🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
413. باب كتب النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر السبب الذي من أجله قيل للمصطفى صلى الله عليه وسلم ما وصفناه-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر وجہ کہ جس کی بنا پر مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہمارے بیان کردہ القابات کہے گئے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6566
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جُنْدُبًا ، يَقُولُ: " اشْتَكَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَقُمْ لَيْلَةً أَوْ لَيْلَتَيْنِ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا مُحَمَّدُ، مَا أَرَى شَيْطَانَكَ إِِلا قَدْ تَرَكَكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: وَالضُّحَى وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى سورة الضحى آية 1 - 3" .
یحیی بن عروہ اپنے والد کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے بارے میں نقل کرتے ہیں ان کے والد کہتے ہیں میں نے دریافت کیا: قریش نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی عداوت کے اظہار کے لئے جو کچھ کیا اس میں آپ نے سب سے زیادہ (شدت والی) کیا چیز دیکھی؟ تو سیدنا عبداللہ نے بتایا: ایک مرتبہ میں ان لوگوں کے ساتھ موجود تھا ان کے معززین حطیم میں موجود تھے۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا: ہم نے کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی جس پر ہمیں اتنا صبر سے کام لینا پڑا ہو جتنا انصاف کے حوالے سے لینا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے سمجھ دار لوگوں کو بے وقوف قرار دیا۔ کیا ہمارے آباؤ اجداد کو برا کہا:۔ ہمارے دین کو غلط قرار دیا۔ ہماری اجتماعیت کے ٹکڑے ٹکڑے کئے۔ ہمارے معبودوں کو برا کہا: ہم نے ان کی طرف سے ایک بڑے معاملے پر صبر سے کام لیا ہے یا جیسے بھی انہوں نے کہا: ابھی وہ لوگ وہاں بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے ہوئے تشریف لائے۔ آپ نے حجراسود کا استلام کیا پھر آپ بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے ان کے پاس سے گزرے جب آپ ان کے پاس سے گزرے تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر آوازے کسے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر (ناپسندیدگی) کا اندازہ ہو گیا، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے جب آپ دوسری مرتبہ ان کے پاس سے گزرے تو انہوں نے پھر آپ پر آوازے کسے، جس کے (ملال) کا اندازہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ہو گیا لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے۔ جب آپ تیسری مرتبہ ان کے پاس سے گزرے تو ان لوگوں نے پھر اسی طرح کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے قریش کے گروہ اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے میں تمہارے پاس ذبح کے ہمراہ آیا ہوں۔ (یعنی تم سب لوگ مارے جاؤ گے) یہ سن کر انہیں سانپ سونگھ گیا، یہاں تک کہ ان میں سے ہر ایک شخص کی یہ حالت ہو گئی جیسے اس کے سر پر پرندہ بیٹھا ہوا ہے حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی طرف سے اس سے پہلے بھی شدید صورت حال کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن آپ ہمیشہ نرمی سے جواب دیا کرتے تھے۔ (اتنا سخت جواب سن کر) انہوں نے یہ کہا: اے ابوالقاسم آپ تشریف لے جائیے۔ آپ ایسی حالت میں تشریف لے جائیے کہ آپ رہنمائی کرنے والے ہوں۔ اللہ کی قسم! آپ تو جہالت کا مظاہرہ نہیں کرتے تھے۔ (یعنی کلام میں شدت کا مظاہرہ نہیں کرتے تھے) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے، یہاں تک کہ جب اگلا دن آیا تو وہ لوگ پھر حطیم میں اکٹھے ہوئے۔ میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: تمہیں یاد ہے تم نے انہیں کیا بات کہی تھی اور انہوں نے تمہیں کیا بات کہی تھی، یہاں تک کہ جب انہوں نے تمہارے سامنے اس چیز کو ظاہر کیا جو تمہیں پسند نہیں آئی تو پھر تم نے انہیں چھوڑا ابھی یہ لوگ یہی باتیں کر رہے تھے کہ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے تو وہ سب مل کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھے۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر لیا۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: کیا آپ ہی نے یہ بات کہی تھی اور یہ بات کہی تھی یعنی وہ باتیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے پہنچی تھیں کہ آپ ان کے معبودوں اور ان کے دین کو غلط قرار دیتے ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں میں نے یہ بات کہی تھی سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے ان میں سے ایک شخص کو دیکھا کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر کو پکڑا۔ سیدنا عبدالله رضی اللہ عنہ کہتے ہیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کھڑے ہوئے، وہ رو رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے: کیا تم ایک ایسے شخص کے ساتھ مقابلہ کر رہے ہو؟ جو یہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ ہے پھر وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر چلے گئے۔
(سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:) قریش کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ برے سلوک کی یہ سب سے سخت صورت حال تھی جو میں نے دیکھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6566]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6532»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جندب بن عبد الله البجلي، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥الأسود بن قيس العبدي، أبو قيس
Newالأسود بن قيس العبدي ← جندب بن عبد الله البجلي
ثقة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← الأسود بن قيس العبدي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥الفضل بن دكين الملائي، أبو نعيم
Newالفضل بن دكين الملائي ← سفيان الثوري
ثقة ثبت
👤←👥عبد بن حميد الكشي، أبو محمد
Newعبد بن حميد الكشي ← الفضل بن دكين الملائي
ثقة حافظ
👤←👥عمر بن محمد الهمذاني، أبو حفص
Newعمر بن محمد الهمذاني ← عبد بن حميد الكشي
ثقة