صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
462. باب وفاته صلى الله عليه وسلم - ذكر زجر المصطفى صلى الله عليه وسلم عن اتخاذ قبره مسجدا بعده-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال (وفات) کا بیان - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قبر کو ان کے بعد مسجد بنانے سے منع کیا
حدیث نمبر: 6619
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَصَّارُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، وَعَائِشَةَ أخبراه، أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ، جَعَلَ يُلْقِي عَلَى وَجْهِهِ طَرَفَ خَمِيصَةٍ، فَإِِذَا اغْتَمَّ بِهَا، كَشَفَهَا عَنْ وَجْهِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: " لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ" ، قَالَ: تَقُولُ عَائِشَةُ: يُحَذِّرُهُمْ مِثْلَ الَّذِي صَنَعُوا.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ لوگ پیر کے دن فجر کی نماز ادا کر رہے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ انہیں نماز پڑھا رہے تھے اچانک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے پردے کو ہٹایا۔ آپ نے لوگوں کی طرف دیکھا وہ نماز میں صفیں بنائے ہوئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے پھر آپ ہنس پڑے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ الٹے قدموں پیچھے ہٹ کر صف میں شامل ہونے لگے۔ انہوں نے یہ گمان کیا کہ شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے تشریف لائیں گے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: لوگوں نے ارادہ کیا کہ وہ اپنی نماز کے بارے میں آزمائش کا شکار ہو جائیں۔ یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی خوشی میں (اپنی نماز کو توڑ دیں) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو اشارہ کیا تم لوگ اپنی نماز کو مکمل کر لو پھر آپ حجرے کے اندر تشریف لے گئے۔ آپ نے اپنے اور لوگوں کے درمیان پردے کو گرا دیا۔ اسی دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔
زہری بیان کرتے ہیں: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بتایا: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ لوگوں کے درمیان خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور انہوں نے فرمایا: میں کسی بھی شخص کو یہ کہتے ہوئے ہرگز نہ سنوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا ہے۔ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا بلکہ ان کے پروردگار نے ان کو بلایا ہے جس طرح اس نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو بلایا تھا تو وہ چالیس دن تک اپنی قوم سے دور رہے تھے۔
زہری بیان کرتے سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بتایا: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبے میں یہ بھی کہا: مجھے یہ امید ہے کہ اللہ کے رسول ان لوگوں کے ہاتھ اور پاؤں کٹوا دیں گے جو یہ گمان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ہے۔
زہری بیان کرتے ہیں: ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے مجھے یہ بات بتائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں یہ بتایا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ”سخ“ میں موجود اپنے گھر سے گھوڑے پر سوار ہو کر تشریف لائے وہ اس سے نیچے اترے۔ مسجد میں داخل ہوئے۔ انہوں نے کسی کے ساتھ کوئی بات نہیں کی یہاں تک کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے اندر آئے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت یمنی چادر کے ذریعے ڈھانپ دیا گیا تھا۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے کپڑے کو ہٹایا۔ آپ پر جھکے آپ کا بوسہ لیا اور رونے لگے پھر انہوں نے کہا: میرے والد آپ پر قربان ہوں۔ اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ پر کبھی دو موتیں جمع نہیں کرے گا جہاں تک اس موت کا تعلق تھا جو آپ پر لازم کی گئی تھی وہ موت آپ کو آ گئی ہے۔
زہری بیان کرتے ہیں: ابوسلمہ نے یہ بات بیان کی ہے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے یہ بتایا: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ باہر آئے۔ اس وقت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: بیٹھ جاؤ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بیٹھنے سے انکار کر دیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: بیٹھ جاؤ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بیٹھنے سے انکار کر دیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کلمہ شہادت پڑھا تو لوگ ان کی طرف متوجہ ہو گئے۔ انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔
”اے لوگو! تم میں جو شخص سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا تو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے تو بے شک اللہ تعالیٰ زندہ ہے اسے موت نہیں آئے گی۔“
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ”محمد رسول ہیں ان سے پہلے بھی رسول گزر چکے ہیں تو کیا اگر وہ انتقال کر جائیں یا انہیں شہید کر دیا جائے تو تم اپنی ایڑھیوں کے بل پلٹ جاؤ گے جو شخص اپنی ایڑھیوں کے بل پلٹ جائے گا۔ وہ اللہ تعالیٰ کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچائے گا اور اللہ تعالیٰ شکر کرنے والوں کو عنقریب جزاء عطا کرے گا۔“
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ اللہ کی قسم! یوں لگتا تھا جیسے لوگوں کو اس بات کا علم ہی نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت بھی نازل کی ہے۔ انہیں اس بات کا علم اس وقت ہوا جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے یہ آیت تلاوت کی تو سب لوگوں نے ان سے یہ آیت سیکھ لی اور ہر شخص اس کی تلاوت کر رہا تھا۔
زہری بیان کرتے ہیں: سعید بن مسیب نے مجھے بتایا: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بتایا اللہ کی قسم! جب میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا تو میرے پاؤں کاٹ دیئے گئے یہاں تک کہ میری ٹانگیں میرا وزن برداشت نہیں کر رہی تھیں، یہاں تک کہ میں زمین کی طرف جھک گیا جب میں نے انہیں یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا تو مجھے یقین ہو گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو چکا ہے۔
زہری بیان کرتے ہیں: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا اگلے دن جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی جانے لگی تو انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا۔ اس وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر بیٹھ چکے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے پہلے کلمہ شہادت پڑھا اور پھر یہ کہا: امابعد کل میں نے آپ لوگوں سے جو بات کہی تھی ویسا نہیں تھا جس طرح میں نے کہا: تھا: اللہ کی قسم! میں نے نہ تو یہ بات اللہ کی کتاب میں پائی ہے جسے اللہ نے نازل کیا ہے اور نہ ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں ہمیں کوئی ہدایت کی تھی لیکن مجھے یہ امید تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اتنے عرصے تک زندہ رہیں گے کہ آپ کا وصال ہم سب کے بعد ہو گا (یہاں الفاظ میں راوی کو شک ہے) لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے لئے اپنی بارگاہ کو اختیار کیا۔ اس چیز کے مقابلے میں جو تمہارے پاس ہے تو یہ اللہ کی کتاب ہے۔ اس کے مطابق اللہ نے اپنے رسول کو ہدایت دی تم اسے حاصل کر لو اور تم اس چیز کے ذریعے ہدایت حاصل کر لو جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ہدایت دی تھی۔
[صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6619]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: لوگوں نے ارادہ کیا کہ وہ اپنی نماز کے بارے میں آزمائش کا شکار ہو جائیں۔ یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی خوشی میں (اپنی نماز کو توڑ دیں) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو اشارہ کیا تم لوگ اپنی نماز کو مکمل کر لو پھر آپ حجرے کے اندر تشریف لے گئے۔ آپ نے اپنے اور لوگوں کے درمیان پردے کو گرا دیا۔ اسی دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔
زہری بیان کرتے ہیں: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بتایا: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ لوگوں کے درمیان خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور انہوں نے فرمایا: میں کسی بھی شخص کو یہ کہتے ہوئے ہرگز نہ سنوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا ہے۔ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا بلکہ ان کے پروردگار نے ان کو بلایا ہے جس طرح اس نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو بلایا تھا تو وہ چالیس دن تک اپنی قوم سے دور رہے تھے۔
زہری بیان کرتے سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بتایا: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبے میں یہ بھی کہا: مجھے یہ امید ہے کہ اللہ کے رسول ان لوگوں کے ہاتھ اور پاؤں کٹوا دیں گے جو یہ گمان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ہے۔
زہری بیان کرتے ہیں: ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے مجھے یہ بات بتائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں یہ بتایا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ”سخ“ میں موجود اپنے گھر سے گھوڑے پر سوار ہو کر تشریف لائے وہ اس سے نیچے اترے۔ مسجد میں داخل ہوئے۔ انہوں نے کسی کے ساتھ کوئی بات نہیں کی یہاں تک کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے اندر آئے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت یمنی چادر کے ذریعے ڈھانپ دیا گیا تھا۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے کپڑے کو ہٹایا۔ آپ پر جھکے آپ کا بوسہ لیا اور رونے لگے پھر انہوں نے کہا: میرے والد آپ پر قربان ہوں۔ اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ پر کبھی دو موتیں جمع نہیں کرے گا جہاں تک اس موت کا تعلق تھا جو آپ پر لازم کی گئی تھی وہ موت آپ کو آ گئی ہے۔
زہری بیان کرتے ہیں: ابوسلمہ نے یہ بات بیان کی ہے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے یہ بتایا: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ باہر آئے۔ اس وقت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: بیٹھ جاؤ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بیٹھنے سے انکار کر دیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: بیٹھ جاؤ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بیٹھنے سے انکار کر دیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کلمہ شہادت پڑھا تو لوگ ان کی طرف متوجہ ہو گئے۔ انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔
”اے لوگو! تم میں جو شخص سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا تو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے تو بے شک اللہ تعالیٰ زندہ ہے اسے موت نہیں آئے گی۔“
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ”محمد رسول ہیں ان سے پہلے بھی رسول گزر چکے ہیں تو کیا اگر وہ انتقال کر جائیں یا انہیں شہید کر دیا جائے تو تم اپنی ایڑھیوں کے بل پلٹ جاؤ گے جو شخص اپنی ایڑھیوں کے بل پلٹ جائے گا۔ وہ اللہ تعالیٰ کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچائے گا اور اللہ تعالیٰ شکر کرنے والوں کو عنقریب جزاء عطا کرے گا۔“
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ اللہ کی قسم! یوں لگتا تھا جیسے لوگوں کو اس بات کا علم ہی نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت بھی نازل کی ہے۔ انہیں اس بات کا علم اس وقت ہوا جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے یہ آیت تلاوت کی تو سب لوگوں نے ان سے یہ آیت سیکھ لی اور ہر شخص اس کی تلاوت کر رہا تھا۔
زہری بیان کرتے ہیں: سعید بن مسیب نے مجھے بتایا: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بتایا اللہ کی قسم! جب میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا تو میرے پاؤں کاٹ دیئے گئے یہاں تک کہ میری ٹانگیں میرا وزن برداشت نہیں کر رہی تھیں، یہاں تک کہ میں زمین کی طرف جھک گیا جب میں نے انہیں یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا تو مجھے یقین ہو گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو چکا ہے۔
زہری بیان کرتے ہیں: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا اگلے دن جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی جانے لگی تو انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا۔ اس وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر بیٹھ چکے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے پہلے کلمہ شہادت پڑھا اور پھر یہ کہا: امابعد کل میں نے آپ لوگوں سے جو بات کہی تھی ویسا نہیں تھا جس طرح میں نے کہا: تھا: اللہ کی قسم! میں نے نہ تو یہ بات اللہ کی کتاب میں پائی ہے جسے اللہ نے نازل کیا ہے اور نہ ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں ہمیں کوئی ہدایت کی تھی لیکن مجھے یہ امید تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اتنے عرصے تک زندہ رہیں گے کہ آپ کا وصال ہم سب کے بعد ہو گا (یہاں الفاظ میں راوی کو شک ہے) لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے لئے اپنی بارگاہ کو اختیار کیا۔ اس چیز کے مقابلے میں جو تمہارے پاس ہے تو یہ اللہ کی کتاب ہے۔ اس کے مطابق اللہ نے اپنے رسول کو ہدایت دی تم اسے حاصل کر لو اور تم اس چیز کے ذریعے ہدایت حاصل کر لو جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ہدایت دی تھی۔
[صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6619]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6585»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «تخريج فقه السيرة» (468): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
الرواة الحديث:
عبد الله بن العباس القرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق