صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
516. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن فتح المسلمين الحيرة بعده-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ ان کے بعد مسلمانوں کی حیرہ کی فتح ہوگی
حدیث نمبر: 6674
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مُثِّلَتْ لِيَ الْحِيرَةُ كَأَنْيَابِ الْكِلابِ، وَإِِنَّكُمْ سَتَفْتَحُونَهَا"، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: هَبْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنَةَ بُقَيْلَةَ، فَقَالَ: هِيَ لَكَ، فَأَعْطُوهُ إِِيَّاهَا ، فَجَاءَ أَبُوهَا، فَقَالَ: أَتَبِيعُهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: بِكُمْ؟ احْتَكِمْ مَا شِئْتَ، قَالَ: بِأَلْفِ دِرْهَمٍ، قَالَ: قَدْ أَخَذْتَهَا، فَقِيلَ لَهُ: لَوْ قُلْتَ: ثَلاثِينَ أَلْفًا؟ قَالَ: وَهَلْ عَدَدٌ أَكْثَرُ مِنْ أَلْفٍ.
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں غزوہ تبوک کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ چمڑے کے بنے ہوئے خیمے میں موجود تھے۔ میں اس کے کنارے پر بیٹھ گیا۔ میں نے سلام کیا تو آپ نے سلام کا جواب دیا۔ آپ نے فرمایا: اے عوف اندر آ جاؤ۔ میں نے عرض کی: سارے کا سارا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سارے کا سارا۔ میں اندر داخل ہوا تو میں نے آپ کو ٹھہر ٹھہر کر وضو کرتے ہوئے پایا پھر آپ نے فرمایا: اے عوف چھ چیزوں کے بارے میں یاد رکھنا کہ جو قیامت سے پہلے ہوں گی۔ ان میں سے ایک میری موت ہے۔ سیدنا عوف بیان کرتے ہیں: یہ سن کر مجھے جھٹکا سا لگا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کہو: ایک۔ میں نے کہا: ایک۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیت المقدس فتح ہو گا پھر تمہارے درمیان ایک بیماری پھوٹ پڑے گی پھر تمہارے درمیان مال زیادہ ہو جائے گا، یہاں تک کہ تم میں سے کسی ایک شخص کو ایک سو درہم دیئے جائیں گے تو وہ پھر بھی ناراض رہے گا، پھر تمہارے درمیان ایسا فتنہ نمودار ہو گا کہ کسی بھی مومن کا گھر باقی نہیں رہے گا مگر یہ کہ وہ فتنہ اس میں داخل ہو جائے گا پھر تمہارے اور بنو اصفر (یعنی اہل روم) کے درمیان صلح ہو گی تو وہ تمہارے ساتھ معاہدے کی خلاف ورزی کریں گے پھر وہ 80 جھنڈوں کے نیچے اکٹھے ہو کر تمہاری طرف (جنگ کرنے کے لئے) چل پڑیں گے، جن کے ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار لوگ ہوں گے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6674]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6639»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (2825).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
قيس بن أبي حازم البجلي ← عدي بن حاتم الطائي