صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
322. باب الحوض والشفاعة - ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم حافتاه من اللؤلؤ أراد به قباب اللؤلؤ المجوف-
حوضِ کوثر اور شفاعت (سفارش) کا بیان - ذکر بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "اس کے کنارے موتیوں سے ہیں" سے مراد موتیوں کے خالی گنبد ہیں
حدیث نمبر: 6474
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَ قَالَ: " بَيْنَا أَنَا أَسِيرُ فِي الْجَنَّةِ إِِذْ عَرَضَ لِي نَهَرٌ، حَافَّتَاهُ قِبَابُ اللُّؤْلُؤِ الْمُجَوَّفِ، فَقَالَ الْمَلَكُ الَّذِي مَعَهُ: أَتَدْرِي مَا هَذَا؟ هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ رَبُّكَ، وَضَرَبَ بِيَدِهِ إِِلَى أَرْضِهِ، فَأَخْرَجَ مِنْ طِينِهِ الْمِسْكَ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایک مرتبہ میں جنت میں جا رہا تھا۔ اسی دوران میرے سامنے ایک نہر آئی۔ جس کے دونوں کناروں پر اندر سے خالی موتیوں کے بنے ہوئے خیمے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود فرشتے نے کہا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات جانتے ہیں کہ یہ کیا ہے؟ یہ وہ کوثر ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پروردگار نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کی ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک زمین سے لگایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مٹی کو اٹھایا تو وہ مشک کی طرح کی تھی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6474]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6440»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
قتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري