صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
511. ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه
ایک دوسری روایت کا ذکر جو اس بات کی صحت کو واضح طور پر بیان کرتی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے
حدیث نمبر: 6669
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَيْسِيُّ ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ ضُرَيْبِ بْنِ نُقَيْرٍ الْقَيْسِيِّ ، قَالَ: قَالَ أَبُو ذَرٍّ : جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَتْلُو هَذِهِ الآيَةَ: وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لا يَحْتَسِبُ سورة الطلاق آية 3 - 3، قَالَ: فَجَعَلَ يُرَدِّدُهَا عَلَيَّ حَتَّى نَعَسْتُ، فَقَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ، لَوْ أَنَّ النَّاسَ كُلَّهُمْ أَخَذُوا بِهَا لَكَفَتْهُمْ"، ثُمَّ قَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ،" كَيْفَ تَصْنَعُ إِِذَا أُخْرِجْتَ مِنَ الْمَدِينَةِ؟ قُلْتُ: إِِلَى السَّعَةِ وَالدَّعَةِ أَكُونُ حَمَامًا مِنْ حَمَامِ مَكَّةَ، قَالَ: كَيْفَ تَصْنَعُ إِِذَا أُخْرِجْتَ مِنْ مَكَّةَ؟ قُلْتُ: إِِلَى السَّعَةِ وَالدَّعَةِ، إِِلَى أَرْضِ الشَّامِ وَالأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ، قَالَ: فَكَيْفَ تَصْنَعُ إِِذَا أُخْرِجْتَ مِنْهَا؟ قُلْتُ: إِِذًا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، آخُذُ سَيْفِي فَأَضَعُهُ عَلَى عَاتِقِي، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ، تَسْمَعُ وَتُطِيعُ، لِعَبْدٍ حَبَشِيٍّ مُجَدَّعٍ" .
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت ﴿وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا * وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ﴾ [سورة الطلاق: 2-3] تلاوت کرنا شروع کی: ”جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے راستہ بنا دیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق عطا کرتا ہے جہاں اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کو دہراتے رہے یہاں تک کہ مجھے اونگھ آگئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر! اگر تمام لوگ اسی کو اختیار کر لیں تو یہی ان کے لیے کافی ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر! تم اس وقت کیا کرو گے جب تمہیں مدینہ منورہ سے نکال دیا جائے گا؟“ میں نے عرض کی: میں اپنی گنجائش کے مطابق یہ کوشش کروں گا کہ میں مکہ کا کبوتر بن جاؤں (یعنی مکہ منتقل ہو جاؤں)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم اس وقت کیا کرو گے جب تمہیں مکہ سے بھی نکال دیا جائے گا؟“ میں نے عرض کی: میں اپنی گنجائش اور حیثیت کے مطابق کوشش کروں گا کہ میں شام کی سرزمین کی طرف چلا جاؤں اور ارض مقدس کی طرف چلا جاؤں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم اس وقت کیا کرو گے جب تمہیں وہاں سے بھی نکال دیا جائے گا؟“ میں نے عرض کی: اس صورت میں اس ذات کی قسم! جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے، میں اپنی تلوار پکڑوں گا اور اسے اپنی گردن میں لٹکا لوں گا (اور ان لوگوں سے لڑنا شروع کر دوں گا)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اس سے زیادہ صحیح یہ نہیں ہے کہ تم ناک کان کٹے ہوئے اس حبشی غلام کی اطاعت و فرمانبرداری کرو (جو حاکم وقت ہوگا)؟“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6669]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6669، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3840، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11539، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2767، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4220، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21952، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 2474» «رقم طبعة با وزير 6634»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف لانقطاعه - «المشكاة» (5306).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف لانقطاعه
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 6669 in Urdu
ضريب بن نقير الجريري ← أبو ذر الغفاري