صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
349. باب المعجزات - ذكر الإخبار عن هبوب ريح شديدة قبل أن تهب-
معجزاتِ کا بیان - ذکر خبر کہ تیز ہوا چلنے سے پہلے اس کے بارے میں بتایا گیا
حدیث نمبر: 6501
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِلَى تَبُوكَ حَتَّى أَتَى وَادِيَ الْقُرَى، فَإِِذَا امْرَأَةٌ فِي حَدِيقَةٍ لَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اخْرُصُوا"، فَخَرَصَ الْقَوْمُ عَشَرَةَ أَوْسُقٍ، وَقَالَ لِلْمَرْأَةِ: " أَحْصِي مَا يَخْرُجُ مِنْهَا حَتَّى أَرْجِعَ إِِلَيْكِ"، فَسَارَ حَتَّى أَتَى تَبُوكَ، فَقَالَ:" إِِنَّهُ سَيَأْتِيكُمُ اللَّيْلَةَ رِيحٌ شَدِيدَةٌ، فَلا يَقُومَنَّ فِيهَا أَحَدٌ، وَمَنْ كَانَ لَهُ بَعِيرٌ فَلْيُوثِقْ عِقَالَهُ"، فَهَبَّتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ، فَلَمْ يَقُمْ فِيهَا إِِلا رَجُلٌ وَاحِدٌ، فَأَلْقَتْهُ فِي جَبَلِ طَيِّئٍ، قَالَ: فَأَتَاهُ مَلِكُ أَيْلَةَ، وَأَهْدَى لَهُ بَغْلَةً بَيْضَاءَ، وَكَسَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِدَاءَهُ، فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى وَادِيَ الْقُرَى، فَقَالَ لِلْمَرْأَةِ:" كَمْ جَاءَتْ حَدِيقَتُكِ؟"، قَالَتْ: عَشَرَةُ أَوْسُقٍ خَرْصَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِِنِّي مُسْتَعْجِلٌ، مَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَتَعَجَّلَ مَعِي فَلْيَفْعَلْ"، فَسَارَ حَتَّى إِِذَا أَوْفَى عَلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ:" هَذِهِ طَيْبَةُ أَوْ طَابَةُ"، فَلَمَّا رَأَى أُحُدًا قَالَ:" هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ"، ثُمَّ قَالَ:" أَلا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الأَنْصَارِ؟"، قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" خَيْرُ دُورِ الأَنْصَارِ بَنُو النَّجَّارِ، أَلا أُخْبِرُكُمْ بِالَّذِينَ يَلُونَهُمْ؟"، قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" بَنُو سَاعِدَةَ، وَبَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ" .
سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تبوک کی طرف روانہ ہوئے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وادی قریٰ میں پہنچے تو وہاں ایک عورت اپنے باغ میں موجود تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تم اس باغ کی پیداوار) کا اندازہ لگاؤ، تو لوگوں نے اندازہ لگایا کہ اس کی پیداوار دس وسق ہو گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے فرمایا اس کی جو پیداوار ہو گی تم اسے شمار کر لینا، ہم واپس تمہارے پاس آئیں گے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے روانہ ہوئے یہاں تک کہ آپ تبوک تشریف لے آئے آپ نے ارشاد فرمایا: آج رات تم پر تیز ہوا چلے گی۔ اس ہوا میں کوئی شخص کھڑا ہرگز نہ ہو، جس شخص کا اونٹ ہے وہ اس کی رسی کو باندھ دے، تیز ہوا چلی تو کوئی شخص اس میں کھڑا نہیں ہوا۔ صرف ایک شخص کھڑا ہوا تھا۔ ہوانے اسے جبل طے کے اوپر پھینک دیا۔
راوی بیان کرتے ہیں: وہاں ایلہ کا حکمران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے ایک سفید خچر آپ کو تحفے کے طور پر پیش کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر اسے پہننے کے لئے دی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے اور آپ وادی قریٰ پہنچے تو آپ نے اس خاتون سے دریافت کیا: تمہارے باغ میں کتنی پیداوار ہوئی۔ اس نے جواب دیا: دس وسق۔ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اندازے کے بالکل مطابق تھی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں جلدی جانا چاہتا ہوں تم میں سے جو شخص میرے ساتھ جلدی جانا چاہتا ہو وہ ایسا کر لے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے، یہاں تک کہ جب آپ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو آپ نے ارشاد فرمایا: یہ طیبہ ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) یہ طابہ ہے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احد پہاڑ کو دیکھا تو آپ نے ارشاد فرمایا: یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں انصار کے بہترین گھرانوں کے بارے میں نہ بتاؤں۔ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انصار کا سب سے بہتر گھرانہ بنو نجار ہیں۔ کیا میں تمہیں ان کے بعد والوں کے بارے میں نہ بتاؤں۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ان کے بعد) بنو ساعدہ اور بنو حارث بن خزرج ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6501]
راوی بیان کرتے ہیں: وہاں ایلہ کا حکمران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے ایک سفید خچر آپ کو تحفے کے طور پر پیش کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر اسے پہننے کے لئے دی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے اور آپ وادی قریٰ پہنچے تو آپ نے اس خاتون سے دریافت کیا: تمہارے باغ میں کتنی پیداوار ہوئی۔ اس نے جواب دیا: دس وسق۔ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اندازے کے بالکل مطابق تھی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں جلدی جانا چاہتا ہوں تم میں سے جو شخص میرے ساتھ جلدی جانا چاہتا ہو وہ ایسا کر لے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے، یہاں تک کہ جب آپ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو آپ نے ارشاد فرمایا: یہ طیبہ ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) یہ طابہ ہے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احد پہاڑ کو دیکھا تو آپ نے ارشاد فرمایا: یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں انصار کے بہترین گھرانوں کے بارے میں نہ بتاؤں۔ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انصار کا سب سے بہتر گھرانہ بنو نجار ہیں۔ کیا میں تمہیں ان کے بعد والوں کے بارے میں نہ بتاؤں۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ان کے بعد) بنو ساعدہ اور بنو حارث بن خزرج ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6501]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6467»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «تخريج فقه السيرة» (271): ق، ومضى برقم (4486). تنبيه!! رقم (4486) = (4503) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
العباس بن سهل الأنصاري ← عبد الرحمن بن سعد الساعدي