صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
598. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الخبر المصرح بأن القوم الذين يخسف بهم إنما هم القاصدون إلى المهدي في زوال الأمر عنه-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر جو واضح کرتی ہے کہ جن لوگوں کے ساتھ خسف ہوگا وہ مہدی کے خلاف امر کے زوال کے ارادہ رکھنے والے ہیں
حدیث نمبر: 6757
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ رِفَاعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَكُونُ اخْتِلافٌ عِنْدَ مَوْتِ خَلِيفَةٍ، فَيَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ إِِلَى مَكَّةَ، فَيَأْتِيهِ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ، فَيُخْرِجُونَهُ وَهُوَ كَارِهٌ، فَيُبَايعُونَهُ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ، فَيَبْعَثُونَ إِِلَيْهِ جَيْشًا مِنْ أَهْلِ الشَّامِ، فَإِِذَا كَانُوا بِالْبَيْدَاءِ خُسِفَ بِهِمْ، فَإِِذَا بَلَغَ النَّاسَ ذَلِكَ أَتَاهُ أَبْدَالُ أَهْلِ الشَّامِ وَعِصَابَةُ أَهْلِ الْعِرَاقِ فَيُبَايعُونَهُ، وَيَنْشَأُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ أَخْوَالُهُ مِنْ كَلْبٍ، فَيَبْعَثُ إِِلَيْهِمْ جَيْشًا، فَيَهْزِمُونَهُمْ وَيَظْهَرُونَ عَلَيْهِمْ، فَيَقْسِمُ بَيْنَ النَّاسِ فَيْئَهُمْ، وَيَعْمَلُ فِيهِمْ بِسُنَّةِ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيُلْقِي الإِِسْلامُ بِجِرَانِهِ إِِلَى الأَرْضِ، يَمْكُثُ سَبْعَ سِنِينَ" .
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”خلیفہ کے انتقال کے وقت اختلاف رونما ہوگا، تو اہل مدینہ میں سے قریش سے تعلق رکھنے والا ایک شخص مکہ کی طرف جائے گا، اہل مکہ سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ ان کے پاس آئیں گے اور وہ اسے نکلنے پر مجبور کریں گے، حالانکہ اسے یہ بات پسند نہیں ہوگی، پھر وہ رکن اور مقام کے درمیان اس سے بیعت لیں گے، پھر اہل شام سے ایک لشکر اس کی طرف بھیجا جائے گا، وہ لوگ بیداء کے مقام پر پہنچیں گے تو انہیں زمین میں دھنسا دیا جائے گا، جب لوگوں تک اس بات کی اطلاع پہنچے گی، تو اہل شام کے ابدال اور اہل عراق کا ایک گروہ ان کے پاس آئیں گے اور اس کی بیعت کریں گے، پھر قریش سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نکلے گا، جس کا ننھیال بنو کلب سے ہوگا، وہ ان کی طرف ایک لشکر بھیجے گا، وہ لوگ اسے پسپا کر دیں گے اور اس پر غالب آ جائیں گے، وہ ان کا مال لوگوں کے درمیان تقسیم کرے گا اور ان کے بارے میں اپنے نبی کی سنت کے مطابق عمل کرے گا۔ وہ شخص سات سال تک زمین میں رہے گا۔ وہ دنیا میں اسلام کو مستحکم کر دے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6757]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6757، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8422، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4286، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27331، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 6940، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 38378» «رقم طبعة با وزير 6721/م1»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «الضعيفة» (1965) و (6484). * قال الناشر: هذا الحديث - بتبويبه - ساقطٌ من «الأصل»، واستدركناه من «طبعة المؤسسة».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 6757 in Urdu
مجاهد بن جبر القرشي ← أم سلمة زوج النبي