صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
527. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر البيان بأن فتح الله جل وعلا الدنيا على المسلمين إنما يكون ذلك بعقب جدب يلحقهم-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر بیان کہ اللہ جل وعلا کی دنیا کی فتح مسلمانوں پر قحط کے بعد ہوگی جو انہیں پہنچے گی
حدیث نمبر: 6685
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا وَأَرْدَفَنِي خَلْفَهُ، ثُمَّ قَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ، " أَرَأَيْتَ إِِنْ أَصَابَ النَّاسَ جُوعٌ شَدِيدٌ حَتَّى لا تَسْتَطِيعَ أَنْ تَقُومَ مِنْ فِرَاشِكَ إِِلَى مَسْجِدِكَ، كَيْفَ تَصْنَعُ؟ قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: تَعَفَّفْ"، قَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ،" أَرَأَيْتَ إِِنْ أَصَابَ النَّاسَ مَوْتٌ شَدِيدٌ حَتَّى يَكُونَ الْبَيْتُ بِالْعَبْدِ، كَيْفَ تَصْنَعُ؟ قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: اصْبِرْ"، يَا أَبَا ذَرٍّ،" أَرَأَيْتَ إِِنْ قَتَلَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا حَتَّى تَغْرَقَ حِجَارَةُ الزَّيْتِ مَوْضِعٌ بِالْمَدِينَةِ مِنَ الدِّمَاءِ، كَيْفَ تَصْنَعُ؟ قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: اقْعُدْ فِي بَيْتِكَ، وَأَغْلِقْ عَلَيْكَ بَابَكَ، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِِنْ لَمْ أُتْرَكْ؟ قَالَ: فَائْتِ مَنْ أَنْتَ مِنْهُ، فَكُنْ فِيهِمْ، قَالَ: فَآخُذُ سِلاحِي؟ قَالَ: إِِذًا تُشَارِكُهُمْ فِيهِ، وَلَكِنْ إِِنْ خَشِيتَ أَنْ يَرُوعَكَ شُعَاعُ السَّيْفِ، فَأَلْقِ طَرَفَ رِدَائِكَ عَلَى وَجْهِكَ يَبُوءُ بِإِِثْمِكَ وَإِِثْمِهِ" .
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گدھے پر سوار آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے مجھے بٹھا لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر! تمہارا کیا خیال ہے؟ اگر لوگوں کو اتنی شدید بھوک لاحق ہو جائے کہ تم اس بات کی بھی استطاعت نہ رکھو کہ اپنے بستر سے اٹھ کر مسجد تک جا سکو، تو پھر تم کیا کرو گے؟“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بچ کے رہنا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر! تمہارا کیا خیال ہے؟ اگر لوگوں کو ایسی زبردست موت لاحق ہو، یہاں تک کہ گھر بندے کے ساتھ ہو، تو پھر تم کیا کرو گے؟“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم صبر سے کام لینا۔“ (پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”اے ابوذر! تمہارا کیا خیال ہے؟ اگر لوگ ایک دوسرے کو قتل کرنا شروع کر دیں، یہاں تک کہ احجارِ زیت کی جگہ (خون سے) بھر جائے؟“ (راوی کہتے ہیں: یہ مدینہ منورہ میں ایک جگہ ہے)، ”تو پھر تم کیا کرو گے؟“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے گھر میں بیٹھے رہنا اور اپنا دروازہ بند کر لینا۔“ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے عرض کی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا رائے ہے، اگر مجھے پھر بھی نہ چھوڑا جائے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان کے پاس چلے جانا جن کے ساتھ تمہارا تعلق ہے (یعنی اپنے قبیلے چلے جانا) اور ان کے درمیان رہنا۔“ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے عرض کی: کیا میں اپنا ہتھیار سنبھال لوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس صورت میں تم اس بارے میں ان لوگوں کے حصے دار بن جاؤ گے، اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ تلوار کی چمک تمہیں خوف زدہ کر دے گی تو تم اپنی چادر کا کنارہ اپنے چہرے پر رکھ لینا، تو وہ شخص تمہارے اور اپنے گناہ کا وبال اٹھائے گا (جو تمہیں قتل کرے گا)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6685]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5960، 6685، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2681، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4261، 4409، 5226، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3958، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16899، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21720» «رقم طبعة با وزير 6650»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (8/ 100 / 2451)، مضى (5929). تنبيه!! رقم (5929) = (5960) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 6685 in Urdu
عبد الله بن الصامت الغفاري ← أبو ذر الغفاري