🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
402. باب كتب النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر وصف كتب النبي صلى الله عليه وسلم-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر وصف کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط کیسے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6555
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ بِعَسْقَلانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ مِنْ فِيهِ إِِلَى فِي، قَالَ: انْطَلَقْتُ فِي الْمُدَّةِ الَّتِي كَانَتْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَيْنَا أَنَا بِالشَّامِ إِِذْ جِيءَ" بِكِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِلَى هِرَقْلَ، جَاءَ بِهِ دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ، فَدَفَعَهُ إِِلَى عَظِيمِ بُصْرَى، فَدَفَعَهُ عَظِيمُ بُصْرَى إِِلَى هِرَقْلَ، فَقَالَ هِرَقْلُ: هَلْ هَا هُنَا أَحَدٌ مِنْ قَوْمِ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ؟ قَالُوا: نَعَمْ، فَدُعِيتُ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ، فَدَخَلْنَا عَلَى هِرَقْلَ، فَأَجْلَسَنَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: أَيُّكُمْ أَقْرَبُ نَسَبًا مِنْ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ؟ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: فَقُلْتُ: أَنَا، فَأَجْلَسُونِي بَيْنَ يَدَيْهِ، وَأَجْلَسُوا أَصْحَابِي خَلْفِي، ثُمَّ دَعَا تُرْجُمَانَهُ، فَقَالَ: قُلْ لَهُمْ: إِِنِّي سَائِلُ هَذَا الرَّجُلِ عَنْ هَذَا الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ، فَإِِنْ كَذَّبَنِي فَكَذِّبُوهُ، قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: وَاللَّهِ لَوْلا مَخَافَةُ أَنْ يُؤْثَرَ عَنِّي الْكَذِبَ، لَكَذَبْتُهُ، ثُمَّ قَالَ لِتُرْجُمَانِهِ: سَلْهُ كَيْفَ حَسَبُهُ فِيكُمْ؟ قَالَ: قُلْتُ: هُوَ فِينَا ذُو حَسَبٍ، قَالَ: فَهَلْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مَلِكٌ؟ قُلْتُ: لا، قَالَ: فَهَلْ أَنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ؟ قُلْتُ: لا، قَالَ: مَنْ تَبِعَهُ: أَشْرَافُ النَّاسِ أَمْ ضُعَفَائُهُمْ؟ قُلْتُ: بَلْ ضُعَفَائُهُمْ، قَالَ: فَهَلْ يَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلْ يَزِيدُونَ، قَالَ: فَهَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ دِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ سَخْطَةً لَهُ؟ قَالَ: قُلْتُ: لا، قَالَ: فَهَلْ قَاتَلْتُمُوهُ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: كَيْفَ كَانَ قِتَالُكُمْ إِِيَّاهُ؟ قَالَ: قُلْتُ: تَكُونُ الْحَرْبُ سِجَالا بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ، يُصِيبُ مِنَّا، وَنُصِيبُ مِنْهُ، قَالَ: فَهَلْ يَغْدِرُ؟ قَالَ: قُلْتُ: لا، وَنَحْنُ مِنْهُ فِي مُدَّةٍ، أَوْ قَالَ: هُدْنَةٍ، لا نَدْرِي مَا هُوَ صَانِعٌ فِيهَا، مَا أَمْكَنَنِي مِنْ كَلِمَةٍ أُدْخِلُ فِيهَا شَيْئًا غَيْرَ هَذِهِ، قَالَ: فَهَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ؟ قَالَ: قُلْتُ: لا، ثُمَّ قَالَ لِتُرْجُمَانِهِ: قُلْ لَهُ: إِِنِّي سَأَلْتُكَ عَنْ حَسَبِهِ فِيكُمْ، فَزَعَمْتَ أَنَّهُ فِيكُمْ ذُو حَسَبٍ، فَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْعَثُ فِي أَحْسَابِ قَوْمِهَا، وَسَأَلْتُكَ: هَلْ كَانَ فِي آبَائِهِ مَلِكٌ، فَزَعَمْتَ أَنْ لا، فَقُلْتُ: لَوْ كَانَ فِي آبَائِهِ مَلِكٌ، قُلْتُ: رَجُلٌ يَطْلُبُ مُلْكَ آبَائِهِ، وَسَأَلْتُكَ عَنْ أَتْبَاعِهِ: أَضُعَفَاءُ النَّاسِ أَمْ أَشْرَافُهُمْ؟ فَقُلْتَ: بَلْ، ضُعَفَاؤُهُمْ، وَهُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ، وَسَأَلْتُكَ: هَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ؟ فَزَعَمْتَ: أَنْ لا، وَقَدْ عَرَفْتُ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِيَدَعَ الْكَذِبَ عَلَى النَّاسِ، ثُمَّ يَذْهَبَ فَيَكْذِبَ عَلَى اللَّهِ، وَسَأَلْتُكَ: هَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ دِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَهُ سَخْطَةً لَهُ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لا، وَكَذَلِكَ الإِِيمَانُ إِِذَا خَالَطَهُ بَشَاشَةُ الْقُلُوبِ، وَسَأَلْتُكَ: هَلْ يَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ؟ فَزَعَمْتَ أَنَّهُمْ يَزِيدُونَ، وَكَذَلِكَ الإِِيمَانُ حَتَّى يَتِمَّ، وَسَأَلْتُكَ: هَلْ قَاتَلْتُمُوهُ؟ فَزَعَمْتَ أَنَّ الْحَرْبَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ سِجَالٌ، تَنَالُونَ مِنْهُ، وَيَنَالُ مِنكمْ، وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْتَلَى، ثُمَّ تَكُونُ لَهُمُ الْعَاقِبَةُ، وَسَأَلْتُكَ: هَلْ يَغْدِرُ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لا، وَكَذَلِكَ الأَنْبِيَاءُ لا تَغْدِرُ، وَسَأَلْتُكَ: هَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لا، فَقُلْتُ: لَوْ كَانَ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ، قُلْتُ: رَجُلٌ يَأْتَمُّ بِقَوْلٍ قَبْلَ قَوْلِهِ، قَالَ: ثُمَّ مَا يَأْمُرُكُمْ؟، قَالَ: قُلْتُ: يَأْمُرُنَا بِالصَّلاةِ وَالزَّكَاةِ وَالصِّلَةِ وَالْعَفَافِ، قَالَ: إِِنْ يَكُنْ مَا تَقُولُ فِيهِ حَقًَّا، فَإِِنَّهُ نَبِيٌّ، وَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ أَنَّهُ خَارِجٌ، وَلَمْ أَظُنَّ أَنَّهُ مِنْكُمْ، وَلَوْ أَنِّي أَعْلَمُ أَنِّي أَخْلُصُ إِِلَيْهِ، لأَحْبَبْتُ لِقَاءَهُ، وَلَوْ كُنْتُ عِنْدَهُ لَغَسَلْتُ عَنْ قَدَمَيْهِ، وَلَيَبْلُغَنَّ مُلْكُهُ مَا تَحْتَ قَدَمَيَّ، قَالَ: ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَأَ، فَإِِذَا فِيهِ:" بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ، سَلامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى، أَمَّا بَعْدُ، فَإِِنِّي أَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ الإِِسْلامِ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ، وَأَسْلِمْ يُؤْتِكَ اللَّهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ، فَإِِنْ تَوَلَّيْتَ فَإِِنَّ عَلَيْكَ إِِثْمَ الأَرِيسِيِّينَ: يَأَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلا نَعْبُدَ إِلا اللَّهَ سورة آل عمران آية 64، إِِلَى قَوْلِهِ: اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ سورة آل عمران آية 64"، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ الْكِتَابِ، ارْتَفَعَتِ الأَصْوَاتُ عِنْدَهُ، وَكَثُرَ اللَّغَطُ، فَأُمِرَ بِنَا، فَأُخْرِجْنَا، فَقُلْتُ لأَصْحَابِي حِينَ خَرَجْنَا: لَقَدْ جَلَّ أَمْرُ ابْنِ أَبِي كَبْشَةَ، إِِنَّهُ لَيَخَافُهُ مَلِكُ بَنِي الأَصْفَرِ، قَالَ: فَمَا زِلْتُ مُوقِنًا بِأَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سَيَظْهَرُ حَتَّى أَدْخَلَ اللَّهُ عَلَيَّ الإِِسْلامَ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوسفیان بن حرب نے بذات خود مجھے یہ بات بتائی۔ وہ کہتے ہیں، جس عرصے میں ہمارے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان صلح کا معاہدہ چل رہا تھا۔ اس دوران میں شام گیا۔ ابھی میں شام میں موجود تھا کہ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب (وہاں کے حکمران) ہرقل کے نام آیا دحیہ کلبی وہ مکتوب لے کر آئے تھے۔ انہوں نے وہ مکتوب بصریٰ کے گورنر کے سپرد کیا۔ بصریٰ کے گورنر نے وہ خط ہرقل کو بھجوا دیا ہرقل نے دریافت کیا: کیا یہاں ان صاحب کی قوم سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص موجود ہے، جو یہ کہتے ہیں کہ وہ نبی ہیں۔ لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں (ابوسفیان کہتے ہیں:) تو مجھے قریش کے کچھ افراد سمیت بلا لیا گیا جب ہم لوگ ہرقل کے پاس آئے تو اس نے ہمیں اپنے سامنے بٹھایا۔ اس نے دریافت کیا: یہ صاحب جو یہ کہتے ہیں کہ وہ نبی ہیں، تم میں سے نسبی طور پر کون ان کے سب سے زیادہ قریب ہے۔ سیدنا ابوسفیان کہتے ہیں میں نے جواب دیا: میں، تو اس نے مجھے اپنے سامنے بٹھا لیا اور میرے ساتھیوں کو میرے پیچھے بٹھا دیا پھر اس نے اپنے ترجمان کو بلوایا اور کہا: تم ان سے کہہ دو کہ میں اس شخص سے ان صاحب کے بارے میں دریافت کرنے لگا ہوں۔ جو یہ کہتے ہیں کہ وہ نبی ہیں اگر یہ شخص میرے ساتھ غلط بیانی کرے تو تم لوگ اسے جھوٹا قرار دیدینا۔ ابوسفیان کہتے ہیں اللہ کی قسم! اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میری کسی بات کو جھٹلایا جا سکتا ہے تو میں وہاں غلط بیانی کر دیتا پھر قیصر نے اپنے ترجمان سے کہا: تم اس شخص سے دریافت کرو کہ تمہارے درمیان ان صاحب کا حسب کیسا ہے۔ ابوسفیان کہتے ہیں میں نے جواب دیا: وہ ہمارے درمیان صاحب حسب شمار ہوتے ہیں۔ قیصر نے دریافت کیا: کیا ان کے آباؤ اجداد میں سے کوئی بادشاہ گزرا ہے۔ میں نے جواب دیا: جی نہیں، اس نے دریافت کیا: ان صاحب کے یہ دعویٰ کرنے سے پہلے تم نے کبھی ان پر جھوٹا ہونے کا الزام عائد کیا، میں نے جواب دیا: جی نہیں۔ اس نے دریافت کیا: ان کے پیروکار کون لوگ ہیں۔ معزز افراد ہیں یا کمزور لوگ ہیں، میں نے جواب دیا: بلکہ کمزور لوگ ہیں۔ اس نے دریافت کیا: کیا ان میں اضافہ ہو رہا ہے یا کمی ہو رہی ہے؟ میں نے کہا: ان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس نے دریافت کیا: کیا ان لوگوں میں سے کوئی شخص اپنے دین کو چھوڑ کر مرتد بھی ہوا یعنی اس میں داخل ہونے کے بعد اس سے ناراض ہو کر (اس نے اپنے دین کو چھوڑا ہو) ابوسفیان کہتے ہیں میں نے جواب دیا: جی نہیں۔ قیصر نے دریافت کیا: کیا تم نے ان کے ساتھ کوئی جنگ بھی کی ہوئی ہے۔ میں نے جواب دیا: جی ہاں، اس نے دریافت کیا: تمہاری ان کے ساتھ جنگ کا نتیجہ کیا رہا۔ میں نے کہا: جنگ ہمارے اور ان کے درمیان برابر رہی۔ انہیں ہماری طرف سے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ ہمیں ان کی طرف سے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ قیصر نے دریافت کیا: کیا انہوں نے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ میں نے جواب دیا: جی نہیں۔ ہمارا اور ان کا طے شدہ مدت تک معاہدہ ہے ہمیں نہیں معلوم وہ آگے چل کر اس بارے میں کیا کریں گے۔ (سیدنا ابوسفیان کہتے ہیں:) صرف میں یہ کلمہ غلط بیانی کے طور پر شامل کر سکا۔ قیصر نے دریافت کیا: کیا ان سے پہلے کسی اور شخص نے بھی اس بات کا دعویٰ کیا۔ میں نے جواب دیا: جی نہیں۔
پھر قیصر نے اپنے ترجمان سے کہا: تم اس سے کہو کہ میں نے تم سے ان صاحب کے حسب کے بارے میں دریافت کیا: وہ تمہارے درمیان کیسا ہے تو تم نے یہ بیان کیا کہ وہ تمہارے درمیان صاحب حسب شمار ہوتے ہیں۔ رسول اسی طرح ہوتے ہیں۔ انہیں اپنی قوم کے صاحب حسب لوگوں میں مبعوث کیا جاتا ہے۔ میں نے تم سے سوال کیا کہ کیا ان کے آباؤ اجداد میں کوئی بادشاہ گزرا ہے۔ تو تم نے جواب دیا: جی نہیں، تو میں نے اندازہ لگایا کہ اگر ان کے آباؤ اجداد میں اگر کوئی بادشاہ گزرا ہوتا تو پھر میں یہ کہہ سکتا تھا یہ صاحب اپنے آباؤ اجداد کی بادشاہت حاصل کرنا چاہتے ہیں پھر میں نے تم سے ان کے پیروکاروں کے بارے میں دریافت کیا: کیا وہ کمزور لوگ ہیں یا معزز افراد ہیں تو تم نے کہا: وہ کمزور لوگ ہیں۔ رسولوں کے پیروکار ایسے ہی ہوتے ہیں، میں نے تم سے سوال کیا ان کے یہ دعویٰ کرنے سے پہلے کیا تم نے ان پر (جھوٹا ہونے کا) الزام عائد کیا تو تم نے جواب دیا: جی نہیں۔ اس سے مجھے یہ اندازہ ہو گیا کہ جو شخص لوگوں کے ساتھ جھوٹ نہیں بولتا وہ اللہ تعالیٰ کے معاملے میں کیسے غلط بیانی کر سکتا ہے پھر میں نے تم سے سوال کیا، کیا کوئی شخص ان کے دین میں داخل ہونے کے بعد اس سے ناراض ہو کر ان کے دین کو چھوڑ کر مرتد بھی ہوا، تم نے جواب دیا: جی نہیں۔ ایمان ایسا ہی ہوتا ہے جب اس کے اندر دل کی بشاشت مل جائے (یا اس کی بشاشت دل میں گھر کر جائے) میں نے تم سے سوال کیا، کیا ان لوگوں میں اضافہ ہو رہا ہے یا کمی ہو رہی ہے تو تم نے جواب دیا: اضافہ ہو رہا ہے۔ ایمان اسی طرح ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ مکمل ہو جاتا ہے۔ میں نے تم سے سوال کیا، کیا تم لوگوں نے ان کے ساتھ کوئی جنگ بھی کی، تو تم نے جواب دیا: تمہارے اور ان کے درمیان جنگ کا نتیجہ برابر برابر رہا۔ تمہیں ان کی طرف سے نقصان کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں تمہاری طرف سے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ رسولوں کو اسی طرح آزمائش میں مبتلا کیا جاتا ہے لیکن انجام کار انہی کے حق میں (صورت حال ہوتی ہے) میں نے تم سے سوال کیا کہ کیا انہوں نے کبھی معاہدے کی خلاف ورزی کی تو تم نے جواب دیا: جی نہیں۔ انبیاء اسی طرح ہوئے ہیں۔ وہ معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرتے۔ میں نے تم سے سوال کیا، کیا ان سے پہلے بھی کسی شخص نے یہ دعویٰ کیا، تو تم نے جواب دیا: جی نہیں۔ میں نے سوچا اگر ان سے پہلے کسی اور شخص نے یہ دعویٰ کیا ہوتا تو میں یہ کہہ سکتا تھا کہ یہ شخص کسی دوسرے کے قول کی پیروی کر رہا ہے پھر قیصر نے دریافت کیا: وہ تمہیں کیا حکم دیتے ہیں، تو میں نے جواب دیا: وہ ہمیں نماز پڑھنے کا زکوۃ ادا کرنے کا رشتہ داری کے حقوق کا خیال رکھنے کا اور پاک دامنی کا حکم دیتے ہیں۔
قیصر نے کہا: تم نے ان کے بارے میں جو کچھ کہا: ہے اگر تو یہ واقعی سچ ہے تو پھر وہ واقعی نبی ہیں۔ مجھے اس بات کا علم تھا کہ ان کا ظہور ہونے والا ہے لیکن مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ ان کا ظہور تم میں ہو گا، اگر مجھے اس بات کا علم ہوتا کہ میں ان تک پہنچ سکتا ہوں، تو میں ان سے ملاقات کو پسند کرتا اور اگر میں ان کے پاس موجود ہوتا تو میں ان کے پاؤں دھوتا کیونکہ عنقریب ان کی بادشاہی میرے ان پاؤں کے نیچے تک پہنچ جائے گی۔ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پھر اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب منگوایا اور اسے پڑھا تو اس میں یہ تحریر تھا۔
اللہ تعالیٰ کے نام سے آغاز کرتے ہیں جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔ یہ اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے روم کے حکمران ہرقل کے نام ہے۔ وہ شخص سلامت رہے جو ہدایت کی پیروی کر لے۔ امابعد میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں تم اسلام قبول کر لو تم سلامت رہو گے تم اسلام قبول کر لو اللہ تعالیٰ تمہیں دگنا اجر عطا کرے گا اور اگر تم منہ موڑ لیتے ہو تو اریسیوں گناہ بھی تمہارے سر ہو گا۔ (ارشاد باری تعالیٰ ہے) اے اہل کتاب آگے آؤ! اس بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے کہ ہم صرف اللہ کی عبادت کریں گے۔ یہ آیت یہاں تک ہے تم لوگ گواہ ہو جاؤ کہ ہم مسلمان ہیں جب قیصر وہ مکتوب پڑھ کر فارغ ہوا تو اس کے آس پاس آوازیں بلند ہو گئیں اور شور شرابہ ہوا۔ اس کے حکم کے تحت ہمیں وہاں سے نکال دیا گیا جب ہم وہاں سے باہر آئے تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ابن ابوکبشہ (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) کا معاملہ اتنا زبردست ہو گیا ہے کہ بنواصفر کا حکمران بھی ان سے خوف کھاتا ہے۔
سیدنا ابوسفیان بیان کرتے ہیں: اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں مجھے اس بات کا یقین ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ اسے غالب کر دے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام کی دولت سے نوازا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6555]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6521»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «تخريج فقه السيرة» (355)، «الإرواء» (1/ 37)، «صحيح الأدب المفرد» (860): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سفيان بن حرب القرشي، أبو سفيان، أبو حنظلةصحابي
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس
Newعبد الله بن العباس القرشي ← أبو سفيان بن حرب القرشي
صحابي
👤←👥عبيد الله بن عبد الله الهذلي، أبو عبد الله
Newعبيد الله بن عبد الله الهذلي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة فقيه ثبت
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عبيد الله بن عبد الله الهذلي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة
Newمعمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة ثبت فاضل
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← معمر بن أبي عمرو الأزدي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن المتوكل القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن المتوكل القرشي ← عبد الرزاق بن همام الحميري
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن الحسن بن قتيبة اللخمي، أبو العباس
Newمحمد بن الحسن بن قتيبة اللخمي ← محمد بن المتوكل القرشي
ثقة