صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
507. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن أول نسائه لحوقا به بعده صلى الله عليه وسلم-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ ان کی بیویوں میں سے سب سے پہلے کون ان کے پاس پہنچے گی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد
حدیث نمبر: 6665
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَسْرَعُكُنَّ لَحَاقًا بِي أَطْوَلُكُنَّ يَدًا" ، قَالَتْ: فَكُنَّ يَتَطَاوَلْنَ أَيُّهُنَّ أَطْوَلُ، قَالَتْ: فَكَانَ أَطْوَلَنَا يَدًا زَيْنَبُ، لأَنَّهَا كَانَتْ تَعْمَلُ بِيَدِهَا وَتَتَصَدَّقُ.
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں بہت سے لوگ جنگ میں شریک ہونے کے لئے آئیں گے، تو یہ دریافت کیا جائے گا: کیا تمہارے درمیان کوئی ایسا شخص موجود ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی ہو، تو جواب دیا: جائے گا جی ہاں۔ تو ان لوگوں کو فتح نصیب ہو گی، پھر لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں بہت سے لوگ جنگ کرنے کے لئے جائیں گے، تو دریافت کیا جائے گا: کیا تمہارے درمیان کوئی ایسا شخص ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے ساتھ رہا ہو، تو جواب دیا: جائے گا جی ہاں۔ تو ان لوگوں کو بھی فتح نصیب ہو گی، پھر ان لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا، بہت سے لوگ جنگ میں حصہ لینے کے لئے جائیں گے، تو دریافت کیا جائے گا: کیا تمہارے درمیان کوئی ایسا شخص موجود ہے جو صحابہ کے شاگردوں کے ساتھ رہا ہو۔ تو ان لوگوں کو بھی فتح نصیب ہو گی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6665]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6630»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م، وتقدم (3303). تنبيه!! رقم (3303) = (3314) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
عائشة بنت طلحة القرشية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق