صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
397. باب تبليغه صلى الله عليه وسلم الرسالة وما لقي من قومه - ذكر تمثيل المصطفى صلى الله عليه وسلم إنذار عشيرته بما مثل به-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغامِ رسالت پہنچانے اور اپنی قوم سے پیش آنے والے حالات کا بیان - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قریبی قوم کو انذار کی مثال ایسی دی جو انہوں نے بیان کی
حدیث نمبر: 6550
أَخْبَرَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ بْنِ إِِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ: وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214، وَرَهْطَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ، قَالَ: وَهُنَّ فِي قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ، خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى الصَّفَا، فَصَعِدَ عَلَيْهَا، ثُمَّ نَادَى:" يَا صَبَاحَاهُ"، فَاجْتَمَعَ النَّاسُ إِِلَيْهِ، فَبَيْنَ رَجُلٍ يَجِيءُ، وَبَيْنَ رَجُلٍ يَبْعَثُ رَسُولَهُ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، يَا بَنِي فِهْرٍ، يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، يَا بَنِي، يَا بَنِي، أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ خَيْلًَا بِسَفْحِ هَذَا الْجَبَلِ تُرِيدُ أَنْ تُغِيرَ عَلَيْكُمْ أَصَدَّقْتُمُونِي؟"، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" فَإِِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ"، فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ: تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ، أَمَا دَعَوْتُمُونَا إِِلا لِهَذَا، ثُمَّ قَامَ، فَنَزَلَتْ: تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ سورة المسد آية 1، وَقَدْ تُبَّ ، وَقَالُوا: مَا جَرَّبْنَا عَلَيْكَ كَذِبًا.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی: ”اور تم اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت میں یہ الفاظ بھی ہیں ”اور ان میں سے اپنے مخلص گروہ کو (ڈراؤ)۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے۔ آپ صفا پہاڑ کے پاس آئے۔ آپ اوپر چڑھ گئے پھر آپ نے پکارا ”خطرہ ہے۔“ لوگ آپ کے اردگرد اکٹھے ہو گئے۔ کوئی شخص خود آ گیا۔ کسی نے اپنے قاصد کو بھیج دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بنو عبدالمطلب اے بنو فہر! اے بنو عبدمناف! اے بنو (فلاں)! اے بنو (فلاں)! تمہارا کیا خیال ہے اگر میں تمہیں اس بات کی اطلاع دوں کہ اس پہاڑ کے دوسری طرف ایک لشکر ہے جو تم پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو کیا تم میری بات کی تصدیق کرو گے ان لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تو میں شدید عذاب سے پہلے تمہیں ڈرا رہا ہوں۔ اس پر ابولہب نے کہا: تم ہمیشہ کے لئے برباد ہو جاؤ کیا تم نے ہمیں صرف اس کام کے لئے بلایا تھا پھر وہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ (اور چلا گیا) اور اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ”ابولہب کے دونوں ہاتھ برباد ہو جائیں۔“ تو وہ برباد ہو گیا۔ البتہ دوسرے لوگوں نے یہ کہا: تھا ہمیں آپ کی طرف سے کبھی جھوٹ کا تجربہ نہیں ہوا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6550]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6516»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «فقه السيرة» (96)، «الصحيحة» (3177): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
سعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي