صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
526. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن وصف البعض الآخر من سعة الدنيا على المسلمين-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ دنیا کی دوسری بعض وسعت کی وصف جو مسلمانوں پر ہوگی
حدیث نمبر: 6684
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الأَسْوَدِ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ إِِذَا قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَكَانَ لَهُ بِهَا يَعْنِي عَرِيفٌ، نَزَلَ عَلَى عَرِيفِهِ، فَإِِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ بِهَا عَرِيفٌ نَزَلَ الصُّفَّةَ، قَالَ: فَكُنْتُ فِيمَنْ نَزَلَ الصُّفَّةَ، قَالَ: فَرَافَقْتُ رَجُلا، فَكَانَ يُجْرَى عَلَيْنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّ يَوْمٍ مُدٌّ مِنْ تَمْرٍ بَيْنَ رَجُلَيْنِ، فَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مِنَ الصَّلاةِ، فَنَادَاهُ رَجُلٌ مِنَّا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ أَحْرَقَ التَّمْرُ بُطُونَنَا، قَالَ: فَمَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِلَى مِنْبَرِهِ، فَصَعِدَ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ ذَكَرَ مَا لَقِيَ مِنْ قَوْمِهِ، قَالَ: " حَتَّى مَكَثْتُ أَنَا وَصَاحِبِي بِضْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا مَا لَنَا طَعَامٌ إِِلا الْبَرِيرُ وَالْبَرِيرُ ثَمَرُ الأَرَاكِ، فَقَدِمْنَا عَلَى إِِخْوَانِنَا مِنَ الأَنْصَارِ وَعُظْمُ طَعَامِهِمُ التَّمْرُ، فَوَاسَوْنَا فِيهِ، وَاللَّهِ لَوْ أَجِدُ لَكُمُ الْخُبْزَ وَاللَّحْمَ لأَطْعَمْتُكُمُوهُ، وَلَكِنْ لَعَلَّكُمْ تُدْرِكُونَ زَمَانًا أَوْ مَنْ أَدْرَكَهُ مِنْكُمْ يَلْبَسُونَ فِيهِ مِثْلَ أَسْتَارِ الْكَعْبَةِ، وَيُغْدَى عَلَيْهِمْ، وَيُرَاحُ بِالْجِفَانِ" .
سیدنا طلحہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پہلے جب کوئی شخص مدینہ منورہ آتا، اگر اس کا وہاں کوئی دوست ہوتا تو وہ اپنے دوست کے ہاں پڑاؤ کرتا تھا اور اگر اس کا کوئی دوست نہ ہوتا تو وہ صفہ کے چبوترے پر پڑاؤ کرتا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے صفہ کے چبوترے پر پڑاؤ کیا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے روزانہ کھجوروں کا ایک مد ہماری طرف آیا کرتا تھا۔ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھنے کے بعد سلام پھیرا تو ہم میں سے ایک شخص نے بلند آواز میں آپ کو مخاطب کیا اور اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کھجوروں نے ہمارے پیٹوں کو جلا دیا۔ راوی کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر کی طرف تشریف لے گئے، آپ اس پر چڑھے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی، پھر آپ نے اپنی قوم کی طرف سے پیش آنے والی (مشکلات) کا ذکر کیا، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے اور میرے ساتھی پر دس سے زیادہ دن ایسے بھی گزرے کہ ہمارے پاس کھانے کے لیے صرف «البَرِيرُ» ہوتا تھا“ (راوی کہتے ہیں کہ «البَرِيرُ» سے مراد پیلو کا پھل ہے)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر ہم اپنے انصاری بھائیوں کے پاس آئے تو ان کی زیادہ تر خوراک کھجور ہوتی تھی، انہوں نے اس بارے میں ہمارا ساتھ دیا۔ اللہ کی قسم! اگر مجھے تمہارے لیے روٹی اور گوشت ملے تو میں وہ بھی کھلاؤں گا اور عنقریب تمہیں ایک ایسا زمانہ ملے گا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) تم میں سے جو شخص اس زمانے تک پہنچے گا تو لوگ اس میں کعبہ کے پردوں جیسا (عمدہ لباس) پہنیں گے اور صبح شام ان کے پاس پیالوں میں (مختلف قسم کی کھانے کی چیزیں) آئیں گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6684]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6684،، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4313، 8744، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4406، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16235» «رقم طبعة با وزير 6649»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (2486).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 6684 in Urdu
عطاء بن أبي الأسود الديلي ← طلحة بن عمرو النصرى