علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
297. باب الحوض والشفاعة - ذكر خبر أوهم من لم يحكم صناعة الحديث أنه مضاد لخبر أنس بن مالك الذي ذكرناه-
حوضِ کوثر اور شفاعت (سفارش) کا بیان - ذکر خبر جو حدیث کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ انس بن مالک کی ہمارے ذکر کردہ خبر کے خلاف ہے
حدیث نمبر: 6449
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرَ مُكْرَمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَنَا فَرَطُكُمْ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ، فَإِِنْ لَمْ تَجِدُونِي، فَأَنَا عَلَى الْحَوْضِ مَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِِلَى مَكَّةَ، وَسَيَأْتِي رِجَالٌ وَنِسَاءٌ بِآنِيَةٍ وَقِرَبٍ ثُمَّ لا يَذُوقُونَ مِنْهُ شَيْئًا" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَسَيَأْتِي رِجَالٌ وَنِسَاءٌ بِآنِيَةٍ وَقِرَبٍ ثُمَّ لا يَذُوقُونَ مِنْهُ شَيْئًا"، أُرِيدَ بِهِ: مِنْ سَائِرِ الأُمَمِ الَّذِينَ قَدْ غُفِرَ لَهُمْ، يَجِيئُونَ بِأَوَانِي لِيَسْتَقُوا بِهَا مِنَ الْحَوْضِ، فَلا يُسْقَوْنَ مِنْهُ، لأَنَّ الْحَوْضَ لِهَذِهِ الأُمَّةِ خَاصٌّ دُونَ سَائِرِ الأُمَمِ، إِِذْ مُحَالٌ أَنْ يَقْدِرَ الْكَافِرُ وَالْمُنَافِقُ عَلَى حَمْلِ الأَوَانِي وَالْقِرَبِ فِي الْقِيَامَةِ، لأَنَّهُمْ يُسَاقُونَ إِِلَى النَّارِ، نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ.
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میں تمہارے آگے تمہارا پیش رو ہوں گا اگر تم مجھے نہ پاؤ، تو میں حوض (کوثر) کے پاس موجود ہوں گا، جو ایلہ سے لے کر مکہ تک کے فاصلے جتنا بڑا ہے۔ عنقریب کچھ مرد اور عورتیں برتن اور مشکیزے لے کر آئیں گے، لیکن وہ اس حوض میں سے کچھ بھی چکھ نہیں سکیں گے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: عنقریب کچھ مرد اور کچھ عورتیں برتن اور مشکیزے لے کر آئیں گے اور پھر وہ اس میں سے کچھ بھی چکھ نہیں سکیں گے۔ اس کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے دیگر امتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ آئیں گے ان کی مغفرت ہو چکی ہو گی۔ وہ برتن لے کر آئیں گے تاکہ وہ اس حوض سے سیراب ہوں، لیکن وہ اس سے سیراب نہیں ہوں گے کیونکہ وہ حوض اس امت کے لیے مخصوص ہے۔ دیگر امتوں کے لیے نہیں ہے۔ یہ بات ناممکن ہے کہ کوئی کافر یا منافق شخص قیامت کے دن برتن اور مشکیزے حاصل کرنے پر قادر ہو جائے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں کو تو قیامت کے دن جہنم کی طرف ہانک کر لے جایا جائے گا، ہم جہنم سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6449]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6449، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14946، 15352، 15353، والبزار فى (مسنده) برقم: 2975، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 749، 9070» «رقم طبعة با وزير 6415»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «ظلال الجنة» (771).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 6449 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري