صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
525. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن وصف بعض سعة الدنيا على المسلمين-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ دنیا کی بعض وسعت کی وصف جو مسلمانوں پر ہوگی
حدیث نمبر: 6683
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ عَمْرٍو الْقَيْسَرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا جَابِرُ، " أَنَكَحْتَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: أَتَّخَذْتُمْ أَنْمَاطًا؟ قُلْتُ: أَنَّى لَنَا أَنْمَاطٌ؟ قَالَ: أَمَا إِِنَّهَا سَتَكُونُ" .
سیدنا طلحہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پہلے جب کوئی شخص مدینہ منورہ آتا۔ اس کا وہاں کوئی دوست ہوتا تو وہ اپنے دوست کے ہاں پڑاؤ کرتا تھا اور اگر اس کا کوئی دوست نہ ہوتا تو وہ صفا کے چبوترے پر پڑاؤ کرتا۔ راوی کہتے ہیں: میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے صفاء کے چبوترے پر پڑاؤ کیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے روزانہ کھجوروں کا ایک مد ہماری طرف آیا کرتا تھا۔ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھنے کے بعد سلام پھیرا تو ہم میں سے ایک شخص نے بلند آواز میں آپ کو مخاطب کیا اور اس نے عرض کی: یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ! کھجوروں نے ہمارے پیٹوں کو جلا دیا۔ راوی کہتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر کی طرف تشریف لے گئے۔ آپ اس پر چڑھے آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی۔ پھر آپ نے اپنی قوم کی طرف سے پیش آنے والی (مشکلات) کا ذکر کیا، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے اور میرے ساتھی پر دس سے زیادہ دن ایسے بھی گزرے کہ ہمارے پاس کھانے کے لئے صرف بریر ہوتا تھا (راوی کہتے ہیں:) بریر سے مراد پیلو کا پھل ہے۔
(نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) پھر ہم اپنے انصاری بھائیوں کے پاس آئے تو ان کی زیادہ تر خوراک کھجور ہوتی تھی۔ انہوں نے اس بارے میں ہمارا ساتھ دیا۔ اللہ کی قسم! اگر مجھے تمہارے لئے روٹی اور گوشت ملے تو میں وہ بھی کھلاؤں گا اور عنقریب تمہیں ایک ایسا زمانہ ملے گا۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) تم میں سے جو شخص اس زمانے تک پہنچے گا تو لوگ اس میں کعبہ کے پردوں جیسا (عمدہ لباس) پہنیں گے اور صبح شام ان کے پاس پیالوں میں (مختلف قسم کی کھانے کی چیزیں) آئیں گی۔
[صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6683]
(نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) پھر ہم اپنے انصاری بھائیوں کے پاس آئے تو ان کی زیادہ تر خوراک کھجور ہوتی تھی۔ انہوں نے اس بارے میں ہمارا ساتھ دیا۔ اللہ کی قسم! اگر مجھے تمہارے لئے روٹی اور گوشت ملے تو میں وہ بھی کھلاؤں گا اور عنقریب تمہیں ایک ایسا زمانہ ملے گا۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) تم میں سے جو شخص اس زمانے تک پہنچے گا تو لوگ اس میں کعبہ کے پردوں جیسا (عمدہ لباس) پہنیں گے اور صبح شام ان کے پاس پیالوں میں (مختلف قسم کی کھانے کی چیزیں) آئیں گی۔
[صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6683]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6648»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
الرواة الحديث:
محمد بن المنكدر القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري