🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
506. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر خبر شنع به بعض المعطلة وأهل البدع على أصحاب الحديث حيث حرموا توفيق الإصابة لمعناه-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر جس پر بعض معطلہ اور اہل بدعت نے اہل حدیث پر طعن کیا کہ وہ اس کے معنی کو صحیح سمجھنے میں توفیق سے محروم ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6664
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تَدُورُ رَحَى الإِِسْلامِ عَلَى خَمْسٍ وَثَلاثِينَ أَوْ سِتٍّ وَثَلاثِينَ، فَإِِنْ هَلَكُوا، فَسَبِيلُ مَنْ هَلَكَ، وَإِِنْ بَقُوا بَقِيَ لَهُمْ دِينُهُمْ سَبْعِينَ سَنَةً" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذَا خَبَرٌ شَنَّعَ بِهِ أَهْلُ الْبِدَعِ عَلَى أَئِمَّتِنَا، وَزَعَمُوا أَنَّ أَصْحَابَ الْحَدِيثِ حَشَوِيَّةٌ، يَرَوْنَ مَا يَدْفَعُهُ الْعِيَانُ وَالْحِسُّ وَيُصَحِّحُونَهُ، فَإِِنْ سُئِلُوا عَنْ وَصْفِ ذَلِكَ، قَالُوا: نُؤْمِنُ بِهِ وَلا نُفَسِّرُهُ، وَلَسْنَا بِحَمْدِ اللَّهِ وَمَنِّهِ مِمَّا رُمِينَا بِهِ فِي شَيْءٍ، بَلْ نَقُولُ: إِِنَّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا خَاطَبَ أُمَّتَهُ قَطُّ بِشَيْءٍ لَمْ يُعْقَلْ عَنْهُ، وَلا فِي سُنَنِهِ شَيْءٌ لا يُعْلَمُ مَعْنَاهُ، وَمَنْ زَعَمَ أَنَّ السُّنَنَ إِِذَا صَحْتَ يَجِبُ أَنْ تُرْوَى وَيُؤْمَنَ بِهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ تُفَسَّرَ وَيُعْقَلَ مَعْنَاهَا، فَقَدْ قَدَحَ فِي الرِّسَالَةِ، اللَّهُمَّ إِِلا أَنْ تَكُونَ السُّنَنُ مِنَ الأَخْبَارِ الَّتِي فِيهَا صِفَاتُ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا الَّتِي لا يَقَعُ فِيهَا التَّكْيِيفُ، بَلْ عَلَى النَّاسِ الإِِيمَانُ بِهَا، وَمَعْنَى هَذَا الْخَبَرِ عِنْدَنَا مِمَّا نَقُولُ فِي كُتُبِنَا: إِِنَّ الْعَرَبَ تُطْلِقُ اسْمَ الشَّيْءِ بِالْكُلِّيَةِ عَلَى بَعْضِ أَجْزَائِهِ وَتُطْلِقُ الْعَرَبُ فِي لُغَتِهَا اسْمَ النِّهَايَةِ عَلَى بِدَايِتِهَا، وَاسْمَ الْبِدَايَةِ عَلَى نِهَايَتِهَا، أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَوْلِهِ:" تَدُورُ رَحَى الإِِسْلامِ عَلَى خَمْسٍ وَثَلاثِينَ أَوْ سِتٍّ وَثَلاثِينَ": زَوَالَ الأَمْرِ عَنْ بَنِي هَاشِمٍ إِِلَى بَنِي أُمَيَّةَ، لأَنَّ الْحُكْمَيْنِ كَانَ فِي آخِرِ سَنَةِ سِتٍّ وَثَلاثِينَ، فَلَمَّا تَلَعْثَمَ الأَمْرُ عَلَى بَنِي هَاشِمٍ وَشَارَكَهُمْ فِيهِ بَنُو أُمَيَّةَ، أَطْلَقَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَ نِهَايَةِ أَمْرِهِمْ عَلَى بِدَايَتِهِ، وَقَدْ ذَكَرْنَا اسْتِخْلافَهُمْ وَاحِدًا وَاحِدًا إِِلَى أَنْ مَاتَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ سَنَةَ إِِحْدَى وَمِائَةٍ، وَبَايَعَ النَّاسُ فِي ذَلِكَ يَزِيدَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ، وَتُوُفِّيَ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بِبَلْقَاءَ مِنْ أَرْضِ الشَّامِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِخَمْسِ لَيَالٍ بَقِينَ مِنْ شَعْبَانَ سَنَةَ خَمْسٍ وَمِائَةٍ، وَبَايَعَ النَّاسُ هِشَامَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ أَخَاهُ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ، فَوَلَّى هِشَامٌ خَالِدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْقَسْرِيَّ الْعِرَاقَ، وَعَزَلَ عُمَرَ بْنَ هُبَيْرَةَ فِي أَوَّلِ سَنَةِ سِتٍّ وَمِائَةٍ، وَظَهَرَتِ الدُّعَاةُ بِخُرَاسَانَ لِبَنِي الْعَبَّاسِ، وَبَايَعُوا سُلَيْمَانَ بْنَ كَثِيرٍ الْخُزَاعِيَّ الدَّاعِيَ إِِلَى بَنِي هَاشِمٍ، فَخَرَجَ فِي سَنَةِ سِتٍّ وَمِائَةٍ إِِلَى مَكَّةَ وَبَايَعَهُ النَّاسُ لِبَنِي هَاشِمٍ، فَكَانَ ذَلِكَ تَلَعْثُمَ أُمُورِ بَنِي أُمَيَّةَ حَيْثُ شَارَكَهُمْ فِيهِ بَنُو هَاشِمٍ، فَأَطْلَقَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَ نِهَايَةِ أَمْرِهِمْ عَلَى بِدَايَتِهِ، وَقَالَ: وَإِِنْ بَقُوا بَقِيَ لَهُمْ دِينُهُمْ سَبْعِينَ سَنَةً، يُرِيدُ عَلَى مَا كَانُوا عَلَيْهِ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: اسلام کی چکی پینتیس سال تک (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) چھتیس سال تک گھومتی رہے گی۔ اگر وہ لوگ ہلاکت کا شکار ہو گئے تو اس طریقے کے مطابق ہوں گے جس طریقے سے ہلاکت کا شکار ہوئے اور اگر وہ باقی رہ گئے تو ان کا دین ستر سال تک ان کے لیے باقی رہے گا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ وہ روایت ہے جس کی وجہ سے اہل بدعت ہمارے ائمہ پر تنقید کرتے ہیں اور وہ یہ کہتے ہیں کہ محدثین حشویہ فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ ایسی چیز کو روایت کرتے ہیں جو غور و فکر اور محسوسات کے حوالے سے غلط ہوتی ہے اور محدثین اسے صحیح بھی قرار دے دیتے ہیں، پھر ان سے اگر اس چیز کی صفت کے بارے میں دریافت کیا جائے تو آگے سے کہہ دیتے ہیں: ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں لیکن ہم اس کی وضاحت نہیں کرتے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ کہتے ہیں:) اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم ایسے نہیں ہیں اور نہ ہی ویسے ہیں، جس طرح کا ہم پر الزام عائد کیا گیا ہے بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو جن بھی امور کے بارے میں مخاطب کیا ہے ان میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کی سمجھ نہ آ سکے اور آپ کی سنتوں میں کوئی ایسی سنت نہیں ہے جس کے مفہوم کا علم نہ ہو سکے؛ جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ جب سنت مستند طور پر منقول ہو تو یہ بات لازم ہے کہ اسے روایت کر دیا جائے اور اس پر ایمان رکھا جائے، باوجودیکہ اس کی وضاحت نہ کی جائے یا اس کے مفہوم کی سمجھ نہ آئے تو ایسا شخص رسالت پر نکتہ چینی کرتا ہے۔ اے اللہ! (تجھ ہی سے مدد حاصل کی جا سکتی ہے) ویسے احادیث میں کچھ روایات وہ ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کی صفات کا ذکر ہے جن کی کیفیت کو بیان نہیں کیا جا سکتا لیکن لوگوں پر ان صفات پر ایمان رکھنا لازم ہے۔ ہمارے نزدیک اس روایت کا مفہوم یہ ہے، جیسا کہ ہم اپنی کتابوں میں یہ بات بیان کر چکے ہیں کہ بعض اوقات عرب کسی چیز کے کسی ایک جزء کے لیے اس مکمل چیز کا نام استعمال کر لیتے ہیں۔ اسی طرح عرب اپنے محاورے میں اختتام کا لفظ آغاز کے لیے استعمال کر لیتے ہیں اور آغاز کا لفظ اختتام کے لیے استعمال کر لیتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: اسلام کی چکی پینتیس برس تک (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) چھتیس برس تک گھومتی رہے گی، اس کے ذریعے آپ کی مراد یہ ہے کہ حکومت بنو ہاشم سے بنو امیہ کی طرف منتقل ہو جائے گی کیونکہ چھتیس ہجری کے آخر میں حکومت ان دونوں کی طرف چلی گئی تھی، تو جب بنو ہاشم کے لیے یہ معاملہ خراب ہوا اور حکومت کے بارے میں بنو امیہ ان کے حصہ دار بن گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکومت کے اختتام کے لیے آغاز کا لفظ استعمال کیا۔ اسی طرح ہم اس سے پہلے یہ بات ذکر کر چکے ہیں کہ اس طرح ان میں سے ہر ایک خلیفہ بنا، یہاں تک کہ ایک سو ایک ہجری میں سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کا انتقال ہو گیا تو لوگوں نے یزید بن عبدالملک کی بیعت کر لی۔ یزید بن عبدالملک کا انتقال شام کی سرزمین بلقاء کے مقام پر جمعہ کے دن ہوا جو پچیس شعبان ایک سو پانچ ہجری کی بات ہے، تو لوگوں نے ہشام بن عبدالملک کے ہاتھ پر بیعت کر لی جو اس کا بھائی تھا، یہ اسی دن ہوا، پھر ہشام نے خالد بن عبداللہ قسری کو عراق کا امیر مقرر کیا۔ اس نے عمر بن ہبیرہ کو ایک سو چھ ہجری کے آغاز میں معزول کر دیا تو خراسان میں بنو عباس کے داعی نمودار ہوئے۔ انہوں نے سلیمان بن کثیر خزاعی کے ہاتھ پر بیعت کر لی جو بنو ہاشم کی طرف دعوت دینے والا تھا۔ اس نے ایک سو چھ ہجری میں مکہ کی طرف خروج کیا تو لوگوں نے بنو ہاشم کے لیے ان کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ اس طرح بنو امیہ کی حکومت خرابی کا شکار ہو گئی اور بنو ہاشم پھر اس میں ان کے حصے دار بن گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی حکومت کے اختتام کے لیے لفظ آغاز استعمال کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: اگر وہ باقی رہے تو ان کا دین ستر سال تک ان کے لیے باقی رہے گا۔ اس کے ذریعے آپ کی مراد یہ تھی کہ جس صورت حال پر وہ اس سے پہلے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6664]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6664، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4575، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4254، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3783، وأخرجه الطبراني فى(الكبير) برقم: 8858» «رقم طبعة با وزير 6629»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (976).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن عبد الله الهذلي
Newعبد الرحمن بن عبد الله الهذلي ← عبد الله بن مسعود
ثقة
👤←👥القاسم بن عبد الرحمن الهذلي، أبو عبد الرحمن
Newالقاسم بن عبد الرحمن الهذلي ← عبد الرحمن بن عبد الله الهذلي
ثقة
👤←👥سليمان بن فيروز الشيباني، أبو إسحاق
Newسليمان بن فيروز الشيباني ← القاسم بن عبد الرحمن الهذلي
ثقة
👤←👥العوام بن حوشب الشيباني، أبو عيسى
Newالعوام بن حوشب الشيباني ← سليمان بن فيروز الشيباني
ثقة ثبت
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد
Newيزيد بن هارون الواسطي ← العوام بن حوشب الشيباني
ثقة متقن
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن
Newمسدد بن مسرهد الأسدي ← يزيد بن هارون الواسطي
ثقة حافظ
👤←👥الفضل بن الحباب الجمحي، أبو خليفة
Newالفضل بن الحباب الجمحي ← مسدد بن مسرهد الأسدي
ثقة ثبت
Sahih Ibn Hibban Hadith 6664 in Urdu