَ النِّسَاءِ قَبْلَ مَوْتِهِ تَفَضُّلا تُفُضِّلَ عَلَيْهِ حَتَّى لا يَكُونَ بَيْنَ الْخَبَرِ وَالْكِتَابِ تَضَادُّ وَلا تَهَاتِرُ، وَالَّذِي يَدُلُّ عَلَى هَذَا قَوْلُ عَائِشَةَ: مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى حَلَّ لَهُ مِنَ النِّسَاءِ، أَرَادَتْ بِذَلِكَ: إِِبَاحَةً بَعْدَ حَظْرٍ مُتَقَدِّمٍ عَلَى مَا ذَكَرْنَا.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس وقت تک وصال نہیں ہوا جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے چیز حلال قرار نہیں دی گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جتنی چاہیں شادیاں کر سکتے ہیں۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس بات کا احتمال موجود ہے کہ پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مخصوص تعداد سے زیادہ خواتین کے ساتھ شادی کرنے کو ممنوع قرار دیا گیا ہو اور پھر آپ کے وصال سے پہلے (کسی بھی متعین تعداد کے بغیر) خواتین کے ساتھ شادی کرنا حلال قرار دیدیا گیا ہو۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کیا جانے والا خصوصی فضل تھا۔ اس صورت میں حدیث اور کتاب اللہ کے درمیان کوئی تضاد اور اختلاف باقی نہیں رہے گا اور اس بات پر دلالت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ قبول کرتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال اس وقت تک نہیں ہوا، جب تک آپ کے لئے (کسی متعین تعداد کے بغیر) خواتین (کے ساتھ شادی کرنا) حلال قرار نہیں دیدیا گیا، تو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی اس کے ذریعے مراد یہ ہے: یہ ایک ایسی اباحت تھی جو اس سے پہلے موجود ممنوعیت کے بعد آئی جیسا کہ ہم پہلے ذکر چکے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6366]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6332»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (3224).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عبيد بن عمير الجندعي، أبو عاصم
Newعبيد بن عمير الجندعي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥عطاء بن أبي رباح القرشي، أبو محمد
Newعطاء بن أبي رباح القرشي ← عبيد بن عمير الجندعي
ثبت رضي حجة إمام كبير الشأن
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← عطاء بن أبي رباح القرشي
ثقة
👤←👥عبد الله بن رجاء المكي، أبو عمران
Newعبد الله بن رجاء المكي ← ابن جريج المكي
ثقة تغير حفظه قليلا
👤←👥أحمد بن عبدة الضبي، أبو عبد الله
Newأحمد بن عبدة الضبي ← عبد الله بن رجاء المكي
ثقة
👤←👥ابن خزيمة السلمي، أبو بكر
Newابن خزيمة السلمي ← أحمد بن عبدة الضبي
ثقة حجة