صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
528. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن أداء العجم الجزية إلى العرب-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ عجم عربوں کو جزيہ دیں گے
حدیث نمبر: 6686
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الأَعْمَشُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: مَرِضَ أَبُو طَالِبٍ، فَأَتَتْهُ قُرَيْشٌ وَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ وَعِنْدَ رَأْسِهِ مَقْعَدُ رَجُلٍ، فَقَامَ أَبُو جَهْلٍ فَقَعَدَ فِيهِ، فَشَكَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِلَى أَبِي طَالِبٍ، فَقَالُوا: إِِنَّ ابْنَ أَخِيكَ يَقَعُ فِي آلِهَتِنَا، قَالَ: مَا شَأْنُ قَوْمِكَ يَشْكُونَكَ يَا ابْنَ أَخِي؟ قَالَ: يَا عَمِّ،" إِِنَّمَا أَرَدْتُهُمْ عَلَى كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ، وَتُؤَدِّي إِِلَيْهِمْ بِهَا الْعَجَمُ الْجِزْيَةَ، فَقَالَ: وَمَا هِيَ؟ قَالَ: لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ"، فَقَامُوا، فَقَالُوا: أَجْعَلَ الآلِهَةَ إِِلَهًا وَاحِدًا؟ قَالَ: وَنَزَلَتْ: ص وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ سورة ص آية 1، إِِلَى قَوْلِهِ إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ سورة ص آية 5 .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جناب ابوطالب بیمار ہو گئے تو قریش ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کی عیادت کرنے کے لیے ان کے پاس تشریف لائے۔ ان کے سرہانے کے قریب ایک آدمی کے بیٹھنے کی جگہ تھی، ابوجہل اٹھا اور وہاں بیٹھ گیا۔ ان لوگوں نے جناب ابوطالب سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شکایت کی اور بولے کہ آپ کے بھتیجے ہمارے معبودوں پر تنقید کرتے ہیں۔ جناب ابوطالب نے کہا: اے میرے بھتیجے! کیا وجہ ہے کہ آپ کی قوم کے افراد آپ کی شکایتیں کر رہے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے چچا جان! میں انہیں ایک کلمے پر اکٹھا کرنا چاہتا ہوں جس کی وجہ سے عرب ان کے ماتحت ہوں گے اور عجمی انہیں جزیہ ادا کریں گے۔“ انہوں نے دریافت کیا کہ وہ کون سا کلمہ ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“۔ تو وہ لوگ کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ کیا تم مختلف معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنانا چاہتے ہو؟ راوی کہتے ہیں: تو اس بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں: ﴿ص وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ﴾ [سورة ص: 1] ”ص، قرآن کی قسم ہے، جو نصیحت کرنے والا ہے“، یہ آیت یہاں تک ہے ﴿إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ﴾ [سورة ص: 5] ”بے شک یہ بہت حیران کن چیز ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6686]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6686، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3638، 3639، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8716، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3232، 3232 م، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18720، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2035» «رقم طبعة با وزير 6651»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «الضعيفة» تحت الحديث (6042)، وهو في «مسلم» عن أبي هريرة مختصراً.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 6686 in Urdu
سعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي