صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
386. باب المعجزات - ذكر بركة الله جل وعلا في الماء اليسير حتى انتفع به الخلق الكثير بدعاء المصطفى صلى الله عليه وسلم-
معجزاتِ کا بیان - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے تھوڑے سے پانی میں برکت دی حتیٰ کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے بہت سے لوگوں نے اس سے فائدہ اٹھایا
حدیث نمبر: 6538
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُنِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ حَضَرَتْ صَلاةُ الْعَصْرِ، وَلَيْسَ مَعَنَا مَاءٌ غَيْرُ فَضْلَةٍ، فَجُعِلَ فِي إِِنَاءٍ، فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَدْخَلَ يَدَهُ، وَفَرَّجَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، وَقَالَ: " حَيَّ عَلَى الْوَضُوءِ وَالْبَرَكَةِ مِنَ اللَّهِ"، قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْفَجِرُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَتَوَضَّأَ نَاسٌ، وَشَرِبُوا، قَالَ: فَجَعَلْتُ لا آلُو مَا جَعَلْتُ فِي بَطْنِي مِنْهُ، وَعَلِمْتُ أَنَّهُ بَرَكَةٌ ، قَالَ: فَقُلْتُ لِجَابِرٍ: كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: أَلْفٌ وَأَرْبَعُ مِائَةٍ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا عصر کی نماز کا وقت ہو گیا۔ ہمارے پاس پانی نہیں تھا صرف بچا ہوا (تھوڑا سا) پانی تھا۔ اسے ایک برتن میں ڈال دیا گیا پھر وہ برتن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس کے اندر داخل کیا۔ آپ نے اپنی انگلیوں کو کشادہ کیا اور ارشاد فرمایا: وضو کے پانی کی طرف آ جاؤ۔ برکت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ راوی کہتے ہیں: تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے پانی کو پھوٹتے ہوئے دیکھا۔ راوی کہتے ہیں: تو لوگوں نے وضو کیا اور انہوں نے پانی پیا بھی۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے اس بات کی بھرپور کوشش کی کہ وہ پانی زیادہ سے زیادہ اپنے پیٹ میں ڈال سکوں کیونکہ مجھے اس بات کا علم تھا کہ یہ برکت والا ہے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: اس دن آپ لوگوں کی تعداد کتنی تھی۔ انہوں نے جواب دیا۔ ایک ہزار چار سو (افراد تھے) [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6538]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6504»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ (5639)، م (1856).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
سالم بن أبي الجعد الأشجعي ← جابر بن عبد الله الأنصاري