صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
512. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن وصف موت أبي ذر الغفاري رحمة الله عليه-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ ابو ذر غفاری رحمة اللہ علیہ کی موت کی وصف
حدیث نمبر: 6670
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ بْنِ الأَشْتَرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ ذَرٍّ ، قَالَتْ: لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا ذَرٍّ الْوَفَاةُ بَكَيْتُ، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكِ؟ فَقُلْتُ: مَالِي لا أَبْكِي وَأَنْتَ تَمُوتُ بِفَلاةٍ مِنَ الأَرْضِ، وَلَيْسَ عِنْدِي ثَوْبٌ يَسَعُكَ كَفَنًا، قَالَ: فَلا تَبْكِي وَأَبْشِرِي، فإني سمعت رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ لِنَفَرٍ أَنَا فِيهِمْ: " لَيَمُوتَنَّ رَجُلٌ مِنْكُمْ بِفَلاةٍ مِنَ الأَرْضِ، يَشْهَدُهُ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ" ، وَلَيْسَ مِنْ أُولَئِكَ النَّفْرِ أَحَدٌ إِِلا وَقَدْ هَلَكَ فِي قَرْيَةِ جَمَاعَةٍ، وَأَنَا الَّذِي أَمُوتُ بِفَلاةٍ، وَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلا كُذِبْتُ، فَأَبْصِرِي الطَّرِيقَ، قَالَتْ: وَأَنَّى وَقَدْ ذَهَبَ الْحَاجُّ وَانْقَطَعَتِ الطُّرُقُ، قَالَ: اذْهَبِي فَتَبَصَّرِي، قَالَتْ: فَكُنْتُ أَجِيءُ إِِلَى كَثِيبٍ فَأَتَبَصَّرُ، ثُمَّ أَرْجِعُ إِِلَيْهِ فَأُمَرِّضُهُ، فَبَيْنَمَا أَنَا كَذَلِكَ، إِِذَا أَنَا بِرِجَالٍ عَلَى رِحَالِهِمْ كَأَنَّهُمُ الرَّخَمُ، فَأَقْبَلُوا حَتَّى وَقَفُوا عَلَيَّ، وَقَالُوا: مَا لَكِ أَمَةَ اللَّهِ؟ قُلْتُ لَهُمُ: امْرُؤٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَمُوتُ، تُكَفِّنُونَهُ؟ قَالُوا: مَنْ هُوَ؟ فَقُلْتُ: أَبُو ذَرٍّ، قَالُوا: صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَتْ: فَفَدَّوْهُ بِآبَائِهِمْ وَأُمَّهَاتِهِمْ، وَأَسْرَعُوا إِِلَيْهِ فَدَخَلُوا عَلَيْهِ، فَرَحَّبَ بِهِمْ، وَقَالَ: إِِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ لِنَفَرٍ أَنَا فِيهِمْ:" لَيَمُوتَنَّ مِنْكُمْ رَجُلٌ بِفَلاةٍ مِنَ الأَرْضِ، يَشْهَدُهُ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ"، وَلَيْسَ مِنْ أُولَئِكَ النَّفْرِ أَحَدٌ إِِلا هَلَكَ فِي قَرْيَةٍ وَجَمَاعَةٍ، وَأَنَا الَّذِي أَمُوتُ بِفَلاةٍ، أَنْتُمْ تَسْمَعُونَ إِِنَّهُ لَوْ كَانَ عِنْدِي ثَوْبٌ يَسَعُنِي كَفَنًَا لِي أَوْ لامْرَأَتِي، لَمْ أُكَفَّنْ إِِلا فِي ثَوْبٍ لِي أَوْ لَهَا، أَنْتُمْ تَسْمَعُونَ إِِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنْ يُكَفِّنَنِي رَجُلٌ مِنْكُمْ كَانَ أَمِيرًا أَوْ عَرِيفًا أَوْ بَرِيدًا أَوْ نَقِيبًا، فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ إِِلا قَارَفَ بَعْضَ ذَلِكَ إِِلا فَتًى مِنَ الأَنْصَارِ، فَقَالَ: يَا عَمِّ، أَنَا أُكَفِّنُكَ، لَمْ أُصِبْ مِمَّا ذَكَرْتَ شَيْئًا، أُكَفِّنُكَ فِي رِدَائِي هَذَا، وَفِي ثَوْبَيْنِ فِي عَيْبَتِي مِنْ غَزْلِ أُمِّي حَاكَتْهُمَا لِي، فَكَفَّنَهُ الأَنْصَارِيُّ فِي النَّفَرِ الَّذِينَ شَهِدُوهُ مِنْهُمْ حُجْرُ بْنُ الأَدْبَرِ، وَمَالِكُ بْنُ الأَشْتَرِ فِي نَفَرٍ كُلُّهُمْ يَمَانٍ.
سیدہ ام ذر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں جب سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو میں رونے لگی انہوں نے دریافت کیا: تم کیوں رو رہی ہو۔ میں نے کہا: میں کیوں نہ روؤں جبکہ آپ ایک ویرانے میں مرنے لگے ہیں۔ میرے پاس اتنا کپڑا بھی نہیں ہے جو آپ کے کفن کے لئے کافی ہو اور آپ کی عدم موجودگی میں میرے لئے رہنا ممکن نہیں ہے تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہارے لئے خوشخبری ہے تم نہ روؤ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جن بھی دو مسلمان (میاں بیوی) کے دو یا تین بچے فوت ہو جائیں اور وہ دونوں صبر سے کام لیں اور ثواب کی امید رکھیں تو وہ کبھی بھی آگ کو نہیں دیکھیں گے (یعنی جہنم میں نہیں جائیں گے)، (سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے یہ بھی بتایا) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تین آدمیوں سے یہ فرماتے ہوئے سنا: جن میں، میں بھی موجود تھا۔، ”تم میں سے کسی ایک شخص کا انتقال ضرور ویرانے میں ہو گا لیکن اس کی نماز جنازہ میں اہل ایمان کا ایک گروہ شریک ہو گا۔“
(سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) ان لوگوں میں سے ہر شخص کا انتقال کسی بستی یا لوگوں کے درمیان ہوا، میں ان میں سے ایک شخص باقی رہ گیا ہوں۔ اللہ کی قسم! نہ تو میں نے غلط بیانی کی ہے اور نہ ہی میرے ساتھ غلط بیانی کی گئی ہے تم اسے کا جائزہ لیتی رہو (سیدہ ام ذر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں) میں نے کہا: اب تو حاجی رخصت ہو چکے ہیں۔ راستے منقطع ہو چکے ہیں تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم جاؤ اور جا کے جائزہ لو سیده ام ذر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں تیزی سے چلتی ہوئی ٹیلے کی طرف گئی اور اس بات کا جائزہ لیا اور واپس آ کر ان کی تیمارداری کرنے لگی۔ ابھی میں اور وہ اسی حالت میں تھے اسی دوران کچھ لوگ اپنی سواریوں پر سوار ہو کر آئے۔ یوں جیسے وہ پرندے ہوں۔ ان کی سواریاں انہیں لے کر آئی تھیں۔ سیدہ ام ذر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں جب وہ لوگ میرے پاس ٹھہرے تو تیزی سے میری طرف آئے انہوں نے کہا: اے اللہ کی کنیز تمہارا کیا معاملہ ہے۔ میں نے کہا: ایک مسلمان شخص کا انتقال ہونے لگا ہے۔ کیا آپ لوگ اسے کفن دیں گے۔ انہوں نے جواب دیا: وہ کون شخص ہے اس خاتون نے جواب دیا: سیدنا ابوذر۔ ان لوگوں نے کہا: وہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں۔ میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ تو انہوں نے کہا: میرے ماں باپ ان پر قربان ہوں۔ پھر وہ تیزی سے چلتے ہوئے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے پاس آ گئے اور ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا تم لوگوں کے لئے خوشخبری ہے۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ لوگوں سے یہ فرماتے ہوئے سنا: جن میں، میں بھی موجود تھا ”تم میں سے ایک شخص ویرانے میں انتقال کرے گا اور اس کے جنازے میں اہل ایمان کا ایک گروہ شریک ہو گا۔“
پھر سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: (میرے علاوہ) ان میں سے ہر ایک شخص کا انتقال لوگوں کے درمیان ہوا (اب صرف میں باقی رہ گیا ہوں) اللہ کی قسم! میں نے نہ تو غلط بیانی کی ہے اور نہ ہی میرے ساتھ غلط بیانی کی گئی۔ اگر میرے پاس اتنا کپڑا ہوا جو میرے کفن کے لئے کافی ہو یا میری بیوی کے پاس اتنا کپڑا ہوا تو صرف میرے یا میری بیوی کے کپڑے میں مجھے کفن دیا جائے میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر یہ کہتا ہوں تم میں سے وہ شخص مجھے کفن نہ دے جو امیر ہو یا عریف ہو یا برید ہو یا نقیب ہو (یعنی سرکاری اہل کار ہو) تو وہاں موجود لوگوں میں سے کوئی شخص ایسا نہیں تھا جو ان میں سے کسی عہدے پر فائز نہ ہو، البتہ ایک انصاری نوجوان تھا۔ اس نے کہا: اے چچا جان! میں آپ کو کفن دوں گا۔ میں آپ کو اپنی اس چادر میں کفن دوں گا اور اپنے ان دو کپڑوں میں دوں گا جو میری والدہ نے میرے لئے تیار کئے تھے، تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم مجھے کفن دینا۔ تو اس انصاری نے وہاں موجود حاضرین کی موجودگی میں سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو کفن دیا اور ان کے (غسل وغیرہ) کے معاملات کی دیکھ بھال کی اور انہی لوگوں نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو دفن کیا۔ ان سب کا تعلق یمن سے تھا۔
[صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6670]
(سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) ان لوگوں میں سے ہر شخص کا انتقال کسی بستی یا لوگوں کے درمیان ہوا، میں ان میں سے ایک شخص باقی رہ گیا ہوں۔ اللہ کی قسم! نہ تو میں نے غلط بیانی کی ہے اور نہ ہی میرے ساتھ غلط بیانی کی گئی ہے تم اسے کا جائزہ لیتی رہو (سیدہ ام ذر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں) میں نے کہا: اب تو حاجی رخصت ہو چکے ہیں۔ راستے منقطع ہو چکے ہیں تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم جاؤ اور جا کے جائزہ لو سیده ام ذر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں تیزی سے چلتی ہوئی ٹیلے کی طرف گئی اور اس بات کا جائزہ لیا اور واپس آ کر ان کی تیمارداری کرنے لگی۔ ابھی میں اور وہ اسی حالت میں تھے اسی دوران کچھ لوگ اپنی سواریوں پر سوار ہو کر آئے۔ یوں جیسے وہ پرندے ہوں۔ ان کی سواریاں انہیں لے کر آئی تھیں۔ سیدہ ام ذر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں جب وہ لوگ میرے پاس ٹھہرے تو تیزی سے میری طرف آئے انہوں نے کہا: اے اللہ کی کنیز تمہارا کیا معاملہ ہے۔ میں نے کہا: ایک مسلمان شخص کا انتقال ہونے لگا ہے۔ کیا آپ لوگ اسے کفن دیں گے۔ انہوں نے جواب دیا: وہ کون شخص ہے اس خاتون نے جواب دیا: سیدنا ابوذر۔ ان لوگوں نے کہا: وہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں۔ میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ تو انہوں نے کہا: میرے ماں باپ ان پر قربان ہوں۔ پھر وہ تیزی سے چلتے ہوئے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے پاس آ گئے اور ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا تم لوگوں کے لئے خوشخبری ہے۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ لوگوں سے یہ فرماتے ہوئے سنا: جن میں، میں بھی موجود تھا ”تم میں سے ایک شخص ویرانے میں انتقال کرے گا اور اس کے جنازے میں اہل ایمان کا ایک گروہ شریک ہو گا۔“
پھر سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: (میرے علاوہ) ان میں سے ہر ایک شخص کا انتقال لوگوں کے درمیان ہوا (اب صرف میں باقی رہ گیا ہوں) اللہ کی قسم! میں نے نہ تو غلط بیانی کی ہے اور نہ ہی میرے ساتھ غلط بیانی کی گئی۔ اگر میرے پاس اتنا کپڑا ہوا جو میرے کفن کے لئے کافی ہو یا میری بیوی کے پاس اتنا کپڑا ہوا تو صرف میرے یا میری بیوی کے کپڑے میں مجھے کفن دیا جائے میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر یہ کہتا ہوں تم میں سے وہ شخص مجھے کفن نہ دے جو امیر ہو یا عریف ہو یا برید ہو یا نقیب ہو (یعنی سرکاری اہل کار ہو) تو وہاں موجود لوگوں میں سے کوئی شخص ایسا نہیں تھا جو ان میں سے کسی عہدے پر فائز نہ ہو، البتہ ایک انصاری نوجوان تھا۔ اس نے کہا: اے چچا جان! میں آپ کو کفن دوں گا۔ میں آپ کو اپنی اس چادر میں کفن دوں گا اور اپنے ان دو کپڑوں میں دوں گا جو میری والدہ نے میرے لئے تیار کئے تھے، تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم مجھے کفن دینا۔ تو اس انصاری نے وہاں موجود حاضرین کی موجودگی میں سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو کفن دیا اور ان کے (غسل وغیرہ) کے معاملات کی دیکھ بھال کی اور انہی لوگوں نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو دفن کیا۔ ان سب کا تعلق یمن سے تھا۔
[صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6670]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6635»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «تيسير الانتفاع» / ترجمة أم ذر.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث قوي
الرواة الحديث:
أم ذر ← أبو ذر الغفاري